اسلام آباد(پاکستان نیوز) پاکستان کے بیرونی شعبے کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک رخ اختیارکرگئی ہے، جہاں مالی سال 2026 کے پہلے 10 ماہ میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 31.988 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،جبکہ صرف اپریل 2026 میں خسارہ 4.074 ارب ڈالر ریکارڈکیاگیا۔ یہ خسارہ ماہانہ بنیاد پر 43.5 فیصد اورسالانہ بنیاد پر 20.28 فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق اپریل 2026 میں ملکی درآمدات بڑھ کر 6.553 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں،جو جون 2022 کے بعدگزشتہ 46 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ دوسری جانب برآمدات صرف 2.479 ارب ڈالر رہیں،جس سے درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق مزید وسیع ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی درآمدات میں سب سے بڑاحصہ توانائی کے شعبے کاہے۔ اپریل میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی لاگت 2.144 ارب ڈالر رہی، جس میں خام تیل،موٹرگیسولین،ہائی اسپیڈڈیزل، ایل این جی اور ایل پی جی شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی توانائی خریداری حکمتِ عملی میں مسلسل کمزوریاں موجودہیں۔ دسمبر 2025 میں اضافی ایل این جی سے نمٹنے کی کوششوں کے بعد مارچ اور اپریل میں ملک کو فوری ضرورت کے تحت اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنا پڑی، جہاں قیمت 18.88 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک جاپہنچی۔تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ پاکستان تیل وگیس کی عالمی قیمتوں میں کمی کے دوران ذخائر بنانے میں ناکام رہا،محدودذخیرہ گاہوں کے باعث ملک کو بار بارکم مقدار میں مہنگی درآمدات کرناپڑتی ہیں، ناقص منصوبہ بندی کابوجھ بالآخر عوام اور صنعتوں پر منتقل ہوتاہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں سے دیگر ممالک نے فائدہ اٹھایا، تاہم پاکستان اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرسکا۔ پاکستانی برآمدات بدستور ٹیکسٹائل اور چند روایتی شعبوں تک محدودرہیں، جبکہ توانائی کی بلند قیمتیں، پالیسی عدم استحکام اور کمزور تجارتی سفارت کاری نے ملکی صنعت کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنادیا۔ماہرین نے صورتحال سے نکلنے کیلیے اسٹریٹجک آئل ریزرو قائم کرنے،توانائی خریداری نظام میں اصلاحات، برآمدی شعبوں کو سستی توانائی فراہم کرنے، آئی ٹی، انجینئرنگ اور فارماسیوٹیکل شعبوں میں برآمدات بڑھانے اور حقیقت پسندانہ ایکسچینج ریٹ اپنانے کی سفارش کی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کابڑھتا تجارتی خسارہ محض معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ پالیسی ترجیحات اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامی کی عکاسی بھی کرتاہے۔











