کیلیفورنیا کو میڈیکیڈ کی ادائیگی میں ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی تاخیر

0
11

واشنگٹن(پاکستان نیوز)وفاقی طبی پروگراموں میں ہونیوالی دھوکہ دہی کیخلاف کریک ڈاؤن کے تازہ ترین اقدام کے طور پر ٹرمپ انتظامیہ نے کیلیفورنیا کو میڈیکیڈ کی مد میں دی جانے والی 1.3 ارب ڈالر کی ادائیگیوں کو مؤخر کر دیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کے روز اس اہم فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام وفاقی وسائل کے ضیاع کو روکنے کی ایک وسیع مہم کا حصہ ہے۔ اس سال کے شروع میں منیسوٹا کے لیے 350 ملین ڈالر سے زائد کی رقم روکے جانے کے بعد یہ دوسرا بڑا قدم ہے۔ انتظامیہ نے اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں ہاسپیس اور ہوم ہیلتھ کیئر کے نئے اداروں کے اندراج پر 6 ماہ کی پابندی بھی عائد کر دی ہے۔

اگرچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ صرف ڈیموکریٹک ریاستوں کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن جے ڈی وینس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف عوامی پیسے کا تحفظ ہے۔ وفاقی طبی حکام بشمول ڈاکٹر محمد اوز نے کیلیفورنیا، نیویارک اور ہوائی جیسی ریاستوں پر کڑی تنقید کی ہے کہ وہ دھوکہ دہی کے خلاف خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے۔ محکمہ صحت کے انسپکٹر جنرل نے کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل راب بونٹا کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ اگر ریاستی یونٹس اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے تو پوری ریاست کے میڈیکیڈ فنڈز خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اوز نے تخمینہ لگایا ہے کہ وفاقی طبی پروگراموں میں ہر سال 100 ارب ڈالر کی خرد برد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں بلنگ یا فراہم کنندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے وہاں کڑی نگرانی کی جائے گی۔ میئن کی گورنر جینٹ ملز نے ان تحقیقات کو سیاسی حملہ قرار دیا ہے جبکہ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ قانونی تقاضوں کی تکمیل ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here