نیویارک (پاکستان نیوز)صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر عالمی سیاسی مبصرین اس وقت حیرت کا شکار ہو گئے جب امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایشیا کے لیے طے شدہ پالیسیوں میں اچانک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ ماضی کے تمام اندازوں اور توقعات کے برعکس صدر ٹرمپ نے اپنی توجہ اور قومی وسائل کو ایشیائی خطے سے ہٹا کر ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں جاری نئی جنگ کی جانب موڑنا شروع کر دیا ہے۔ یہ صورتحال ان تمام تجزیہ کاروں کے لیے غیر متوقع ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ واشنگٹن اب اپنی تمام تر توانائی بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے پر صرف کرے گا۔ حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی کے ترجیحی اہداف کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے جس کے نتیجے میں ایشیا میں اس کی موجودگی اور اثر پذیری کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے اہم دورے کے دوران اس طرح کا پالیسی بدلاؤ بیجنگ کے لیے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کا ایک سنہرا موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں نئی جنگی محاذ آرائی نے عالمی امن کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ امریکی وسائل کی اس نئی تقسیم سے پرانے تنازعات کو ہوا ملنے کا امکان ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وہ تمام وسائل جو اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے ایشیا میں استعمال ہونے تھے اب مشرق وسطیٰ کے صحراؤں میں صرف ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف امریکی خارجہ امور میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ اس سے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن بھی متاثر ہونے کا قوی امکان ہے کیونکہ چین اس خلا کو پر کرنے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دیتا ہے۔










