نیویارک (پاکستان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دو روزہ انتہائی اہم دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا استقبال روایتی شاہانہ انداز اور پْرتپاک تقاریب کے ساتھ کیا گیا۔ بیجنگ کے ہوائی اڈے پر ایئر فورس ون سے اترتے ہی چینی نائب صدر ہان ڑینگ نے ان کا استقبال کیا جو کہ سفارتی پروٹوکول میں ایک بڑی تبدیلی اور بیجنگ کی جانب سے واشنگٹن کو دی جانے والی اہمیت کی علامت ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان ٹیرف، ٹیکنالوجی کی دوڑ، ایران میں جاری جنگ اور تائیوان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات جیسے حساس موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ صدر ٹرمپ ایک ایسے وقت میں چین گئے ہیں جب بیجنگ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پراعتماد ہو چکا ہے۔ اس دورے کی اصل اہمیت ان پس پردہ عوامل میں چھپی ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے عالمی سیاست کا رخ متعین کر رہے ہیں۔ امریکہ طویل عرصے سے چین کی توانائی کی ترسیل کو روکنے کی تگ و دو میں مصروف رہا ہے تاکہ اس کی معاشی ترقی کی رفتار کو لگام دی جا سکے۔ اس حکمت عملی کے تحت پہلے وینزویلا سے چین کو ہونے والی تیل کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اب ایران کے خلاف فوجی مہم جوئی کے ذریعے چین کی تیل کی درآمدات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے چین کو تیل کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے کیونکہ بیجنگ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے تہران پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود چین نے انتہائی صبر اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ کبھی بھی امریکہ کے خلاف کسی کھلی جنگ یا براہ راست عسکری تصادم کا حصہ نہیں بنا۔ چین کی یہ خاموش حکمت عملی اب اسے ایک برتر پوزیشن پر لے آئی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ایران امریکہ کے خلاف جس استقامت سے کھڑا ہے اس کے پیچھے چین اور روس کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور سٹریٹجک حمایت کا بڑا ہاتھ ہے۔ ایران کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ دراصل بیجنگ کے تعاون کا مرہون منت ہے جس نے واشنگٹن کو ایک مشکل دفاعی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ اس دورے میں ایلون مسک اور اینویڈیا کے جینسن ہوانگ جیسے ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی شامل ہیں جو چین سے اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے رعایتوں کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ وہ صدر شی جن پنگ سے چین کی منڈیوں کو امریکی کمپنیوں کے لیے مزید کھولنے کی درخواست کریں گے تاکہ تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے جو گزشتہ سال 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔ دوسری جانب بیجنگ کے پاس نایاب دھاتوں کا وہ ہتھیار موجود ہے جو امریکی ہائی ٹیک صنعت کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تائیوان کا مسئلہ بھی میز پر موجود ہے جہاں امریکی کانگریس کی جانب سے بھاری اسلحے کی فروخت نے بیجنگ کو ناراض کر رکھا ہے۔ جمعرات کے روز دونوں رہنماؤں کے درمیان عظیم عوامی ہال میں باقاعدہ مذاکرات ہوں گے جن کے نتائج نہ صرف ان دو ممالک بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ چینی قیادت اس بار برابری کی سطح پر بات چیت کر رہی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ امریکی پابندیوں اور گھیراؤ کی پالیسی کے باوجود چین نے خود کو ایک ناقابل تسخیر معاشی اور دفاعی قوت کے طور پر منوا لیا ہے۔ یہ سربراہی ملاقات اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا دونوں ممالک تصادم کی راہ اختیار کریں گے یا کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالیں گے جو بدلتی ہوئی عالمی ترتیب میں دونوں کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔











