نیویارک (پاکستان نیوز)پاکستان کے امریکہ میں مقیم پی ایچ ڈی طالب علم جو کرمنل جسٹس میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، اس کا آرٹیکل ایکسپریس ٹریبیون میں چھپا،آرٹیکل جس کا ٹائٹل ” سب کچھ ختم ہوچکا ھے” کو زبردستی ڈیلیٹ کروایا گیا ،اس آرٹیکل جس کا آغاز اس طرح ہوا کہ “پاکستان میں جنریشن زیڈ، زبردستی تھوپے جانے والے وطن پرستی کو مسترد کر رہی ہے کیونکہ کرپٹ “بومر” لیڈرز کی وجہ سے معاشی تباہی، سنسرشپ اور جبر عام ہے۔ نوجوان پروپیگنڈا کو دیکھ کر گزر جاتے ہیں، میمز اور سوشل میڈیا سے کام چلاتے ہیں، اور خوف کی وجہ سے خاموشی سے ملک چھوڑ کر ہجرت کر رہے ہیں۔ نسلی تقسیم ناقابلِ مفاہمت ہے، حکمرانوں کی قانونی حیثیت اور اہمیت ختم ہو چکی ہے۔سب سے حیرت کی بات، آرٹیکل چھپتے ہی، اس کو آن لائن سے ہٹا دیا گیا، مگر پھر کیا تھا، پورے سوشل میڈیا پر یہ آرٹیکل وائرل ہوگیا۔آرٹیکل کا مصنف زورین نظامانی پاکستان کی مشہور ٹی وی اداکارہ فضیلہ قاضی کا بیٹا ھے جن کا خود تعلق طاقتور حلقوں میں سے ہے،کل تک کو اس نام کو جانتا تک نہیں تھا، آج یہ سب کے دلوں کی آواز بن چکا ھے۔ھمارے حکمرانوں کو یہ سمجھنا ھوگا کہ نوجوان قیادت کی آواز دبانے سے ملک ترقی نہیں کرتے،نوجوانوں کی آواز ھی ملک کو ترقی کی طرف گامزن کرتی ھے، یہ آواز ملک کے دفاع کو مضبوط بناتی ھے، کمزور نہیں، یہ نوجوانوں کی آواز ھی حکمرانوں کے ایوانوں کو مضبوط بناتی ہی کمزور نہیں۔یہ سنسرشپ کا دور نہیں، یہ آزاد میڈیا کا دور ھے، یہ الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا کا دور نہیں، یہ سوشل میڈیا کا دور ھے، جس میں جس کا پاس بھی ایک موبائل فون ھے، وہ ایک صحافی ھے، وہ ایک ایکٹوسٹ ھے، وہ انقلابی ھے، وہ منڈیلا ھے۔حکمرانوں کو اپنے خوف کی دیواروں کو توڑنا ھوگا اور ان نوجوانوں کو کھلی فضا مہیا کرنا ھوگا، جس سے ملک بھی آگے جائے گا، اور حکمرانوں کے ایوانوں میں بھی آزادی کی باد صبا مہکے گی۔














