اسلام آباد (پاکستان نیوز)گزشتہ چند روز سے جاری پاک افغان کشیدگی اب ایک باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے باضابطہ طور پر افغانستان کے خلاف “اوپن وار” (کھلی جنگ) کا اعلان کر دیا ہے، جس کا آغاز افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال حملوں کے بعد ہوا۔ جواب میں پاکستان ایئر فورس نے ‘آپریشن غضب الحق’ کے تحت کابل، قندھار، پکتیکا اور ننگرہار جیسے اہم شہروں میں افغان طالبان کے فوجی مراکز اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق ان فضائی حملوں میں طالبان کے کئی اہم بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز اور تربیتی مراکز تباہ ہوئے ہیں۔ زمینی محاذ پر وزیرستان، چمن، کرم اور مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقوں میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کے اندر کئی کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے اور ڑوب سیکٹر میں گودوانہ انکلیو سمیت کئی اہم تزویراتی مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سینکڑوں افغان جنگجو ہلاک اور درجنوں سرحدی پوسٹیں تباہ کی جا چکی ہیں، جبکہ متعدد ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں ہیں۔ دوسری جانب افغان حکام نے بھی پاکستانی سرحد کے قریب جوابی کارروائیوں اور پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ جنگ کے باعث طورخم، چمن اور دیگر تمام اہم تجارتی راستے اور ‘فرینڈ شپ گیٹس’ مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ سرحد کے دونوں اطراف مال بردار ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور تجارت مکمل طور پر معطل ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ باجوڑ اور دیگر قریبی اضلاع کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔ عالمی برادری، بشمول چین، سعودی عرب اور اقوامِ متحدہ نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کریں تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے انسانی المیے اور عدم استحکام کو روکا جا سکے۔ پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی اور عسکری ٹکراؤ نے خطے کی معیشت اور پاک بھارت تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرنا شروع کر دئیے ہیں، جس کے باعث جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے افغان فورسز کی مسلسل اشتعال انگیزی کے جواب میں شروع کیا گیا ‘آپریشن غضب الحق’ اب محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں رہا بلکہ اس نے ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل جنگ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ معاشی محاذ پر اس جنگ کے اثرات انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ طورخم، چمن اور غلام خان سمیت تمام اہم تجارتی گزرگاہوں کی بندش سے روزانہ کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔ وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا پاکستانی خواب اور افغانستان کی پاکستان پر تجارتی انحصار کی پالیسی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان کے سرحدی اضلاع میں تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے مقامی کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بندش طویل ہوئی تو دونوں ممالک کی پہلے سے کمزور معیشتیں مزید گہرے بحران کا شکار ہو جائیں گی۔ اس تنازع نے پاک بھارت تعلقات کو بھی ایک نئی اور پیچیدہ نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت، افغان طالبان اور ٹی ٹی پی (TTP) کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کر کے پاکستان کے خلاف ‘پروکسی وار’ لڑ رہا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق، کابل میں بھارتی سفارتی مشن محض سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ وہاں سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، بھارت نے اس صورتحال کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے کشمیر اور دیگر تزویراتی مسائل پر دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں مزید شدت آگئی ہے۔ افغان طالبان کے رویے اور بھارت کی پشت پناہی نے پاکستان کو اپنی مغربی سرحد پر مستقل دفاعی حصار قائم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ خطے میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبے بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر بھارت نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا بند نہ کیا اور طالبان نے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینا جاری رکھی، تو یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔












