واشنگٹن (پاکستان نیوز)عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو شدید بحران کا شکار کر دیا ہے، جس کے باعث آج ایشیائی اور امریکی بازاروں میں حصص کی قیمتیں تیزی سے گر گئیں۔ جنوبی کوریا میں صورتحال اس قدر سنگین ہوئی کہ مارکیٹ میں 8 فیصد سے زائد کی گراوٹ کے باعث ٹریڈنگ کو عارضی طور پر روکنا پڑا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس (Nikkei) بھی 3.5 فیصد تک گر گیا۔ عالمی منڈیوں میں مندی کا یہ رجحان امریکہ سے شروع ہوا جہاں ڈاؤ جونز اور نیسڈیک میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کا بنیادی سبب ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پیدا ہونے والا توانائی کا بحران ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں 83 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے اور سپلائی لائنز متاثر ہونے سے عالمی افراطِ زر میں اضافے کا خدشہ ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو شدید غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ اب پر خطر اثاثوں سے نکل کر محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں ہیں۔











