ملک کو درپیش سلامتی ، معاشی اور غیر یقینی عالمی صورتحال سے پھوٹتے چیلنجز کو مد نظر رکھا جائے تو ملک کے اندر سیاسی انتشار پر قابو پانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ اس کے برعکس اگرکوئی سمجھتا ہے کہ طاقت کے بل بوتے پربس ایک دفعہ عمران خان کا قلع قمع ہوجائے تو پھر آئین بھی بحال کر لیا جائے گا، شفاف انتخابات کے انعقاد میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہوگا، اوریہ کہ تما م ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں ہنسی خوشی کام کرنا شروع کر دیں گے ، تو اس تصوراتی دنیا سے جس قدر جلد ممکن ہو نکل آنا ہی بہتر ہے۔ با مقصد اور نتیجہ خیزمذاکرات جب بھی ہوئے کمرے میں ہاتھی کی موجودگی کو تسلیم کئے جانے کے بعد ہی ہوں گے۔ جب تک اس حقیقت سے انکار کیا جاتا رہے گا، کوئی حل ایک سراب کے سوا کچھ نہیںہو گا۔دوسری طرف موجودہ صورتحال کے بینیفشری جناب نواز شریف کو عمر کے اس حصے میںیاد رکھنا چاہیئے کہ سال 1988 میںجمہوریت کی بحالی کے بعد منتخب ہونے والی پہلی وزیر اعظم کو کمزور اور اس کے نتیجے میںجمہوریت کو کئی عشروں کے لئے ڈی ریل کئے جانے میں اپنے کردار کا مداوا کرنے کا ان کے پاس یہ آخری موقع ہے۔وفاقی وزیرِ دفاع اگرچہ ملک میں کارفرما ہائبرڈ سسٹم کا اعتراف سرِعام کر چکے ہیں ، نظام کے بڑے فریق کی جانب سے مگرہاتھی کی کمرے میں موجودگی سے مسلسل انکار کیا جا رہاہے۔۔ ہائبرڈ سسٹم کے سینئرپارٹنر اور شریف خاندان کے قریب سمجھے جانے وا لے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو بھی حقیقت سے انکار نہیں۔ تاہم ان سب کا خیال ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا چنانچہ بہتر یہی ہے کہ اِسی بندوبست کو چلنے دیا جائے۔ سال 2006 کے بعد ہمارے ہاں جمہوریت کے فروغ اور سویلین بالا دستی کے قیام کے لئے بہائی جانے والی امریکی امدادکی گنگا میں ہاتھ دھونے والے انصاف کے سیکٹر، میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت زندگی کے ہر شعبے میں موجود جانے پہچانے چہروں کو بھی اب زمینی حقائق کی بنا پر موجودہ بندوبست پرکوئی اعتراض نہیں رہا۔تاہم دوسری جانب زیرِعتاب عمران خان جب کہتے ہیں کہ وہ بات چیت توکریں گے، مگرسسٹم کے بے اختیار فریق کے ساتھ نہیں، تو ان کی اِس بات کویہی تمام حلقیغیر جمہوری رویہ قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں تاریخی طور پر سیاست دان خود کو تمام خرابیوں کے لئے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ سیاسی جوڑ توڑ کے لئے اداروں کے استعمال ے کی بنیاد کسی جرنیل نے نہیں موجودہ آئین کے خالق جناب ذوالفقارعلی بھٹو صاحب نے رکھی تھی۔ تاہم اسی کے ساتھ ہی مگر بھٹو صاحب فوج کے ادارے کو زیرِ نگین رکھے جانے کے لئے ناصرف ٹکا خان اور ضیا الحق جیسوں کی بطور آرمی چیف تعیناتیاں، بلکہ میجر جنرل کے رینک تک کی ترقیوں کی بھی خود نگرانی کرتے رہے۔ جنرل ضیا الحق کے جابرانہ دور کی بات اور ہے، مگر بے نظیر بھٹو اپنے خلاف زیرِ زمین سازشوں کے باوجود بطور وزیرِ اعظم اپنی عملداری کو یقینی بنانے کے راستے پر جس حد تک ممکن ہوا گامزن رہیں۔ افغان جہاد کے نتیجے میں غیر معمولی رعب و دبدبہ حاصل کر لینے والے ادارے کی سربراہی ایک ریٹائرڈ جرنیل کو سونپے جانا اپنی اتھارٹی کے اظہار کی ہی ایک شعوری کوشش تھی۔ آنے والے برسوں میں جب اختیارات کی کشمکش سے اٹھنے والی حدت خود ان کے پرجلانے لگی تو انہوں نے ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان کیا۔ کھوئی ہوئی زمین کو مگر واپس لینا اب اس قدر آسان نہیں رہا تھا۔ دنیا بھر میں عسکری ادارے ٹینکوں بندوقوں اور طیاروں کی طاقت سے لیس ہوتے ہیں۔ انہیں کچھ اور نہیں نہتے سویلین حکمران اپنی اخلاقی قوت اور عوامی حمایت کے بل بوتے پر اپنا مطیع و فرمانبردار رکھتے ہیں۔ نوے کے عشرے کے حکمران اس اخلاقی قوت اور حمایت سے محروم رہے۔ مشرف کے دور میں ایک نئی نسل پل کر جوان ہو رہی تھی تو وہیں معاشی نمو اور میڈیا کے میدان میں عہد ساز تبدیلیاں بھی رونما ہونے لگی تھیں۔ عمران خان شعوری بیداری کے اس عہدساز دور میںروایتی خاندانوں سے بیزار پاکستانی مڈل کلاس ، بالخصوص نئی نسل کے ترجمان بن کر ابھرے۔ازکارِ رفتہ سپاہی نے عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق قرار دیئے جانے کی سازشی تھیوری کو ہمیشہ قبول کرنے سے انکار کیا ہے کہ سال 2011 کے بعد اپنے ارد گرد عمران کے لئے بے ساختہ حمایت کو قومی رگ و پے میں سرایت ہوتے ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عمران خان نے اس بے مثال عوامی حمایت کو اپنی طاقت سمجھنے کی بجائے اقتدار ملتے ہی باجوہ پر تکیہ کر لیا۔چنانچہ جب کہا جاتا ہے تو غلط نہیں کہا جاتا کہ ہائبرڈ بندوبست کہ جس کا نشانہ وہ خوداور ان کی پارٹی اب ہیں، اس کی بنیا د عمران خان نے سال 2018 میں خود اپنے ہاتھوں سے رکھی تھی۔ عمران نے اپنی ماضی کی غلطیوںسے کس حد تک سیکھا ہے اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملکی معیشت منجمد ہے،سلامتی کے خطرات سر پر منڈلاتے ہیں اور چار اطراف سیاسی بے یقینی ہے ۔ اس سیاسی بے چینی کے لئے ذمہ دار سمجھے جانے والے شخص کو کچلنے کے لئے ہر وہ حربہ استعمال میں لایا جا چکا ہے کہ جس کی مثال ہماری ناقابلِ رشک سیاسی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ کہا جا سکتا ہے کہ قوم ایک بند گلی میں پھنس چکی ہے۔ عمومی رائے یہی ہے کہ درپیش پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کیلئے مذاکرات ے سوا کوئی چارہ نہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ آئین کی بحالی اور اس کی چھتری تلے آزاد اورمنصفانہ انتخابات کے سوا معاملے کا کیا حل ہے؟ وہ جنہیں اپنی بقا کا مسئلہ جنہیں در پیش ہوکیا انہیں یہ حل قابلِ قبول ہو گا؟ اگر ایسا نہیں تو مذاکرات کا ایجنڈا آخر ہو گا کیا؟ درست کہا جاتا ہے کہ بات چیت شروع ہوگی تو ہی یہ گتھی بھی سلجھے گی۔ یہاں سوال پیداہوتا ہے کہ جب تک کمرے میںہاتھی کی موجودگی کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو بات چیت میں فریقین کون ہوں گے؟سچ تو یہ ہے کہ کمرے میں ہاتھی کی موجودگی کو جب بھی تسلیم کیاگیا تو یہی حقیقت سامنے آئے گی کہ مذاکرات میںفریقین دو ہی ہیں۔
٭٭٭










