کیریبین کے ممالک اپنے دفاع کیلئے تیار !!!

0
10
حیدر علی
حیدر علی

وینزویلا کے دارلخلافہ کاراکاس میں اُس وقت شب کے دوبج رہے تھے ۔ بچے ماں کی گود میں سورہے تھے۔ امریکا کی اقتصادی پابندی کے باوجود شہر روشنیوں سے جگمگارہا تھا۔ لیکن اچانک دھماکے کی آواز نے سبھوں کو حیران کردیا تھا ، اور پھر دھماکے کے ساتھ میزائل کے پھٹنے کی چمک اور گولیوں کی گونج سے کاراکاس کے باسیوں کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ اُن کا ملک اچانک بیرونی جارحیت کی زد میں ہے۔ امریکی ڈیلٹا فوج کے ہزاروں کمانڈوز نے ایک سو پچاس فائیٹر جیٹ ، پچاس جنگی بحری جہاز، سب میرینز کی مدد سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا تھا۔ امریکا کا مِشن مکمل ہوگیا تھا۔ لیکن ساری دنیا چیخ پڑی تھی، بچے اور کاراکاس کے شہری پھر سو نہ سکے تھے۔ اُن کے پرنس کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اُن سے چھین لیا تھا۔ نارتھ کوریا کی حکومت نے اِس غنڈہ گردی پر بیان دیتے ہوے کہا کہ امریکا کی کاروائی کسی ملک کی خودمختاری پر انتہائی ضرب کاری کی متراف ہے۔ اور یہ عمل امریکا کی بدمعاش اور ظالمانہ ذہنیت کی منھ بولتی تصویر ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت کا یہ بیان سمندر میں بالسٹک میزائل چھوڑنے کے بعد منظر عام پر آیا۔ چین کے نمائندے نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں جس کا وہ رکن ہے کہا کہ کوئی ملک اپنے آپ کودنیا کا پولیس یا دنیا کا جج نہیں سمجھ سکتا ہے۔ چین کے نمائندے نے مزید کہا کہ فوجی کاروائی مسئلے کا حل نہیں ہے، من مانی فوجی کاروائی مزید مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ روس کی حکومت نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں تنقید کرتے ہوے کہا کہ امریکا کی حکومت سیاسی و معاشی مقاصد حاصل کرنے کیلئے اپنے آپ کو دنیا کا خود ساختہ جج سمجھتی ہے ۔ کیوبا، ایران ، کولمبیا اور غیرجانبدار ممالک کی تحریک نے بھی اِسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اِن تمام ممالک اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکا کی کاروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے، خصوصی طور پر فوجی طاقت کے زور کا مظاہرہ کرنا۔امریکی سینیٹ میں ایک قرارداد کی پیش رفت ہوئی ہے جس کی رو سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا کہ وہ وینزویلا میں مزید فوجی کاروائی کرسکیں۔ گذشتہ جمعرات کے دِن سینیٹ میں ووٹ کی تعداد 52 بماقبلہ 47 رہی تھی۔ ریپبلکن کے پانچ اراکین نے اپنی پارٹی کو نظرانداز کرکے ڈیموکریٹک پارٹی کی قرارداد کو کامیاب بنایا۔ اِس فتح کا جشن نہ صرف امریکا میں منایا گیا بلکہ وینزویلا کے سینیٹ کے اراکین بھی اِسے صبح نو کی تازی ہوا کا ایک جھونکا قرار دیا۔ ایک پُر امن یا غیر جانبدار ملک کیلئے تشویش کی وجہ یہ ہے جب ایک طاقتور جدید میزائل، نیوکلیئر اسلحہ سے مسلح ملک اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوے کسی دوسرے ملک کی خود مختاری پر حملہ آور ہوجائے ، اُس کی یہ طبع آزمائی دوسرے ممالک کیلئے ایک نظیر بن جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں واضح طور پر طاقت کے استعمال سے اپنی خواہشات کو مسلط کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی قانون کی بنیادی اصولوں کی دھجیاں اڑا دیتی ہے اور ایک خطرناک مثال بن جاتی ہے ، دوسرے ممالک بھی اپنے مفاد کیلئے فوجی قوت کے استعمال کو اپنا معمول بنا لیتے ہیںاور یہ روش دنیا کے استحکام کو متزلزل کر دیتا ہے ۔ وینزولینز چاہے وہ دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں انتہائی خوف اور کشمکش کے عالم میں مبتلا ہیں۔ اُن کے دماغوں میں یہ سوال بارہا اُبھر رہا ہے کہ کیا ایک طویل مدت کی آمرانہ حکومت کے بعد وینزویلا میں واقعی ایک جمہوری حکومت قائم ہوجائیگی۔ وینزویلا سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے کہا ہے کہ سڑکوں اور کافی ہاؤس میں حالات تشویشناک ہیں اور لوگ اِس تذبذب میں مبتلا ہیں کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ اُس صحافی نے کہا کہ لوگوں کا ادراک ہے کہ کسی بڑے آمر سے چھٹکارا حاصل کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آمرانہ دور کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے، جبکہ نکولس مادورو کے قریبی سرکل کے افراد اب تک منظم اور سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ فلوریڈا ایک ایسا اسٹیٹ ہے جہاں کے لوگ کیریبین اور ساؤتھ امریکا کی سیاست میں بڑی گہرائی سے ملوث ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ایڈمنڈ گونزالیز جسے وینزویلا کے 2024 ء کے انتخابات میں اکثریت کے ووٹ ملے تھے اور جسے امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن نے بھی وینزویلا کا ایک جمہوری ومنتخب صدر تسلیم کیا تھا۔ لیکن فی الحال ایڈمنڈ گونزالیز کو امریکی ارباب اختیار کی کوئی پذیرائی نہیں مل رہی ہے۔ اُن کے خیال میں امریکی حکومت یہ چاہتی ہے کہ وینزویلا کے عوام انتخاب کے ذریعہ خود فیصلہ کریں کہ کون سا شخص یا کون سی پارٹی وہاں مسند اقتدار پر متمکن ہوگی۔ اِس طرح امریکی حکومت ایک درد سری سے بچ جائیگی۔ جیسا کہ ہم قیاس کرتے ہیں کہ وینزویلا کا سارا حکمران طبقہ خراب لوگوں پر مشتمل ہیں اور ہم لوگ اُنہیں خراب لوگ کہہ کر گردانتے ہیں ، لیکن یہی خراب لوگ امریکی مفاد کی حفاظت کرتا ہے۔ اِسی لئے وینزویلا عوام کی اکثریت یہ سوچ رہی ہے کہ کیا ایک شخص کی تبدیلی ملک کے سارے نظام حکومت کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے یا محض یہ ایک سنہرا خواب ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here