مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ کے خلاف ایران میں احتجاج پرتشدد کارروائیوں میں بدل گیا ہے ۔مظاہرین نے ایران کے سو سے زائد شہروں میں بنکوں، تھانوں اور ہسپتالوں سمیت سرکاری املاک کو نذر آتش کیا ہے۔ اختلاف رائے اور احتجاج جمہوری معاشروں میں شہریوں کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ مہذب معاشروں میں لاکھوں کی تعداد میں احتجاج کیلئے لوگ نکلتے ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کو اس وقت تک ہر ممکن سہولت فراہم کرتے ہیں،جب تک احتجاج قانون کی حدود میں رہے۔ بدقسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں پرتشدد احتجاج معمول بن چکا ہے۔جہاں تک ایران میں اچانک شہریوں کا احتجاج سو سے زائد شہروں میں پھیلنے اور جلائو گھیرائو کا معاملہ ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ایران میں مداخلت کے بیان کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ ایران میں احتجاج کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایران ہمارا ہمسائیہ ملک ہے اور جب آپ کے ہمسائے میں آگ لگی ہو یا طوفان برپا ہو تو آپ کو بھی انتہائی سنجیدگی سے اس کی فکر کرنی چاہیے،ہمیں ایران سے ہزار اختلاف سہی مگر ایران میں جاری مظاہروں کے بارے ہمیںنہ صرف فکر کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں منصوبہ بندی بھی کرنی چاہیے ۔امریکہ اگر ایران کے قدرتی ذخائر پر قابض ہوتا ہے تو اسرائیل کا کردار کیا ہوگا؟۔تہران یا اصفہان سے شروع ہونے والے احتجاج نے سو کے قریب شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور یہ سلسلہ انتہائی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے،یہ مظاہرے یوں تو مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے مگر در پردہ رجیم چینج لانا مقصود ہے اور جس تیزی اور شدت سے یہ مظاہرے پھیلتے جا رہے ہیں،ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ وہ طاقتیں جو یہاں رجیم چینج کی خواہش مند ہیں،وہ ایک بڑا منصوبہ بنا رہی ہیں۔نومبر 2025 میں ٹرمپ ڈاکٹرائن لانچ کی گئی تھی،اس میں واضح کیا گیا تھا کہ عن قریب امریکہ پوری دنیا کے قدرتی وسائل پر قابض ہو جائے گا ،ایران کا رجیم چینج،ونزویلا پر قبضہ اور گرین لینڈ پر نظریں،یہ سب ٹرمپ ڈکٹرائن کے منصوبے کا حصہ ہے۔،ایک ڈیڑھ صدی کے دوران ہزاروں دہشت گرد ایران اور افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے اور یہاں مسلکی منافرت و مذہبی انتہا پسندی اور خود کش حملوں کے پیچھے کہیں نہ کہیں ان دو ہمسائے ممالک نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایران ایک طرف تو ان الزامات کو ماننے سے انکاری رہا اور دوسری طرف بھارت سے دوستی کی پینگیں بھی بڑھاتا رہا،حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں بھارت نے ایران کو جس طرح دیوار سے لگایا اور اسرائیل کے ساتھ جا کھڑا ہوا،اس میں سیکھنے والوں کے لیے بہت گہرا سبق موجود ہے۔ پاکستان نے اس نازک موڑپر بھی ایران کا ساتھ دیا اور اسرائیل کو واضح کیا کہ ہم اپنے دوست ملک ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور یوں ایران اور پاکستان کے تعلقات میں ایک مرتبہ پھر بہتری دیکھی گئی۔یہ ایک مثبت رویہ ہے،پاکستان کو اپنے ہمسائے ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے بلکہ پاکستان نے تو بھارت کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتربنانا چاہتا ہے اور اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور غنڈہ گردی سے باز آ جائے اور آپریشن بنیان مرصوص سے سبق سیکھے تو حالات بہت بہتر ہو سکتے ہیں۔آج ایران جس نازک موڑ پر کھڑا ہے،اسے بھی سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے،کم از کم ایک بار اپنے ماضی پر ضرور نظر دوڑائے اور سوچے کہ جن ممالک کے لیے اس نے اپنے ہی دوست ممالک سے تعلقات کشیدہ کیے اور وہاں پراکسی جنگوں پر اربوں روپے ضائع کیے،اس سے کیا حاصل ہوا؟۔آج ایران میں جاری مظاہرے جس شدت سے آگے بڑھ رہے ہیں،یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ لگتے ہیں، چند لوگوں سے شروع ہونے والے یہ مظاہرے اب طوفان کا رخ اختیار کر چکے ہیں اور حکومت ان مظاہروں کو طاقت سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ ناممکن ہے،یہ طوفان اگر ایران کو تباہ کرتا ہے تو ہم بھی کہیں نہ کہیں اس سے متاثر ہوں گے،ہمیں اپنی فکر کرنے کی ضرورت ہے کیوںآج اگر ایران میں رجیم چینج ہوجاتا ہے اور وہ طاقتیں کامیاب ہو جاتی ہیں جو ایک عرصے سے ایران پر نظریں جمائی بیٹھی ہیں،تو حالات کس طرف جا سکتے ہیں؟۔ آپ ایک بار،دو ماہ پہلے ریلیز ہونے والے اس ڈاکومنٹ کا مطالعہ ضرور کریں جسے ٹرمپ ڈاکٹرائن کا نام دیا گیا ہے،اس میں بہت واضح کیا گیا تھا کہ امریکہ تیل اور گیس سمیت دنیا کے تمام قدرتی وسائل پر سے اپنے مخالفین کی دسترس کو ختم کرنا چاہتا ہے اور وہ بہت جلد اس میں کامیاب بھی ہو جائے گا اور اس کے پیچھے ایک مقصد اسرائیل کو مضبوط کرنا بھی ہے اور اگر اسرائیل کی طاقت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنے گنائونے مقاصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ایران کا رجیم چینج اور رضا پہلوی (امیدوار برائے اقتدار)کا اقتدار پاکستان کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔موساد اور راکا گٹھ جوڑ،ایران میں اپنی مرضی کی حکومت اور قدرتی وسائل پر چند ملکوں کا قبضہ، یہ سارے تشویش ناک پہلو کہیں نہ کہیں ہمارے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں اور ہمیں اس گھنٹی کو بروقت سننا چاہیے،اگر ڈاکٹرائن کی فیوچر اسٹریٹجی میں اسرائیل کی سکیورٹی ایک اہم مقصد ہے تو اس ایک ملک کو سکیوریا محفوظ کرنے سے،دنیا کا ایک بڑا حصہ غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔ونزویلا میں رجیم چینج کی وجہ ایران اور ونزویلا کی قربتیں ہیں،دونوں ملک تیل کے بڑے ذخائر رکھتے ہیں اور اب دونوں ممالک میں دفاعی تعاون بھی شروع ہو چکا تھا،یہی وجہ ہے کہ پہلے ونزویلا میںرجیم چینج کا راستہ ہموار کیا گیا اور اب اگلا ٹارگٹ ایران ہے۔ ایرانی بلوچستان ،پاکستانی بلوچستان کے بالکل قریب ہے اور اگر ایران میں موساد کا اثرورسوخ بڑھ جاتا ہے اور موساد اور راگٹھ جوڑ شروع ہو جاتا ہے تو پاکستان کو بالواسطہ یا بلواسطہ کتنے بڑے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، پاکستانی بلوچستان میں را کی موجودگی نے پہلے بھی ہمیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اگر اب دو دشمن ملکوں کی ایجنسیاں وہاں سرگرم ہو جاتی ہیں تو سوچیں حالات کس طرف جا سکتے ہیں۔کلبھوشن یادیوبھی ایران کے راستے پاکستان آیا تھا،کلبھوشن یادیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انڈین انٹیلی جنس ایجنسی را پاکستان کو کمزور اور غیر محفوظ بنانے کے لیے افغانستان اور ایران کے ذریعے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔پاکستان میں جاری دہشت گردی،مذہبی انتہاپسندی اور معاشی و سیاسی بحران کے پیچھے کہیں نہ کہیں وہ طاقتیں موجود ہیں جو وطن عزیز کے امن کو خراب کرنے کی ناکام کوششیں کر رہی ہیں اور اس کا جواب مئی کی پاک بھارت جنگ میں ہماری افواج نے دے دیا،اس جنگ میں بھی اسرائیل اور بھارت ایک ساتھ کھڑے تھے، ہماری عظیم افواج نے بھارت اور اس کے حامیوں کو منہ توڑ جواب دیے کر ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا۔ اگر عالمی برادری اس قانون شکنی پر خاموش رہی تو اس سے امریکہ کو کسی بھی ملک میں رجیم چینج کرنے کا حوصلہ ملے گا اور کوئی ملک بھی امریکی شر سے محفوظ نہ رہے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ عالمی برادری امریکہ کی ایران میں مداخلت کی بھر پور مخالفت کرے اور ایران کی حکومت کو بھی چاہیے کہ مظاہرین کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے تاکہ بیرونی طاقتوں کو ایران میں مداخلت کا جواز ہی نہ مل سکے۔
٭٭٭













