عالمی کارزار میں وحدت کی اہمیت!!!

0
8
جاوید رانا

الحمد اللہ راقم الحروف پاکستان کے نجی و خیر سگالی وزٹ کی تکمیل کے بعد سوموار کو شکاگو پہنچ گیا، اس دوران اپنے افراد خاندان، عزیز و اقارب اور دوستوں سے ملاقاتوں کے علاوہ سماجی، ثقافتی، صحافتی و دیگر امور کے ناطے ،رابطے، شراکت اور تبادلہ خیالات و تبصروں کا سلسلہ بھی جاری رہا جن کی تفصیلات یقیناً قارئین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔ علاوہ ازیں عالمی و وطن عزیز کے حوالے سے کالم کا فریضہ بھی جاری رہا۔ قارئین کی پسندیدگی اور تبصروں پر ہمارا اظہار تحسین و تشکر اور عہد کہ ہم پرورش نوح و قلم کرتے رہیں گے کہ یہی ہمارا اولین فریضہ اور وقت کا تقاضہ ہے۔
اپنے گزشتہ کالم ”حالات موافق نہیں ہیں” میں وینزویلا کے حوالے سے ہم نے پانچویں صدر مونرو کے ہر حال میں امریکی حالات و مفادات کے تحفظ اور بالادستی کے نظرئیے کے ناطے جن واقعات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے خیالات اور پیش آنے والے خدشات کا ذکر کیا تھا، وہ ٹرمپ ڈاکٹرائن اور امریکی نیشنل اسٹریٹجی پالیسی کے مطابق حقیقت بنتے نظر آرہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا مارکو روبیو کو کیوبا کا صدر بنانے، گرین لینڈ کے معدنی ذخائر و قدرتی وسائل پر کنٹرول، کولمبیا اور میکسیکو سمیت دیگر ملحقہ ریاستوں کو دھمکیوں کیساتھ ایران، اسرائیل، تنازعے پر کود پڑنا اس پالیسی کی تمہید ہے کہ تیل پر بلکہ معدنی ذخائر پر بھی صرف انکل سام کا کنٹرول ہو اور یان، برسک کے برعکس صرف ڈالر کا راج رہے۔ اس پالیسی کی زد میں لیبیا، سوڈان و دیگر ممالک بھی آسکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایران میں بظاہر ایرانی ریال کی قدر میں کمی اور عوام کو مہنگائی کی درپیش صورتحال کے تناظر میں ہونیوالے مظاہروں کے تناظر میں شدید ترین ہنگاموں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت، سرکاری،مذہبی و دیگر عمارات کی تباہی، موساد کے ایجنٹوں کے پکڑے جانے اور سرکاری اسلحے کے استعمال کے انکشاف کیساتھ اسرائیلی وزیراعظم و امریکی صدر کی جانب سے سابق شاہ کے موجودہ بیٹے کے رجیم چینج کے دعوئوں اور دخل اندازی کے اعلان کے جواب پر ایرانی لیڈر خامنہ ای، صدر و اسپیکر کے جوابی اعلان کے بعد حالات جس حد کو پہنچ چکے ہیں وہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کیلئے نہایت خطرناک ہیں، یہ امر بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ روس اور چین علامتی احتجاج کے سواء کوئی اقدام کرنے سے گریزاں ہونگے۔
جہاں تک وطن عزیز پاکستان کے حوالے سے اس صورتحال کے اثرات کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہے کہ ہمارے چار پڑوسیوں میں سے دو پڑوسی ہم سے مسلسل دشمنی میں برسرپیکار ہیں اور 2025ء مئی کی محاذ آرائی میں اسرائیل بھی ساتھ عمل پیرا تھا۔ ایران کی سرحد بلوچستان سے مشترک بلکہ منسلک ہے اور اگر خدانخواستہ ایران اس متوقع جنگ سے متاثر ہوتا ہے ،یا رجیم چینج کی صورتحال میں اسرائیل و امریکی حمایت یافتہ رجیم برسراقتدار آتا ہے تو ہم کہاں کھڑے ہونگے؟ اس سچائی میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اپنی عسکری قوت، جذبہ ایمانی اور عوام کے ایسے حالات میں اتحاد پر جوش اور اعتماد ہے لیکن ہمارا اندرونی خصوصاً سیاسی استحکام مفادات کے زیر اثرات سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ کسی بھی ملک یا ریاست کی کنجی اس کی ریاست، مملکت، مستحکم معیشت اور عوام کی وحدت ہوتی ہے۔ موجودہ ہائبرڈ رجیم کہنے کو تو سب اچھا گردانا جا رہا ہے لیکن ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور عوام کے مقبول ترین رہنما کیساتھ جو ناروا کردار و عمل اختیار کیا جا رہا ہے وہ نہ ملکی وحدانیت کے حق میں ہے نہ ہی یکجہتی و انصاف کے زمرے میں آتا ہے۔ خان کی حمایت کا ثبوت تو اس کے جانثار اور سی ایم کے پی سہیل آفریدی کے دورۂ سندھ میں سامنے آگیا ہے جہاں خان کے پُرستاروں کی کثیر تعداد نے بھرپور محبت و عقیدت سے واضح کر دیا کہ آج بھی پی ٹی آئی ان کی واحد مقبول جماعت اور عمران محبوب ترین رہنما ہیں۔ ہم بارہا عرض کر چکے ہیں کہ داخلی افتراق و انتشار سے گریز کر کے مفاہمت کا راستہ اپنایا جائے، عالمی کارزار کی موجودہ صورتحال میں اب ہماری یہ التجاء اوربھی اہم ہو چکی ہے۔ اغیار کے جال میں پھنس کر صومالیہ، سوڈان، یمن وغیرہ اندرونی طور پر ہی منقسم ہو چکے ہیں اور مسلم ممالک اپنے پسندیدہ ملکوں کیلئے لڑ رہے ہیں خدا کرے پاکستان محفوظ رہے۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here