امریکہ اسرائیل کی رجیم چینج گیم ہسٹری!!!

0
19
شمیم سیّد
شمیم سیّد

واشنگٹن کی جانب سے قیادت کی تبدیلی کی خواہش کوئی نیا رجحان نہیں۔ اس کی جڑیں اگست 1953 کے بدنام زمانہ ‘آپریشن ایجیکس میں پیوست ہیں جب امریکی سی آئی اے نے برطانوی ایم آئی سکس کے ساتھ مل کر ایران کے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا کیونکہ انہوں نے تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیبیا میں معمر قذافی کا انجام آج بھی تہران کے فیصلہ سازوں کے ذہنوں میں تازہ ہے، جن کا ماننا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری ان کے مکمل خاتمے اور غیر ملکی تسلط کا سبب بن سکتی ہے۔ بین الاقوامی سیاست کی بساط پر جب ریاستیں اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر شطرنج کی چالیں چلنے لگتی ہیں، تو اکثر اوقات سفارتکاری کے لبادے میں چھپی طاقت کی کشمکش خطے کو ایک ایسی آگ میں جھونک دیتی ہے جس کے شعلے دہائیوں تک سرد نہیں ہوتے۔اقتدار کے ایوانوں سے لے کر جلاوطنی کی تنہائیوں تک، تاریخ کا سفر ہمیشہ حیران کن موڑ لیتا ہے۔ کسی بھی ریاست کی طاقت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اندرونی محاذ پر بغاوت سر اٹھانے لگے۔ 23فروری کو مجاہدین خلق کی جانب سے یہ سنسنی خیز مبینہ دعوی سامنے آیا کہ ان کے جنگجوں اور پاسداران انقلاب کی پروٹیکشن فورسز کے درمیان تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہیڈکوارٹرز پر وسیع پیمانے پر مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں۔ گو کہ اس حملے کی آزادانہ ذرائع سے مکمل تصدیق ایک پیچیدہ عمل ہے، تاہم ایران نے دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ ایرانی ریاست قیادت کے گرد فولادی دیوار ہے جس کو شدید ٹھیس نہیں پہنچائی جا سکتی۔ ان افواہوں کا توڑ کرنے اور ریاست کے استحکام کا تاثر دینے کے لیے، آیت اللہ خامنہ ای نے ہفتوں کی روپوشی کے بعد 1979ء کے اسلامی انقلاب کے 47سال مکمل ہونے پر بانی انقلاب روح اللہ خمینی کے مزار پر ایک عوامی اجتماع میں شرکت کی، کیونکہ اپوزیشن دعوی کر رہی تھی کہ وہ ممکنہ امریکی حملے کے خوف سے زیر زمین بنکر میں منتقل ہو چکے ہیں۔ خامنہ ای کا یہ انتباہ کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایک ”علاقائی جنگ” چھڑ جائے گی۔ ڈوبتی ہوئی معیشت اور عوامی اضطراب کو محض بیانات اور جبر سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، بالکل ویسے ہی جیسے بکروں کے صدقے سے ریاست کے سنگین بحران ٹالے نہیں جا سکتے۔ امریکی حملوں اور ممکنہ ٹارگٹ کلنگ کیخدشات نے ایرانی سپریم لیڈر کو اپنے جانشین اور ریاستی ڈھانچے کی بقا کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے قریبی معتمد اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کو ملک کا ڈی فیکٹو لیڈر مقرر کر دیا ہے۔ براہ راست منتخب صدر مسعود پزشکیان کو ملکی معاملات اور انٹرنیٹ پر پابندیوں جیسے فیصلوں کے لیے بھی لاریجانی کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ لاریجانی کو حاصل ”دوہری شہرت” انہیں قدامت پسندوں اور اعتدال پسندوں کے درمیان ایک قابل قبول چہرہ بناتی ہے، جو نہ صرف امریکہ کے ساتھ مذاکرات کنٹرول کر رہے ہیں بلکہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈان کی کمان بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ ایران کے روحانی رہبر آیت اللہ خامنائی اور عسکری قیادت امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئی ہے۔ عالمی سطح پر نئے تنازعات کا گویا بیج بو دیا گیا ہے۔ رئیلزم کا ٹول استعمال کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ جہاں تیل ہو گا امریکہ وہاں دہشت گردی تلاش کرلے گا۔جہاں معدنیات ہوں گی وہاں انتشاری تحریکیں اور گروہ سرگرم ہو جائیں گے۔مشرقِ وسطی میںایک بار پھر بارود پھٹ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شدت اختیار کرتے حملے اور ایران کی طرف سے خلیجی عرب ریاستوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں یا جوابی کارروائیاں، خطے کو ایک ہمہ گیر جنگ کی طرف دھکیل چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز غیر محفوظ ہوتی ہے تو عالمی توانائی منڈی میں زلزلہ آسکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے جنیوا مذاکرات میں واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران صفر افزودگی کے مطالبے کو تسلیم نہیں کرتا، تو اس بار محض تنصیبات نہیں بلکہ حکومت کی تبدیلی کے لیے براہ راست آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے قریبی حلقے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان مذاکرات کی قیادت سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں، جن کی سفارشات جنگ یا امن کا حتمی فیصلہ کریں گی۔ اس مقصد کے لیے امریکہ نے بحیرہ روم اور بحیرہ عرب میں طیارہ بردار جہازوں اور درجنوں جدید ایف-35 اور ایف-22 جنگی طیاروں کا وہ انبار لگا دیا ہے جو 2003 میں عراق پر حملے کے بعد کبھی نہیں دیکھا گیا۔ لیکن اس طاقت کے مظاہرے کے باوجود، امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اندر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک طویل جنگ کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ جنرل کین کا انتباہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ امریکہ کے پاس اینٹی میزائل سسٹمز خصوصا تھاڈ کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے، جس کا ایک چوتھائی حصہ (تقریبا 150 انٹرسیپٹرز جن کی مالیت 12 ملین ڈالر فی کس ہے) پچھلی جنگ میں ہی ضائع ہو چکا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی سمندری تیل تجارت کا تقریبا 20 فیصد اس راستے سے گزرتا ہے۔ ایسی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں 10 سے 20 فیصد تک فوری اضافہ بعید از قیاس نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس آگ کے پھیلتے دائرے میں پاکستان اپنے مفادات کیسے محفوظ رکھے گا۔ مشرقِ وسطی میں آگ بھڑکے تو دھواں یہاں بھی پہنچتا ہے مگر ریاست اپنے گھر کی بنیادیں مضبوط رکھے تو طوفان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ پاکستان کو اسی حکمت، اسی توازن اور اسی اخلاقی جرات کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ہاں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ ہمارے مغربی ہمسائے میں کچھ دشمن قوتوں نے نقب لگا لی ہے۔یہ وہاں کوئی سازش نہ رچا سکیں اس کو یقینی بنانا ہوگا ورنہ خطے کے جغرافیائی نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here