موجودہ حالات اور ان کے اثرات!!!

0
11
جاوید رانا

ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں عالمی اور وطن عزیز کے حالات کے تجزئیے میں واضح کیا تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے سب مفادات کا کھیل ہے، عالمی سطح پر ون ورلڈ سپرمیسی کا کھیل مذاکرات کے رجھائو میں ایرانی رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایرانی قیادت شہادت کے درجے پر فائز ہوئی بلکہ قیامت یوں آئی کہ پرائمری لیول کی 185 طالبات کو بھی زندگی سے محروم کر دیا گیا، مذاکرات کی آڑ میں گھر (ایران) کے بھیدی کی مخبری اور موساد و سی آئی اے کے تعاون کے نتیجے میں حالات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں اس کے ہر اقدام اور اثر کا علم کُرّہ ارض پر آشکار ہے۔ ایک حقیقت واضح ہے کہ دنیا اس وقت مفاد کے ایسے بھنور میں پھنس چکی ہے جس سے نکلنا یا جس میں سروائیو کرنا مشکل ہی نہیں دُشوار ترین ہے۔ ہم اپنے گزشتہ کئی کالموں میں متعدد بار اپنے خدشات کا اظہار کر چکے تھے کہ امریکہ اپنے لے پالک اسرائیل کے شیطانی ایجنڈے کی تکمیل اور عالمی برتری یعنی ون ورلڈ پاور بننے کے منصوبے میں ہر حد تک جا سکتا ہے۔ عرب ورلڈ پر امریکی حربی کنٹرول اور فلسطین کے تنازع میں اسرائیل کی اعانت کا سلسلہ تو طویل مدت سے جاری ہے، ایران بُری طرح سے کھٹک رہا ہے۔ ٹرمپ نے دوبارہ صدر بننے کے بعد نہ صرف اوبامہ کے دور میں ایران سے ہونے والا معاہدہ تو کھڈے لگا ہی دیا تھا، اسرائیل کی سپورٹ اور ایران دشمنی کا کھیل بھی شروع کر دیا گیا۔ جون میں بارہ روزہ اسرائیل ایران جنگ کے بعد مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا لیکن دھونس، دھمکیوں اور رجیم چینج کا ڈراوا بھی جاری رہا۔ یہ سارا تماشہ ٹرمپ اور پینٹاگون کی اس پالیسی کے مطابق ہی تھا جس کے بارے میں ہم پہلے بھی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ کھبی دکھا کر سجی مار دی، غزہ کا معاملہ ہو، بورڈ آف پیس کا قیام یا روس یوکرین جنگ اور وینزویلا کے صدر کی گرفتاری ہر معاملہ میں منافقت، مکاری، غلط بیانی اور اندرونی غداری کا عنصر ہی کار فرما رہا ہے۔ یہی سب کچھ ایران کے معاملے میں بھی کیا گیا۔
ہفتے کے روز سے جو کچھ ہوا ہے اس کے بارے میں قارئین بلکہ ساری دنیا تمام جزیات سے واقف ہو چکے ہیں، مودی کا اسرائیل پہنچ کر بھارت، اسرائیل و افغان ٹرائیکا کا مؤقف، اسرائیل میں امریکی سفیر کا گریٹر اسرائیل کے حوالے سے بیان اور بھارت میں امریکی سفیر کی منصوبہ بندی کے تناظر میں افغان رجیم کے حملے، دوسری جانب اندرونی جاسوسوں کے طفیل ایران پر حملہ اور آیت اللہ خامنہ ای و ایرانی قیادت کی ہلاکتوں کیساتھ مہیب ترین جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں شرق اوسط خلیجی ممالک ہی نہیں تمام دنیا ہی متاثر ہوئی ہے البتہ عرب و خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کے سبب جنگ کا دائرہ ایران اور ان ملکوں تک بھی وسیع ہو چکا ہے جو اسرائیل کے اس مقصد کو پورا کرتا نظر آتا ہے کہ مسلم ممالک میں پھوٹ پڑے کہ یہود و ہنود کا یہی کامیابی کا ہدف اور مشن ہے۔ اسرائیل و بھارت کا مشن حال کی حقیقت یا آج کی بات نہیں بلکہ صدیوں سے جاری ہے بلکہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہر دور ہر زمانے میں نقصان اور زک پہنچانے والے اندر کے منافقین، خارجین (خوارج) ہی دین کے دشمنوں کی پراکسی بنے ہیں۔ حالات آج بھی مختلف نہیں دنیائے اسلام میں جو شورشیں اور سازشیں برپا ہیں ان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ خوارج ملوث ہیں اور دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔
اگر ہم وطن عزیز کی ہی مثال لیں تو ٹی ٹی اے، ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ہمارے ازلی دشمن کی پراکسی ہیں اور ہر طرح کی دشمنی و محاذ آرائی کے درپے رہتے ہیں دوسری جانب ہمارے سیاسی جھگڑے معاشی کمزوری، عصبی و فقہی اختلافات ہمارے دشمنوں کے مفاد اور وطن عزیز لیے تفریق و عدم استحکام کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایران میں حالیہ واقعات میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت دنیا بھر میں فقہ جعفریہ کے لوگوں نے احتجاج اور اظہار غم کیا لیکن پاکستان میں اس موقعہ پر بھی پُرتشدد رویہ اختیار کیا گیا جس کے نتیجے میں نہ صرف انسانی جانیں ضائع ہوئیں بلکہ غیر ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی املاک کو پہنچاننے سے عالمی تشخص بھی متاثر ہوا۔ رمضان المبارک کی 27 ویں شب معروض وجود میں آنے والا ہمارا وطن اس وقت موجودہ معروضی حالات اور بھارت، اسرائیل و افغان رجیم کے اکٹھ، نیتن یاہو کے بیان کہ ایران کے بعد ترکیہ اور پاکستان ہمارا اگلا ہدف ہیں یقیناًوطن عزیز کی آزمائش اور وطن کے تحفظ و سالمیت کی جدوجہد کر رہا ہے، ہمیں یقین ہے کہ اپنی عسکری قوت جذبۂ ایمانی کی بناء پر تا ابد سلامت رہے گا تاہم یہ وقت تمام حوالوں سے اتحاد و یکجہتی اور اتفاق کا متقاضی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی، عصبی اور فقہی اختلاف بھلا کر قوم سیسہ پلائی دیوا ربن جائے۔ کہ دشمنوں نے پاکستان کے خلاف سائبر جنگ تو شروع کردی ہے، جیو، اے آر وائی اور دیگر چیلنج ہیک کرکے اسرائیل کے لوگوں کے ساتھ زہر اگلنا شروع کردیا ہے۔ نیشنل سیکورٹی کیلئے پاکستان کی سیاسی، ریاستی حکومتی اشرافیہ کو ایک ہونا ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز کی سب سے بڑی جماعت اور مقبول ترین رہنماء کو بھی یکجہتی و اتحاد کی لڑی میں شامل کیا جائے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں اتحاد بہت ضروری ہے۔ پیش آمدہ حالات وطن عزیز کے حوالے سے بھی تشویش کا سبب ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here