معاہدہ امن!!!

0
8
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام آپکی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے ۔ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کے حوالے سے دو ہفتہ قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ پندرہ روز بعد جو موجودہ حالات ہیں وہ انتہائی مایوس کن ہیں۔ ہر شخص اس بات سے واقف ہے ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت سخت گیر شیعہ مسلم علماء پر مشتمل ہے جو فیصلے خالص مذہبی عقیدے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔وہ اس سے پہلے بھی یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ شیعہ قیادت ایک آخری فیصلہ کن معرکہ کی خواہاں ہے تاکہ امام مہدی کا ظہور ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سیاسی حلقے ایران کی پالیسیوں کو صرف سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ ایک مذہبی اور عقیدتی فریم میں دیکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو صاف لفظوں میں مذہبی جنگ قرار دیا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ کو ایران کی مذہبی قیادت کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے میں آخر اتنی دقت کیوں پیش آ رہی ہے۔
آئیے ! اس عقدے کو تاریخ اور قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج سے چند برس قبل ایران کے جوہری پروگرام پر ایک بین الاقوامی سمجھوتا طے پایا تھا جو امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین، جرمنی اور ایران کے درمیان جولائی 2015 میں ویانا میں ہوا۔ اس معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی کی۔ مگر بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8مئی 2018 کو یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا، اور ایران پر دوبارہ سخت معاشی پابندیاں نافذ کر دیں جو آج تک برقرار ہیں۔ ایران چونکہ ایک اسلامی ریاست ہے اس کا آئین قرآن اور محمدۖ و آلِ محمدۖ (اہلِ بیت)کی تعلیمات پر قائم ہے۔اسلام میں معاہدہ انسانی معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر معاہدوں پر سے اعتماد اُٹھ جائے تو بقائے باہمی شدید خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں تھاکہ اہلِ کتاب نے مسلمانوں سے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہو۔ قرآنِ ان کی اس روش کو یوں بیان کرتا ہے: جب اللہ نے اہلِ کتاب سے عہد لیا تو انہوں نے اسے پسِ پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ بار بار عہد توڑنے والوں کے بارے میں قرآن فرماتا ہے: وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے۔ اسی لیے قرآن انہیں روئے زمین پر بدترین مخلوق قرار دیتا ہے:بے شک وہ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔ بلکہ فرمایا: یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہی وہ کردار ہے جو آج امریکہ نے دکھایا۔ ایک بار معاہدہ کیا پھر بغیر کسی معقول وجہ کے اسے توڑ دیا۔ ایسی صورت میں اگر دوبارہ کوئی معاہدہ ہو بھی جائے تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ دوبارہ خیانت نہیں کرے گا۔ خیانت کا خدشہ ہو تو قرآن حکم دیتا ہے:اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت کا خوف ہو تو ان کا معاہدہ اعلانیہ طور پر ختم کر دو۔ معاہدہ ختم کرنے کے بعد خاموشی اور غفلت نہیں بلکہ طاقت کی تیاری لازم ہے: جہاں تک ہو سکے طاقت تیار کرو ۔۔ تاکہ اللہ اور اپنے دشمنوں پر رعب ڈال سکو۔ چنانچہ ایران نے میزائل پروگرام ،ڈرون ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں غیر معمولی ترقی کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ اپنی پوری عسکری طاقت خطے میں جمع کرنے کے باوجود کھلی جنگ کی جرأت نہیں کر پا رہا، کیونکہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا خوف اس کے فیصلوں پر حاوی ہے۔ اب وہ دبا ئومیں ہے، جب دشمن دبا اور خوف کے عالم میںصلح پر آمادہ ہو جائے تو قرآن کا حکم ہے:اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہو جا ؤاور اللہ پر بھروسہ کرو۔
اسی حکم کی روشنی میں ایران نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔ اگر کوئی معاہدہ طے پا جائے اور دوسرا فریق اس پر قائم رہے تو اللہ کا حکم ہے:جن سے معاہدہ ہوا ہے اس کی مدت پوری کرو۔ مزکورہ دلائل کے ساتھ معاہدے کی اہمیت اُجاگر ہوجاتی ہے اب تو وہ دن اب ہوا ہوئے اور بات معاہدے سے کہیں آگے بڑھ کر خراب ترین صورتحال میں داخل ہوچکی ہے۔ امید ہے جو کچھ ہوگا انسانیت کی بھلائی کیلئے ہوگا اور موجودہ حالات کے پیش نظر طاقت کے مظاہرے اور استعمال کو بے دریغ استعمال کرنے سے احتیاط برتی جائیگی جبکہ حقیقتاً ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا اب جو بھی ہو دیکھا جائیگا ۔ دونوں فریق اپنی ضد پر قائم ہیں اب اسکا انجام سب کو ہی بھگتنا ہوگا ۔ اللہ سب انسانوں کیلئے بہتری فرمائے آمین!
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here