فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
10

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! امّ المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنھا کے وصال کے بعد حضور نبی کریم ۖ نے بنت صدیق اکبر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھما سے نکاح فرمایا: امّ المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ عنھا کو اللہ تعالیٰ نے بڑی عظمتوں اور شانوں سے نوازا ہے۔ آپ حضور ۖ کی دونوں جہانوں میں رفقیہ ہیں۔ اور آپ کا نکاح حضورۖ سے خود اللہ جلّ شانُہ نے پڑھایا۔ پھر اگر کوئی بدگو آپ کی ذات والا صفات پر کسی قسم کا طعن کرے تو یقیناً اس نے حضورۖ کا دل دُکھایا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی اعتراض کیا۔(العیاذ باللہ) حضورۖ کا وصال مبارک ہوگیا تو امّ المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا حضور ۖ کے روضہ انور پہ حاضر ہونے لگیں آپ کھلے منہ حاضر ہوئیں کہ یہ میرے شوہر کا روضہ انور ہے۔ پھر جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وصال پاک ہوا اور وہ حضور نبی کریم ۖ کے ساتھ روضہ انور میں دفن کئے گئے تو پھر بھی آپ رضی اللہ عنھا اسی طرح حاضری دیتی رہیں۔ اس خیال سے کہ ایک میرے شوہر اور دوسرے میں باپ ہیں۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال شریف ہوا اور آپ کو روضہ انور کے احاطہ میں دفن کیا گیا تو اب امّ المئومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے باپردہ حاضری دینا شروع کردی اور فرمایا اب یہاں عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں جو غیر محرم ہیں۔(مشکوٰة شریف) اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندے قبر میں بھی تشریف لے جائیں تو زندہ ہیں۔ دیکھتے اور سنتے بھی ہیں۔ اسی لئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وصال مبارک کے بعد اور روضہ انور کے احاطہ میں دفن ہونے کے بعد ان سے پردہ ہی کیا ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا زمانہ طغولیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر باپ کے زیر سایہ بسر ہوا۔ بچپن ہی سے بے حد ذہین اور ہوشمند تھیں۔ ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا گڑیوں سے کھیل رہی تھیں کہ رسول اللہ ۖ پاس سے گزرے آپ کی گڑیوں میں سے ایک گڑیا پردار تھی حضور نبی کریم ۖ نے پوچھا! عائشہ یہ کیا ہے؟ عرض کی: گھوڑا ہے آپ ۖ نے فرمایا: گھوڑوں کے تو پر نہیں ہوتے۔ توآپ رضی اللہ عنھا نے بے ساختہ کہا۔ حضور! حضرت سلیمان علیہ السّلام کے گھوڑوں کے تو پر تھے۔ حضورۖ نے یہ جواب سن کر تبسم فرمایا ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کی بشارت آپ علیہ الصّلواة والسّلام کو خواب میں ہوچکی تھی۔ آپۖ نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص ریشم میں لپٹی ہوئی کوئی چیز آپ ۖ کو دکھا رہا ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کی ہے۔ آپۖ نے کھولا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا تھیں۔ حضورۖ طہارت میں بہت اہتمام فرماتے تھے اور اپنے مسواک بار بار دھویا کرتے تھے۔ اس خدمت کی انجام دہی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے سپرد ہی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نبی پاکۖ کی خدمت میں ذرا فرق نہیں آنے دیتی تھیں۔ ایک دفعہ رسول کریمۖ رات کے وقت اٹھ کر کہیں تشریف لے گئے۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی آنکھ کھلی اور حضورۖ کو موجود نہ پایا تو سخت پریشان ہوئیں۔ دیوانہ وار اٹھیں اور ادھر ادھر حضور علیہ السّلام کی تلاش میں سرگرداں ہوگئیں۔ آخر انہوں نے دیکھا کہ حضورۖ ایک گوشہ میں خاموشی سے یاد الٰہی میں مصروف ہیں۔ تب کہیں جا کر انہیں اطمینان ہوا۔ ایک بار نبی کریم ۖ کمبل اوڑھ کر مسجد میں تشریف لائے۔ ایک صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ! اس پر دھبہ نظر آتا ہے آپ ۖ نے کمبل کو غلام کے ہاتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے پاس بھیج دیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے کٹورے میں پانی منگوایا۔ خود اپنے ہاتھ سے دھبہ دھویا اور خشک کیا اس کے بعد کمبل آپ ۖ کے پاس بھیج دیا۔ حضورۖ خانہ کعبہ کی ہدی یعنی قربانی کا جانور بھیجتے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا اس کے گلے کا قلادہ بنتی تھیں۔
جب حضور نبی اکرم ۖ احرام باندھتے یا احرام کھولتے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا احرام باندھنے سے پہلے اور کھولنے کے بعد خود جسم اقدس حضورۖ کو خوشبو لگاتی تھیں۔ المغرض حضور نبی کریم ۖ نے گھریلو معاملات کے لئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کو چنا ہوا تھا۔ پھر آخری ایّام علالت میں بھی حجرہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا انتخاب فرما لیا تھا۔ وہیں آپ ۖ کا وصال ہوا اور وہیں دفن ہوئے اور روضہ انور بنا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے اپنی ساری زندگی نبی پاک ۖ کے دین کیلئے وقف کئے رکھی۔ آپ کا وصال باکمال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں58 ہجری سترہ رمضان المبارک کو 67 سٹھ سال کی عمر میں ہوا۔ جنت البقیع میں آپ کا مزار پر انوار ہے اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنھا کے درجات بلند فرمائے(آمین ثم آمین)۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here