واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی سیاست اور میڈیا کے حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب ٹرمپ کی ملکیت میں کام کرنے والے میڈیا گروپ نے برطانوی اخبار دی گارڈین کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اس تنازع کی جڑیں اس رپورٹ میں پیوست ہیں جس میں کمپنی کے مالی معاملات اور اندرونی انتظامی ڈھانچے پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ اخبار نے حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا اور دانستہ طور پر ایسی مہم چلائی جس سے ادارے کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس رپورٹنگ کے نتیجے میں نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا بلکہ اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ قانونی دستاویزات کے مطابق مدعی نے اربوں ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا ادارے کو بغیر ٹھوس شواہد کے کسی بھی کاروباری ادارے کی مالی حالت کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ مقدمہ 2026 کے اہم ترین قانونی معرکوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں ایک طرف ایک طاقتور سیاسی شخصیت کا کاروباری مفاد ہے اور دوسری طرف صحافتی آزادی کا عالمی اصول۔ دوسری جانب دی گارڈین نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دفاع کا اعلان کیا ہے۔ اخبار کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی رپورٹنگ عوامی مفاد اور مستند ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی تھی اور وہ عدالت میں اپنی پیشہ ورانہ دیانت کا ثبوت پیش کریں گے۔ قانونی ماہرین اس صورتحال کو میڈیا کی آواز دبانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں جبکہ ٹرمپ کے حامی اسے جھوٹی خبروں کے خلاف ایک ضروری قدم گردانتے ہیں۔ اس مقدمے کے نتائج نہ صرف ان دونوں اداروں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ ڈیجیٹل دور میں بڑے میڈیا ہاؤسز کس حد تک طاقتور شخصیات کے کاروباری معاملات کی چھان بین کرنے کے مجاز ہیں۔ ابھی اس کیس کی ابتدائی سماعتیں جاری ہیں اور عالمی برادری کی نظریں عدالت کے اگلے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔









