لندن (پاکستان نیوز)ماہرین نے ایک ایسی نئی دوا کے تجربات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے جو بیضہ دانی کے شدید نوعیت کے کینسر میں مبتلا خواتین کی زندگی بچانے اور اس کے دورانیے کو بڑھانے میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ برطانیہ میں کیے گئے کلینیکل ٹرائلز کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریلاکوریلینٹ نامی دوا جب روایتی کیموتھراپی کے ساتھ ملا کر دی جاتی ہے تو یہ کینسر کے خلیات کی مزاحمت کو توڑنے میں مددگار ہوتی ہے۔ اس نئی طبی تحقیق کے مطابق جن خواتین کو یہ نئی دوا دی گئی ان میں بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار سست پڑ گئی اور ان کی زندگی کے دورانیے میں ان مریضوں کے مقابلے میں واضح بہتری دیکھی گئی جن کا علاج صرف عام کیموتھراپی سے کیا گیا تھا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیضہ دانی کا کینسر خواتین میں تشخیص ہونے والی ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کا علاج اکثر مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ کینسر کے خلیات کیموتھراپی کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں۔ یہ نئی دوا جسم میں تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کے اثرات کو روک کر کام کرتی ہے جس سے کینسر کے خلیات کیموتھراپی کے لیے دوبارہ حساس ہو جاتے ہیں۔ اس تحقیق میں 100 سے زائد خواتین نے حصہ لیا اور نتائج بتاتے ہیں کہ اس طریقہ علاج سے مریضوں کی زندگی میں اوسطاً کئی ماہ کا اضافہ ممکن ہے۔ ماہرینِ سرطان نے اس پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر ہونے والے مزید تجربات میں بھی یہی نتائج برقرار رہے تو یہ دوا مستقبل میں بیضہ دانی کے کینسر کے علاج کا بنیادی حصہ بن جائے گی۔ اس وقت دنیا بھر میں ہزاروں خواتین اس مہلک مرض کا شکار ہوتی ہیں اور علاج کے اس نئے ڈھنگ سے ان کی زندگی کی امید نو پیدا ہوئی ہے۔ یہ دوا نہ صرف کینسر کو قابو کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ اس کے مضر اثرات بھی دیگر ادویات کے مقابلے میں کم دیکھیے گئے ہیں جس سے مریضوں کے لیے علاج کا عمل سہل ہو جاتا ہے۔ تحقیقی ٹیم اب اس دوا کو عالمی سطح پر منظوری دلانے کے لیے مزید اعداد و شمار جمع کر رہی ہے تاکہ اسے عام ہسپتالوں میں مریضوں کی پہنچ تک لایا جا سکے۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو یہ دوا کینسر کے خلاف جاری عالمی جنگ میں ایک اہم ہتھیار ثابت ہوگی جو خاص طور پر ان خواتین کے لیے کارگر ہوگی جن پر اب تک کی روایتی ادویات اثر کرنا چھوڑ چکی ہیں۔









