لانگ آئی لینڈ میں مساجد کی توسیع کیلئے مسلم کمیونٹی کو چیلنجز کا سامنا

0
14

نیویارک (پاکستان نیوز)لانگ آئی لینڈ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مساجد کی قلت کے پیش نظر مساجد کی توسیع کے منصوبوں کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق نارتھ ہیمپسٹیڈ اور آیسٹر بے جیسے علاقوں میں دو اہم مساجد کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو توسیعی اجازت نامے دینے سے انکار کر دیا گیا ہے جس کے بعد یہ معاملہ اب قانونی اور سماجی سطح پر ایک سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔ ہل سائیڈ اسلامک سینٹر نے جب نمازیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اپنی موجودہ عمارت کو وسیع کرنے کی درخواست دی تو ٹاؤن بورڈ نے اسے ٹریفک کے مسائل اور پارکنگ کی کمی کا جواز بنا کر مسترد کر دیا۔ اگرچہ مسجد انتظامیہ نے تمام تکنیکی تقاضے پورے کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن عوامی سماعتوں کے دوران مقامی رہائشیوں کی جانب سے کی جانے والی مخالفت اور سوشل میڈیا پر جاری منفی مہم نے اس فیصلے کو متنازع بنا دیا ہے۔ اس صورتحال کے جواب میں مسجد کی انتظامیہ نے وفاقی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے جہاں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ مقامی حکام کا یہ رویہ مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور زوننگ کے قوانین کو ایک خاص طبقے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مسجد الباقی کے معاملے میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھی گئی جہاں برسوں تک جاری رہنے والی قانونی جنگ کے بعد یہ ثابت ہوا کہ ٹاؤن انتظامیہ نے بلاجواز رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ اس مقدمے کے نتیجے میں مقامی حکومت کو نہ صرف تعمیر کی اجازت دینی پڑی بلکہ لاکھوں ڈالر کا ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑا جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انتظامی فیصلے اکثر تعصب پر مبنی ہوتے ہیں۔ ماہرین اور قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی قوانین مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے واضح حدود متعین کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود مقامی سطح پر بیوروکریسی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے اقلیتی گروہوں کے لیے اپنی عبادت گاہوں کو بہتر بنانا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔ ان واقعات نے کمیونٹی کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے کیونکہ میٹنگز کے دوران ہونے والی گفتگو میں اکثر مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا گیا جس سے یہ تاثر بھی ابھرا کہ اصل مسئلہ تعمیراتی ضوابط نہیں بلکہ مخصوص مذہبی گروہ کی موجودگی ہے۔ اس وقت دونوں مساجد کے معاملات لانگ آئی لینڈ میں مذہبی رواداری اور شہری حقوق کے حوالے سے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں جہاں ایک طرف شہری سہولیات کے تحفظ کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف آئینی طور پر دی گئی مذہبی آزادی کا سوال درپیش ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ مقامی حکومتیں اپنے قوانین کو شفاف بنائیں تاکہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو محض انتظامی بنیادوں پر اپنے بنیادی حق سے محروم نہ کیا جا سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here