مشرق وسطی ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے جس انداز میں شدت اختیار کی ہے اس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر یہ تصادم پھیلتا ہے تو اس کے اثرات کہاں تک جائیں گے اور کیا یہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ؟
حالیہ بیانات اور عسکری نقل و حرکت نے صورتحال کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ ایران نے خطے میں موجود امریکی اور اتحادی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ اگر خلیجی ریاستیں جیسے کہ بحرین ،قطر ،متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب اور اردن براہ راست یا بالواسطہ اس کشمکش میں گھسیٹ لیے جاتے ہیں تو پورا خلیج میدان جنگ بن سکتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل پہلے ہی ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتا آیا ہے اور کسی بھی براہِ راست تصادم کی صورت میں اس کا رد عمل شدید ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا کردار نہایت حساس ہے پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور جغرافیائی طور پر ایران اور افغانستان کے سنگم پر واقع ہے۔ اگر مغربی سرحد پر کشیدگی بڑھتی ہے خصوصاً افغانستان کے ساتھ تو پاکستان کی عسکری توجہ تقسیم ہو سکتی ہے۔
بعض تجزیہ کار یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں محاذ گرم کر کے پاکستان کو مصروف رکھنا بڑی طاقتوں کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے دوران اسلام آباد مؤثر سفارتی یا دفاعی کردار ادا نہ کر سکے۔ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ اس کشیدگی کا مرکزی نکتہ ہے۔ اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات خصوصا زیرِ زمین مراکز کئی برسوں سے عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں اگر امریکہ یا اس کے اتحادی ان مراکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ قدم غیر معمولی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔ زیرِ زمین تنصیبات پر حملہ عسکری طور پر پیچیدہ اور سیاسی طور پر نہایت حساس ہوگا۔ اس کی کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہیکیونکہ ایران ممکنہ طور پر خطے میں امریکی بحری بیڑوں اور اڈوں کو ہدف بنا سکتا ہے۔ یہ جنگ طویل بھی ہو سکتی ہے ، ایران روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ غیر روایتی اور پراکسی حکمت عملی میں مہارت رکھتا ہے۔خلیج کی توانائی گزرگاہیں عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں یہاں معمولی خلل بھی عالمی بحران پیدا کر سکتا ہے۔
روس اور چین کے مفادات بھی اس خطے سے وابستہ ہیں جس سے تصادم کے عالمی رنگ اختیار کرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے تو پھر تیسری عالمی جنگ کے مقاصد میں امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری پروگرام کو محدود یا ختم کرنا اور اسرائیل اپنی سکیورٹی کو درپیش خطرات کا مستقل حل تلاش کرنا ہوسکتا ہے کہ ایران خطے میں اپنی اسٹریٹیجک گہرائی اور اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہو اور خلیجی ریاستیں اپنی سلامتی اور توانائی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتی ہوں۔ پر اگر یہ جنگ پھیلتی ہے تو تیسری عالمی جنگ کا خدشہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس میں براہ راست یا بالواسطہ کئی طاقتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ نیوکلیئر ہتھیار رکھنے والے ممالک کی شمولیت عالمی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ کسی ایک غلط اندازے کسی ایک میزائل کی غلط سمت یا کسی ایک بحری جھڑپ سے حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ تاہم تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں براہ راست تصادم سے عموماً گریز کرتی ہیں کیونکہ اس کی قیمت ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔ جیسا کہ چین کے حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سفارت کاری، بیک ڈور مذاکرات اور علاقائی ثالثی اب بھی ممکنہ راستے ہیں۔ یہ لمحہ دانشمندی کا تقاضا کرتا ہے اگر جذبات انتقام اور طاقت کے مظاہرے غالب آ گئے تو مشرق وسطی کی آگ پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ لیکن اگر عقل، سفارت اور تحمل کو ترجیح دی گئی تو شاید ایک اور عالمی المیے کو ٹالا جا سکے۔ دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور تاریخ کا اگلا باب طاقت سے نہیں بصیرت سے لکھا جانا چاہیے۔
٭٭٭














