رمضان میں اخلاق
چونکہ یہ رمضان کا مہینہ ہے تو ہم آپۖ کی دی ہوئی تعلیمات کو دوہرا رہے ہیں۔ ان تعلیمات میں اخلاق وتہذیب کا بھی سبق ہے ۔میں نے اپنے گذشتہ مضمون میں کچھ اخلاق حسنہ کا ذکر کیا تھا جن میں سے چند اخلاق یعنی رحم دلی، سخاوت ،معاف کردینا ،احسان مند، اخلاق میں اور بھی اچھے عمل آتے ہیں۔
ایثار! اخلاق کا ایک اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کا خود ضرورت مند ہو لیکن جب کوئی دوسرا ضرورت مند سامنے آجائے تو وہ چیز اس کو دے کر خود تکلیف اٹھا لے، اسی کا نام ایثار ہے اور انسانی اخلاق میں بلاشبہ اس کا بلند مقام ہے ۔ رسول اللہ کی تعلیم وتربیت اور آپ کے عملی نمونہ نے صحابہ کرام میں ایثار کی جو صفت پیدا کی تھی اس میں سے ایک واقعہ یہ ہے کے ابوطلحہ جو آپ کے صحابی تھے انہوں نے اپنے گھر میں ایک بھوکے مفلس مہمان کو ایسے کھانا کھلایا کے وہ اور ان کی بیوی چراغ گل کرکے بیٹھ گئے تاکے مہمان کو اندازہ نہ ہو کے ان کے پاس کھانا کم ہے خود بھوکے سوئے مگر مہمان نے دل بھر کر کھانا کھایا۔ انس ومحبت! رسول اللہ، صلی اللہ وعلیہ وصلعم نے انس ومحبت کو بھی خاص ایمانی صفت میں سے بتلایا ہے اور کیوں نہ ہو آپۖ خود انس ومحبت کا پیکر تھے۔ آپۖ نے فرمایا مومن تو انس ومحبت کا مرکز ہے اور اس آدمی میں کوئی بھلائی نہیں جو دوسروں سے الفت نہیں کرتا اور اگر کسی شخص میں یہ بات نہیں ہے تو وہ دوسروں کو فائدہ نہیں دے سکتا ہے۔ اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو خشک مزاج لوگ سب سے بے تعلق ہو کر رہنے کو ہی دین کا تقاضہ سمجھتے ہیں اور اس لئے نہ تو خود دوسروں سے مانوس ہوتے ہیں اور نہ دوسروں کوتو بلاشبہ اونچا مقام ہے۔
لوگوں کی عداوت بغض اور حسد کے باوجود اللہ کیلئے لوگوں سے جڑا رہے اور اپنے دوستوں رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو محبت دے یہ اخلاق کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اسی طرح بغیر کسی اور قرابت کے اور بغیر کسی مالی فائدے کے اللہ کیلئے لوگوں سے محبت کی یہی اخلاق ہے۔
نفرت بغض حسد اور بدگمانی!
آپۖ نے فرمایا تم دوسروں کے متعلق بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے جو شخص بھی اس وہم والی بیماری کا شکار ہوتا ہے اس کا حال یہ ہوتا ہے کے جس کسی سے اس کا ذرا سا اختلاف ہو اس کے ہر کام میں اسے بدنیتی معلوم ہوتی ہے اور یوں وہ بداخلاقی کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا برتائو اس آدمی سے بدل جاتا ہے حضورۖ نے فرمایا بدگمانی بھی بہت بڑا بلکہ سب سے بڑا جھوٹ ہے اور دل کا یہ گناہ زبان والے جھوٹ سے کم نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اخلاق یہ نہیں ہے کے کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ میں رہیں حضورۖ نے ارشاد فرمایا جاسوسوں کی طرح راز دارانہ طریقے سے کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو۔ اور نہ ایک دوسرے پر بڑھنے کی بے جا ہوس کرو۔ نہ آپس میں حسد کرو نہ بغض وکینہ رکھو۔ نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو۔ اپنے آپ کو ان اخلاقی برائیوں سے محفوظ رکھیں۔
بغض اور کینہ! کسی کیلئے دل میں برائی لیے پھرنا۔ اس کی کسی بات پر اتنا ناراض ہوجانا کے دل ہی صاف نہ ہو۔ یہ بھی اخلاقی برائی کہلائی جاتی ہے اور یوں ہم اللہ کی رحمت نہیں حاصل کرسکتے۔ ایک اور برائی اپنے کسی مسلمان بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار کرنا ہے۔ حضورۖ نے فرمایا تم اپنے کسی بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار کرو گے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ اس کو اس مصیبت سے نجات دیدے اور تم کو اس مصیبت میں مبتلا کردے ۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو اس کی مصیبت کو دیکھ کر دل میں بھی نہ خوش ہوں یہ اللہ کو پسند نہیں ہے اور یہ صریح بداخلاقی ہے کہ آپ کسی سے ناراض ہیں تو اس کی پریشانی پر خوش ہو رہے ہیں۔ چونکہ اخلاق حسنہ ہی اور بھی بہت کچھ ہے اس لئے تھوڑا تھوڑا بیان کیا جارہا ہے تاکے دلوں میں آسانی سے اتر جائے۔(باقی آئندہ)۔
٭٭٭٭٭













