نامور کھلاڑی اب پھل فروش کرینگے!!!

0
29
حیدر علی
حیدر علی

خدا جھوٹ نہ بلائے جب سے میری آنکھیں کھلی ہیں میں پاکستانی ٹیم کا یہی وطیرہ دیکھ رہا ہوں کہ وہ کسی ٹورنامنٹ سے کِک آؤٹ ہونے کے بعد یہی خواب دیکھنا شروع کر دیتی ہے کہ اگر فلاں ٹیم فلاں فلاں ٹیم سے ہار جاتی ہے تو پھر اُن کیلئے جگہ بن سکتی ہے اور وہ شاید سیمی فائنل کا میچ کھیل سکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ بعض کرکٹ کے گرو یہ بھی پیش گوئی کرنے سے باز نہیں آتے کہ اگر آئندہ منگل کے دِن سورج سرخ نکلتا ہے اور بدھ کے دِن چاند پر بادل کے سائے پڑے رہتے ہیں تو کالی داس اپنا کرشمہ دکھاکر پھر پاکستان کیلئے ٹورنامنٹ میں جگہ بنا سکتی ہے۔ لیکن بنگلہ دیش کے جوتشی بھی پاکستانی ٹیم کے ہمدرد ہیں اور عضے میں یہ بیان دیتے ہیں کہ اگر پاکستان کی ٹیم میچ کھیلنے سے قبل اُن کا پھوکا ہوا شربت پی لیتی تو آج یہ دِن نہ دیکھنا پڑتا ۔ لیکن ابھی بھی وقت ضائع نہیں ہوا ہے ، دیر سے آنے اور دوبارہ ٹورنامنٹ میں جانے کی قیمت صرف ایک کروڑ ٹاکا ہوگی۔ وہ ایک ایسا جادو کرینگے جو چاٹگام کی پہاڑی سے گذرتا ہوا کولمبو شہر کے اُس ہوٹل کے سامنے کھوپرے کے درخت پر جو انسان کے کھوپروں کا بھی جائے مقام ہے جاکر اپنا نشیمن بنا لے گا اور آئی سی سی کے ارباب حل و عقد کے دلوں میں پاکستان کی ٹیم کیلئے ایک نرم گوشہ پیدا کردے گا۔ واضح رہے کہ رقم کی ادائیگی کسی بھی کریڈٹ کارڈ سے بھی ہوسکتی ہے۔ اِس لئے پی سی بی والے وقت ضائع نہ کریں۔ اُنہوں نے بہت سارا وقت شہباز شریف کی باتیں سُن سُن کر ضائع کردیں ہیں۔تازہ ترین صورتحال میں پاکستان کی ٹیم یہ آسرا لگا ئے بیٹھی ہے کہ اگر نیوزی لینڈ کی ٹیم سری لنکا اورانگلینڈ دونوں سے ہار جاتی ہے تو اُنہیں پھر ورلڈ کپ کے سیمی فائینل کھیلنے کا موقع مل جائیگا۔ اِس بات کی کوئی بعید نہیں کہ وہ دوبارہ کسی اور ٹیم سے ہار جائے۔ماہرین کرکٹ پاکستان کی انگلینڈ سے شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی کمزوریوں کا پتا لگایا جائے کہ آخر اُن کی اکثریت کیوں کیچ آؤٹ ہو جاتی ہے۔ اب آپ پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا ہی کی مثال لیجئے ۔ اُنہیں کیا شوق منڈلارہا تھا کہ انگلینڈ سے میچ کے دوران اُنہوں نے فیلڈ کو سمجھے بغیر ، گورے کھلاڑیوں کی موجودگی کو نظر انداز کئے بغیر چھکے کی ہِٹ لگادی تھی۔ اُنکا بال بائونڈری کراس نہ کرسکا تھا اور وہ کیچ آؤٹ ہوگئے تھے۔ اِسی طرح انگلینڈ سے میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کی اکثریت کیچ آؤٹ ہوئی تھی اور جو اِس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ پاکستانی کھلاڑی جسمانی طور پر اتنے طاقتور نہیں جیسا کہ ایک کامیاب بیٹسمین کو ہونا چاہیے۔ اول تو وہ چند ہِٹ لگانے کے بعد تھک جاتے ہیں اور کیچ آئوٹ ہوجاتے ہیں۔ اِسلئے ضروری ہے کہ اُن کی جسمانی قوت کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا جائے بلکہ دنیا کی دوسری ٹیموں مثلا”ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کی ٹیم کے کھلاڑیوں سے مقابلہ کیا جائے۔
یہ بات علم میں آئی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیشتر کھلاڑی دوسری جگہ ملازمت دیکھ رہے ہیں اور وہ اپنی قسمت آزمائی کسی دوسرے شعبہ میں کرنا چاہتے ہیں۔ شعیب ملک نے جیتو پاکستان میں میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں اِسی طرح ایک دوسرے سابق کپتان پی آئی اے میں ائیر ہوسٹس کیلئے انٹرویو دی ہے۔ سرفراز احمد کراچی میں ایک ذبیحہ خانہ کھولنے کیلئے کام کر رہے ہیں، اِسی لئے وہ ورلڈ کپ کے دوران اپنی قصاب نامہ کی شکل نہیں دکھائی۔ پاکستان ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم لاہور میں ایک میکڈونلڈ کھولنا چاہتے ہیں۔ لیکن اُنہیں ایک یا متعدد پارٹنرز کی تلاش ہے۔ اُن کے دوست احباب اُنہیں مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پہلے شادی کر لیں پھر کاروبار کریں۔ سلمان علی آغا کی بولنگ اور بیٹنگ دونوں اِن دنوں زیادہ کامیاب نہیں جارہی ہے ، اِسلئے اُنہوں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ کھیل چھوڑ کر کوچنگ کے پیشہ کو اپنائیں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ اُنہیں دبئی کے ایک کلب سے پیشکش ملی ہے۔ اور وہ سنجیدگی سے اُس پر غور کر رہے ہیں.اِدھر بنگلہ دیش کی کرکٹ کے کھلاڑیوں نے بھی پاکستانی کرکٹرز کو امداد کی پیشکش کی ہے اُنہوں نے کہا ہے کہ اُن کے اوپر بھی جب بُرا وقت آیا تھا تو اُنہوں نے مچھلیاں پکڑ کر انگلینڈ بر آمد کرنا شروع کردیا تھا۔ بنگلہ دیش کی ہلسا مچھلی کی ساری دنیا میں مانگ ہے ۔ اِسلئے اگر وہ مچھلی کا کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو اُن سے رابطہ قائم کریں۔ لیکن ایک دو باتیں ذہن نشین کر لیں۔ دریا یا تالاب میں جانے سے قبل اُنہیں تیرنے کا جاننا لازمی ہے ، ورنہ وہ پہلے دِن ہی پانی میں ڈوب جائینگے۔ دوئم یہ کہ اُنہیں مچھیروں کے پیشہ میں آنے سے قبل اُنہیں اپنے چہرے پر کالک مسلنی پڑے گی ۔ کیونکہ بنگلہ دیش کے مچھیروں کی رنگت ہمیشہ کالی ہوتی ہے۔ بادامی یا گورے رنگ کے لوگوں کو وہ بدیسی سمجھتے ہیں.خبر یہ بھی ملی ہے کہ پاکستان کی ٹیم کے مشہور کھلاڑی شاہین آفریدی کراچی کے علاقے لالو کھیت میں پھل فروشی کا کاروبار کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ اﷲ تعالی اُنہیں کامیاب کرے۔
اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا با لآخر اِس امر کا فیصلہ ہوگیا۔ پاکستان کی ٹیم سری لنکا کی ٹیم کو پانچ رنز سے شکست دینے کے بعد بھی ورلڈ کپ کے ایونٹ سے کِک آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان اور انڈیا دونوں کے کھیل کا معیار انتہائی پست رہا تھا ۔ دونوں نے مخالف ٹیم کو پانچ اور دس کے ہندسے کے درمیان شکست دیتی رہی ہے۔ اِسی لئے آئی سی سی نے پاکستان کی ٹیم پر یہ شرط لگادی تھی کہ وہ سیمی فائینل میں جانے کیلئے سری لنکا کی ٹیم کو 147 رنز تک محدود کرے۔ لیکن پاکستان کے کھلاڑی پانچ ، دس یا صفر رن پر آؤٹ ہونا شروع ہوگئے اور اُنکا خواب ادھورا رہ گیا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here