نیویارک (پاکستان نیوز) واشنگٹن ڈی سی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ امیدواروں نے ایران پر حالیہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کے خلاف ایک غیر معمولی متحدہ محاذ قائم کر لیا ہے۔ سابق نائب صدر کملا ہیرس، کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم، اور رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے صفِ اول کے رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی عوام کی مرضی کے خلاف ایک ایسی جنگ چھیڑ رہے ہیں جس کا کوئی واضح مقصد یا اختتامی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ سابق نائب صدر کملا ہیرس نے اپنے ایک سخت گیر بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ ریاستہائے متحدہ کو ایک ایسی جنگ کی طرف گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام ہرگز نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے لڑی جانے والی کسی بھی جنگ کی مخالف ہیں اور صدر کا یہ اقدام محض ایک خطرناک جوا ہے جس سے نہ صرف خطے کا استحکام داؤ پر لگ گیا ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کا وقار بھی مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی طاقت کی علامت نہیں بلکہ “عزم کے لبادے میں چھپی ہوئی لاپروائی” ہے۔ دوسری جانب، کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے اپنی نئی کتاب کی تشہیر کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے دوران صدر ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر نے یہ بحران خود ساختہ طور پر پیدا کیا ہے۔ نیوزوم نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ ایرانی قیادت کے سخت ناقد ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ صدر ٹرمپ امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو ایک غیر قانونی مہم جوئی میں جھونک دیں۔ انہوں نے ٹرمپ پر جھوٹ بولنے اور حقائق چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا کوئی “اینڈ گیم” یا حتمی منطقی انجام واضح نہیں کیا گیا۔ اسی دوران، ترقی پسند حلقوں کی توانا آواز الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے اس تنازع کو آئینی نقطہ نظر سے چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے اہم مذاکرات جاری تھے لیکن صدر ٹرمپ نے بات چیت کا راستہ چھوڑ کر جنگ کا انتخاب کیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، صدر کے پاس نہیں۔ اوکاسیو کورٹیز نے اعلان کیا کہ وہ اس “غیر قانونی جنگ” کو روکنے کے لیے کانگریس میں پیش کی جانے والی ‘وار پاورز ریزولوشن’ کی بھرپور حمایت کریں گی تاکہ صدارتی اختیارات پر لگام ڈالی جا سکے۔









