سینیٹ میں صدرکے جنگی اختیارات محدود کرنیکی قرارداد مسترد ، ڈیموکریٹس کی ناکامی

0
15

واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی ایوانِ بالا میں ڈیموکریٹس اور چند ریپبلکن ارکان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ملکی فوجیوں کی تعیناتی کے اختیارات کو لگام دینے کی تازہ ترین کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ اس قرارداد کے حامیوں کا موقف تھا کہ وہ جنگ کے اعلان سے متعلق کانگریس کی آئینی ذمہ داریوں کو بحال کرنا چاہتے ہیں، تاہم مخالفین نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی جانب سے محدود حملوں کے احکامات قانونی اور ملکی دفاع کے لیے ناگزیر ہیں۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ نے بحث کے دوران کہا کہ یہ کوئی طویل جنگ نہیں ہے بلکہ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ ایوان میں ریپبلکن ارکان کی اکثریت کی وجہ سے اس قرارداد کی کامیابی کی توقع پہلے ہی کم تھی کیونکہ ماضی میں بھی ایسی کوششیں ناکام بنائی جا چکی ہیں۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکی عوام مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ سے تنگ آ چکے ہیں، جبکہ عوامی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بھی بڑی تعداد میں شہری فوجی طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف ہیں۔ دوسری جانب ایوانِ نمائندگان میں بھی ایسی ہی قرارداد پر رائے شماری متوقع ہے، لیکن وہاں کے سپیکر نے بھی اسے فوجیوں کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے مخالفت کا اشارہ دیا ہے۔ اگر یہ قرارداد دونوں ایوانوں سے منظور ہو بھی جائے تو صدر کے ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی جو فی الحال ناممکن نظر آتی ہے۔امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر نے واضح کیا ہے کہ صدر کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد کو ناکام بنانے کے لیے ان کے پاس کافی ووٹ موجود ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایسی قانون سازی سے امریکی افواج کی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور دشمن کے حوصلے بلند ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی مہم کے دوران کمانڈر ان چیف کے ہاتھ باندھنا ایک انتہائی خطرناک اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب قرارداد کے حامیوں کا اصرار ہے کہ صدر کی جانب سے بغیر منظوری کے فوجی کارروائیاں آئین کی خلاف ورزی ہیں۔ ایوان میں جاری اس بحث کے دوران ڈیموکریٹ ارکان نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر ملک کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہے ہیں جس کی عوامی سطح پر شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ عوامی رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے بھی یہ اشارہ ملتا ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد فوجی طاقت کے استعمال پر تحفظات رکھتی ہے۔ اگرچہ ایوان میں اس معاملے پر سخت مقابلہ متوقع ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قرارداد منظور ہو بھی جائے تو صدر کے پاس اسے مسترد کرنے کا اختیار موجود ہے جسے ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here