”پالتو بلیاں”

0
9
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے آجکل لوگ فیشن میں بھی اور نودو لتیے بھی بلیاں گھر میں رکھنا فخر سمجھتے ہیں، پالتو جانور ہمیشہ سے گھروں میں رہے ہیں، آجکل کے کنکریٹ پکے گھر اور حفظان صحت کے اصول اب پالتو جانوروں کے لحاظ سے بھی بدل گئے ہیں، ایک تحریر نظر سے گزری سوچا اس تبدیلی کو اُجاگر کیا جائے، اب آپ اس موضوع سے متعلق مقالہ پڑھیں اور اپنی رائے دیں،اسلام ایسی بلی کو پسند نہیں کرتا جو انسانی صحت، فطرت اور جان کیلئے خطرہ بن جائے۔ایک قریبی عزیز کے گھر گئے تو انہوں نے ایک ایرانی بلی (Persian Cat) پالی ہوئی تھی، بہت خوبصورت، بہت مہنگی مگر نہایت سست اور گھر کے اندر محصور، ہم نے ان سے عرض کیا کہ یہ بلی اتنی سست کیوں ہے؟ ہم نے تو زندگی میں ایسی کوئی بلی نہیں دیکھی اور آپ کے تمام گھر والے اس بلی کی حفاظت کیلئے بہت زیادہ فکر مند ہیں، ہر بچہ بلی کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے، اسے گھر سے باہر نہیں جانے دے رہا، اس حساسیت کی کیا وجہ ہے؟ کہنے لگے، یہ 25 ہزار روپے کی ہے، پچھلے ہفتے غائب ہوگئی تھی، کتنی مشکل سے ملی ہے لہذا اس کی حفاظت بہت ضروری ہے، ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بلی گھر میں رکھی ہوئی ہے تو اس کی خوراک، رفع حاجت وغیرہ کا کیا ہوتا ہے اور باہر جانے پر پابندی کی وجہ سے ہی یہ بلی اس قدر سست ہوگئی ہے، کیا یہ شکار کرکے خود خوراک حاصل نہیں کرتی؟ کہنے لگے نہیں! شکار کا کیا سوال! کچا گوشت کھانے سے اس کے بال جھڑ جاتے ہیں، اسے پکا ہوا گوشت دیتے ہیں اور اکثر بسکٹ دیتے ہیں، وہ بسکٹ اس کیلئے بہت قوت آور ہیں، ہم نے عزیز کی بیٹی سے پوچھا آپ ہر ہفتے اسے کتنے کے بسکٹ کھلاتی ہیں؟ جواب ملا دو سو روپے کے، ہم نے اگلا سوال کیا بیٹی! کبھی آپ نے کسی غریب بچی کو اپنی زندگی میں دو سو روپے کے بسکٹ کھلائے ہیں؟ بچی کے چہرے پر شرمندگی کے آثار نمایاں ہوئے اور وہ فورا گھر کے اندرونی حصے میں چلی گئی، ہمارے عزیز نے بلی کی سستی کا راز انجکشن بتایا، کہنے لگے بلی اچھلنے کودنے، پنجے مارنے، پنجے رگڑنے، صاف کرنے والا جانور ہے لہذا گھر کے سامان اور صوفوں کے کپڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، برتن گرا سکتی ہے لہذا اس کے تحرک کو ختم کرنے کیلئے ہر پندرہ دن میں ایک انجکشن لگادیا جاتا ہے تاکہ یہ غیر متحرک ہوجائے اور گھر میں کوئی نقصان نہ پہنچائے، ہم نے عرض کیا تو یہ رفع حاجت کہاں کرتی ہے؟ انہوں نے ایک برتن کی طرف اشارہ کیا جس کے ساتھ پانچ کلو ریت کا ایک تھیلا تھا، ہم نے عرض کیا یہ کیا ہے؟ کہنے لگے یہ بلی کے پیشاب پاخانے کو اپنے اندر سمو لینے والی خاص ریت ہے جو بلی کے بول وبراز کے تمام اثرات و جراثیم جذب کرلیتی ہے، ہم نے عرض کیا اس کی بدبو بھی کھینچ لیتی ہے؟ شرما کر کہنے لگے نہیں! بدبو تو آتی ہے، ہم نے عرض کیا کہ اس بند گھر میں آپ نے بلی کو بند رکھا ہوا ہے اور یہیں یہ بول و براز کر رہی ہے تو کیا گھر کے ماحول پر کوئی اثر نہیں پڑتا؟ اس کا حل انہوں نے یہ بتایا کہ دو بوتلیں ہیں، ایک خوشبو کے اسپرے کی بوتل، ایک جراثیم کش اسپرے کی بوتل، جیسے ہی بلی اجابت کرلیتی ہے، جراثیم مارنے والا اسپرے کر دیتے ہیں اور بدبو کے خاتمے کیلئے خوشبو والا اسپرے کر دیتے ہیں، ہم نے عرض کیا جدیدیت میں علم میں اضافہ اسی طریقے سے ہوتا ہے، ایک قدرتی فطری بلی خود اپنی خوراک تلاش کرتی ہے، خود مٹی کھود کر پیشاب پاخانہ کرتی اور رفع حاجت کے بعد اس پر مٹی، ریت ڈال دیتی ہے، متحرک رہتی ہے جو اس کی صحت کا راز ہے مگر جب بلی کو فطری زندگی سے کاٹ کر گھر کا قیدی بنایا گیا، Domesticate کیا گیا تو اب یہ بلی علم میں اضافے کا سبب ہے، دھوپ سے محرومی کے باعث اس میں جوئیں ہوتی ہیں، اس کا بھی اسپرے آپ لاتے ہوں گے، اس کے بال کٹوانے خاص حجام کے پاس پارلر لے جاتے ہوں گے، اسے سست کرنے کیلئے انجکشن لگواتے ہوں گے، اس کی خوراک کیلئے بسکٹ خریدتے ہیں، رفع حاجت کیلئے خاص ریت خرید رہے ہیں، اس کے علاج معالجے کیلئے ڈاکٹر کلینک موجود ہے تو ایک بلی کو فطرت سے کاٹنے، قیدی بنانے کے نتیجے میں کتنے سارے علم برآمد ہوئے، اس کی خدمت کیلیے پورا سروس سیکٹر وجود میں آیا، جدیدیت میں علم میں روزانہ اضافہ اسی طرح اور اسی طریقے سے ہوتا ہے، روایتی تہذیبوں میں بلی سے متعلق علوم آپ کو سرے سے نہیں ملیں گے کیونکہ فطری ماحول میں فطری طریقے سے پلنے والی بلی کیلئے تمام خدمات اللہ تعالی کی فطری کائنات میں مہیا کرنے کیلئے تمام ذرائع موجود تھے، جدیدیت نے بلی کو فطرت سے کاٹ کر اربوں کھربوں کی صنعت پیدا کر دی، جہاں بلی کیلئے تحقیق ہو رہی ہے اور نت نئے پرفیوم، اسپرے، انجکشن، دوائیاں مسلسل ایجاد ہو رہی ہیں، اس کا نام علوم جدیدہ اور ان علوم میں مسلسل ارتقا تمام روایتی تاریخی تہذیبیں اور اسلامی علمیت اور تاریخ اس قسم کے علوم سے نابلد ہے، ہماری گفتگو سن کر وہ متاثر تو ہوئے مگر کہنے لگے کہ دیکھیں اب ہم سب کو یہ بلی پسند ہے، بہت محبت کرتی ہے تو کیا بلی پالنا ٹھیک نہیں!احادیث میں تو بلی کے بارے میں بہت روایتیں بھی آئی ہیں، ایک صحابی کا بھی بلیوں سے خاص تعلق تھا، ہم نے عرض کیا ،اس بلی کا تعلق فطرت سے تھا، آپ کی بلی کا تعلق صنعت (Industry) سرمایہ (Capital) اور مارکیٹ (Market) سے ہے، یہ بلی آپ کی اور گھر والوں کی صحت کیلئے عظیم خطرہ ہے، گھر میں بلی پالنے سے کس قسم کی بیماریاں انسانوں کو ہوتی ہیں، کس قسم کے Infection ہوتے ہیں، کیسے دمہ لگتا ہے اس پر ہزاروں صفحات کی تحقیقات اور بے شمار دوائیاں ہیں، پہلے لوگ بلی پالتے تھے، ہم بلی کو قید کرتے ہیں، مسئلہ قیدی بلی ہے، ایک بلی کو گھر میں قید کرنے اور آپ کی خواہشِ نفس کو پورا کرنے کیلئے اربوں کھربوں روپے کی صنعت وجود میں لائی گئی ہے، اسلام ایسی بلی کو پسند نہیں کرتا جو انسانی صحت، فطرت اور جان کیلئے خطرہ بن جائے، وہ فطری بلی کو پسند کرتا ہے جو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور فطرت اس کی تمام ضروریات کا خود اہتمام کرتی ہے، یہاں تو ہر ضرورت کیلیے سرمایہ کی ضرورت ہے، ہر چیز بازار سے آتی ہے، ہر کام کا مقصد منافع میں اضافہ ہے، اللہ تعالی نے قرآن میں بار بار واضح فرمایا ہے کہ وہ مخلوقات جن کے رازق تم نہیں ہو ہم ہیں، ان کی بھوک مٹانے کیلئے تمام ضروریات ہم نے مہیا کی ہیں، ہم نے اندازے سے اس زمین پر مخلوقات کیلئے سب کچھ پیدا کردیا ہے، ان کی تمام ضروریات ہم نے اس کائنات میں رکھ دی ہیں، بلی صدیوں سے گھروں میں ہے مگر بلی سے نہ کسی کو بیماری ہوتی تھی، نہ اس بلی کیلئے خوراک کے انتظام کی ضرورت تھی، نہ اس بلی کیلئے کسی ڈاکٹر کی ضرورت تھی، نہ اس بلی کی صحبت سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج کرنے کیلئے ڈاکٹر تھے، سب کچھ فطرت کے مطابق چل رہا تھا، بلی اور انسان مل جل کر فطری زندگی گزارتے تھے، جب غیر فطری زندگی بلی اور انسان نے بسر کرنا شروع کی، بلی پر تو غیر فطری زندگی مسلط کی گئی لہذا فطرت سے بغاوت کا نتیجہ اور انجام یہ ہے کہ ہر شخص بیمار ہے۔
محترم قارئین آپ کوء بھی جانور گھر میں رکھیں، اس سے متعلق حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھیں اور اپنا اور گھریلو جانوروں کا بھی خیال رکھیں۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here