سہیل آفریدی واقعی عجیب بندہ ہے ، اتنا عجیب کہ بندہ سوچے یہ بھی کوئی طریقہ ہے، بھئی کراچی جانا تھا تو کم از کم وزیرِ اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر میں بیٹھتے آگے پیچھے سائرن پروٹوکول کالے شیشے اور دو ،چار گاڑیاں یوں لگتیں جیسے کوئی غیر ملکی دورہ ہو مگر نہیں موصوف نے تو سیدھا جہاز کی اکانومی کلاس میں ٹکٹ کٹوایا وہی اکانومی کہ جس میں سیٹ کے آگے بیٹھا شخص کرسی پیچھے کرے تو انسان کا ایمان آگے نکل جاتا ہے اور اوپر سے ظلم یہ کہ کراچی جا کر اشرافیہ سے بھی نہیں ملے نہ کسی ڈرائنگ روم کی رونق بڑھی نہ کسی لان میں چائے ٹھنڈی ہوئی ہم تو سمجھے تھے کہ شاید فریال تالپور کی لے پالک بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے جا رہے ہوں گے آخر ایسا موقع روز روز کہاں آتا ہے جہاں فیلڈ مارشل بھی موجود ایک آدھ ہیلو ہائے ہو جاتی زرداری صاحب تو دلہے کے پاس بٹھا کر تصویر بھی بنوا دیتے تاریخ بن جاتی فریم لگ جاتا مگر نہیں جناب یہ تو سیدھا حیدرآباد نکل گئے اور تو اور گٹر کے ڈھکن لگانے والے ”فکس اٹ ”کو اپنی گاڑی کی چھت پر کھینچ کر اوپر لے گئے اب بتائیے، یہ بھی کوئی سیاسی حکمتِ عملی ہے ،ہمارے ہاں تو لوگ چھت پر صرف الیکشن کے دنوں میں چڑھتے چڑھاتے ہیں ،وہ بھی نعرے لگانے کے لیے کام کرنے کے لیے نہیں اور عجیب پن کی انتہا یہ کہ مقتدرہ کو للکار رہے ہیں بھئی کیا خوف نہیں آتا یہاں تو زیادہ بولنے والے کی زبان کو لگام ڈال دی جاتی ہے اور کبھی کبھی لگام کے ساتھ گھوڑا بھی غائب ہو جاتا ہے مگر یہ صاحب ہیں کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اوپر سے عشق عمران میں مر جانے کے دعوے واللہ عجیب شخص ہے پھر قصہ یہ ہوا کہ پہلے باغِ جناح میں جلسے کی اجازت اپنے آپ کو جمہوری شو کرنے کے لیے دے دی گئی ،وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات بھی طے تھی، سب نے سکھ کا سانس لیا مگر جب عوام کا والہانہ رویہ دیکھا اور یہ کہ لوگ توMotivated ہیں کہیں اوپر سے ڈانٹ ڈپٹ آئی اور پولیس نے جلسے کی جگہ پر رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں تا کہ اب لوگ واپس چلے جائیں مگر یہ کراچی ہے جناب والا لوگ تو فائرنگ ہو رہی ہو تو دیکھنے پہنچ جاتے ہیں یہاں تو خان کا جلسہ تھا عام عوام تو سمندر کی طرح نکل آئے اب بتائیے بہائو کے آگے کوئی ٹھہرا ہے کیا جلسہ ہونا تھا اور ہوا جس سے ظاہر ہوا کہ کراچی خان کا ہے ،کراچی نے فارم سینتالیس والوں کا پول کھول دیا آج بلٹ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور بیلٹ دکھا دیا کہ ایسے نکلتے ہیں ایسے ڈٹتے ہیں کراچی والو زندہ باد۔ تم لوگوں نے مرشد کی رشد کو سچا کر دکھایا کہ کوشش کرنا ہم پر فرض ہے، ہار جیت اور عزت وہی دیتا ہے جو سب سے اونچی ذات ہے جو سب سے افضل ہے جو سب سے بڑا ہے اور سہیل آفریدی بھی خان کی طرح اللہ کا ایک عجیب بندہ ہے ،پریس کانفرنس میں جب ایک صاحب نے بڑے معصوم لہجے میں پوچھا کہ آپ تو بڑے معتدل مزاج نکلے ہم تو سمجھے تھے آپ بڑے غصیلے ہوں گے تو سہیل آفریدی نے بھی مسکرا کر ایسا جواب دیا کہ سوال کرنے والا خود ہی اپنے سوال پر شرما گیا جواب آیا کہ ہمارے استاد مراد سعید ہیں اور مرشد عمران خان ایسے ہی تو ہم یہاں تک نہیں پہنچ گئے اب اس جملے کے بعد غور کریں کہ مراد سعید کی شاگردی جہاں آواز بلند ہو مگر نیت صاف ہو اور عمران خان کی مریدی جہاں ڈٹ جانا سکھایا جاتا ہے بک جانا نہیں ایسے استاد ہوں اور مرشد کامل ہو تو بندہ یا تو بالکل خاموش ہو جاتا ہے یا پھر سیدھا نظام کے اعصاب پر ہاتھ رکھ دیتا ہے سو جنہیں خون خوار اور غصیلا لیڈر چاہیے، وہ اب بھی کسی بلاول ہائوس یا کسی پروٹوکول زدہ شادی میں ڈھونڈتے پھریں یہاں تو ایک ایسا عجیب شخص کھڑا ہے جو اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے ،گٹر کے ڈھکن لگانے والے کو عزت دیتا ہے اور مائیک کے سامنے کھڑے ہو کر سچ بولتا ہے واقعی عجیب لوگ ہیں یہ نہ ڈرتے ہیں ،نہ بکتے ہیں، نہ تصویروں کے شوقین ہیں ،بس مسئلہ یہی ہے کہ ایسے لوگ اس گندے نظام کو ہضم نہیں ہوتے اور اسی لیے عوام کو بہت پسند آ جاتے ہیں،ہیں ناں عجیب لوگ۔
٭٭٭
















