فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! حضور محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ نے آپ کی منقبت لکھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کے شاگرد بھی ہیں اور تمام سلاسل میں خلافت بھی آپ کو ملی ہے تو مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو بہت کچھ ہے بس چند اشعار یہاں پر ذکر کئے جاتے ہیں تاکہ برکت حاصل حاصل ہوسکے۔
کیاں کہوں میں ہائے کیا جاتا رہا۔۔۔آہ دل کا حوصلہ جاتا رہا
سینوں کا دل نہ بیٹھے کس طرح۔۔۔زور ان کے قلب کا جاتا رہا
غوث اعظم، قطب عالم کا غلام۔۔۔ نائب شاہ رضا جاتا رہا
یوں آپ رضی اللہ عنہ نے ایک لمبی منقبت ارشاد فرمائی ہے اور خود واضح کیا کہ محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ نائب اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ ہیں کہیں شاگرد استا ذکر، کہیں بیٹا باپ کو اور کہیں مرید پیر کو لقب دیتا ہے لیکن حضور محدّث اعظم رضی اللہ عنہ کی شان اور عظمت کا کہنا کہ القابات استاذ اور پیر مرشد کی طرف سے حاصل ہو رہے ہیں اور منقبت میں یہ بھی فرمایا محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ کیا گئے زندگانی کا مزہ جاتا رہا ، حامی دین خدا، علم کا دریا، زور دل میرا، عالم علم ہدٰی، محدّث بے مثال جس کا ثانی ہی نہ تھا۔ استاذ شفیق، محقق، فقیہ، مایہ لطف وعطا، پاک باطن، پاک طینت، پاکباز، جمال اصفیائ، مرقع جال و حسن، نگار اولیائ، خوش خصال، خوش فعال، خوش ادا، خوش نماوخوش لقا، لطف سارا دس کا آرائے سر پر علم، صدر دین مصطفیٰ، گنج بخش علم اور مظہر احمد رضا رضی اللہ عنہ جاتا رہا۔ اب اس میں کیا شک ہوسکتا ہے کہ جو مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ نے فرما دیا، اللہ تعالیٰ جلّ مجدہ الکریم نے آپ رضی اللہ عنہ کو ایسی بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا کہ بس اللہ ہی جانتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کیا تھے؟ جس جس میدان میں بھی آپ نے قدم رکھا نمایاں کامیابیوں نے آپ کے قدم چومے۔ آپ بیک وقت محدّث، محقق، مفتی، فقیہ، مصنّف، مدرّس، مہتمم، منتظم، پیرطریقت، رہبر شریعت، صحیح معنوں میں مناظر، خطیب اور ادیب تھے ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ جاگیردار، سخی اور جرات مند قاضی بھی تھے ولایت کے ایسے درجے پر فائز تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی کرامات کا ظہور احباب نے آنکھوں کے سامنے دیکھا بہرحال آپ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت سے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شجاعت وبہادری سے وافر فیضان موجود تھا جس کی بنا پر کوئی بھی باطل پرست، بددین اور بدمذہب آنکھیں اٹھا کر آپ سے بات نہیں کرسکتا تھا۔ دنیا میں جتنے بھی علمی و روحانی مراکز ہیں۔ سب میں آپ کا علی و روحانی فیضان بالواسطہ یا بلاواسطہ تقسیم ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ اخلاص وللّٰہبت کے مرکز ومحور تھے۔ عشق مصطفیٰ ۖ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا حدیث مبارکہ پڑھانے کا جو موثر انداز اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا تھا اپنی مثال آپ تھا۔ کہ جہاں نبی پاک ۖ کے خوشی کے اظہار کا ذکر ہوا وہاں باقاعدہ پورے اہتمام سے اسی انداز کو خود بھی اپنایا اور تمام طلباء کو بھی فرمایا کہ نبی پاک ۖ کی سنت مبارکہ علماً ادا کرو۔ اور حدیث مبارکہ میں جہاں کہیں نبی پاک ۖ کے اظہار غم کا تذکرہ آیا وہاں رکے، چہرے پر غمگینی کے آثار لائے اور اگر آنسوئوں کا تذکرہ آیا وہاں عملی طور پر آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں کوئی بناوٹ نہیں کوئی فراڈ نہیں کوئی دھوکہ نہیں بس نبی پاک ۖ سے بے پناہ محبت اور والہانہ عشق کا علمی اظہار تھا۔ اور طلباء کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا یہ بھی طرہ امتیاز رہا ہے کہ مکمل درس نظامی بد مذہبوں سے پڑھ کر آنے والا طالب علم صرف حدیث مبارکہ پڑھنے کیلئے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ نہ صرف صحیح العقیدہ سنی بریلوی ہوا بلکہ رہتی زندگی تک آپ رضی اللہ عنہ کے صدقے نبی پاک ۖ کا سچا غلام بن گیا اور ساری زندگی آپ رضی اللہ عنہ کا شکر گزار رہا پھر کسی بھی پیر کار مرید آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھنے کے لئے آیا بس آپ کی زیارت اور آپ کے انداز تدریس نے اسے ساری عمر اپنا گرویدہ کرلیا اس کی بے شمار مثالیں دیکھنے والوں کیلئے موجود ہیں۔ یہ محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ کا فیضان پوری دنیا میں عام بٹ رہا ہے۔نائب محدّث اعظم پاکستان ، شمس المشائخ، پیرطریقت رہبر شریعت، رہنمائے اہل سنت قاضی محمد فضل رسول حیدر رضوی رضی اللہ عنہ نے تقریباً ساڑھے سال اسکی تقسیم فرمائی۔ اب قاسم فیضان محدّث اعظم پاکستان، قائد ملت اسلامیہ، پیرطریقت رہبر شریعت، منبع رشد وہدایت، فخرالمشائخ صاحبزادہ قاضی محمد فیض رسول حیدر رضوی، دام فیوضہ، تقریباً پندرہ سال سے سجادہ نشین آستانہ عالیہ محدّث اعظم پاکستان ہیں۔ جو پورے اخلاص وللّہّت سے اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ اہل سنت وجماعت کے سروں پر تادیر صحت وعافیت سے قائم دائم رکھے(آمین ثمہ آمین)۔
٭٭٭٭٭٭











