واشنگٹن امریکہ کا کیپٹل ہونے کی حیثیت سے ہر وقت بریکنگ نیوز کا مرکز رہتا ہے جب سے ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کے منصب پر ہیں نہ صرف امریکہ میں بلکہ پوری دنیا میں فائز ہوئے سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ 2025 کا سال احتتام پذیر ہوا پاکستان امریکہ تعلقات میں بہتری آئی پاکستان نے انڈیا کو شکست دی جنگ بندی امریکہ نے کروائی پاکستان نے انڈیا کے جدید ترین طیارے تباہ کردیئے اس دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر امریکی میڈیا پر کئی اہم انٹرویو دیئے اور پاکستان کا نقطہ نظر انتہائی اچھے انداز میں پیش کیا۔ سفیر صاحب کو منصب سفارت سنبھالے ہوئے ڈیڑھ سال ہوچکا ہے لیکن پاکستانی میڈیا سے تین یا چار دفعہ باقاعدہ ملاقات کی ان میں دو ملاقاتیں آن دی ریکارڈ تھیں ان کا ذکر نہیں کریں گے لیکن دو ہفتے قبل سفیر صاحب نے پاکستانی میڈیا کو سفارت خانہ میں دعوت دی یہ ملاقات میڈیا بریفنگ دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پریس منسٹر صاحب کے مطابق سفیر صاحب کی تقریر ہوگی وہ آن دی ریکارڈ ہوگی اور دوسرا سیشن سوال جواب کا آف دی ریکارڈ ہوگا لیکن سفیر صاحب نے بڑی دلیری سے کہا کہ سوال جواب ہونگے سفیر صاحب 2025 کی ترقی کے مناظر بیان کئے اور اعداد شمار کے ذریعے پاکستان میں سب اچھا ہو رہا ہے کی منظر کشی کی جس طرح کی منظر کشی کی گئی اس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ہر طرف اچھا ہے۔ کئی صحافیوں نے سفیر صاحب کی پسند کے سوال کئے جن کا جواب اچھے انداز میں دیا گیا اس موقع پر ہم نے دو تین سوال داغ دیئے کہ سفیر صاحب اس طرح کی میٹنگز یا تو آج والے سفیر صاحب کرتے ہیں یا جانے والے سفیر صاحب نے نہایت مہارت سے جواب دیا کہ بتیس سالہ نوکری میں ہر وقت اپنا بیگ تیار رکھتے ہیں دنیا میں کہیں بھی سرکار بھیج سکتی ہے اس جواب سے ظاہر ہوا کہ سفیر صاحب کی روانگی قریب ہے اس کے بعد سفیر صاحب کو یہ عرض کی آپ نے 2025 کو کامیابیوں کا سال قرار دیا اس میں آئی ایم ایف نے پاکستان میں پانچ ہزار تین سو ارب روپے کرپشن رپورٹ دی اس پر بات نہیں ہوئی۔ پچاس سے زیادہ اراکین امریکی کانگریس نے امریکی سیکرٹری مارک روبیو کو پاکستان میں انسانی حقوق خلاف ورزیوں اور سابق وزیراعظم کو جیل میں رکھنے پر خط لکھا ہے اس پر بھی آپ نے بات نہیں یہ کامیابیاں ہیں یا ناکامیاں تو ان سوالات کے جواب بھی دیئے سفیر صاحب نے امریکہ پاکستان تعلقات میں بہتری ہر بڑی خوشی کا اظہار کیا جب پاکستانی امریکن کے احتجاج پر بات کی تو سفیر صاحب کا موقف یہ تھا کہ یہ لوگ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے اس پر گزارش کرتے چلیں کہ سفیر صاحب کو مکمل طور پر پاکستانی میڈیا پر انحصار کرنے کی بجائے تھوڑی سی توجہ سوشل میڈیا پر بھی دینے کی ضرورت ہے کیونکہ پورے امریکہ میں عمران خان کے ووٹر اور سپورٹر زیادہ ہیں اور ان اوورسیز پاکستانیوں کے احتجاج کو غلط رنگ دیا جاتا ہے۔ یہ اوورسیز پاکستانی نہ تو پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں نہ ہی پاک فوج کو برا بھلا کہتے ہیں۔ حکومت پاکستان اور جو لوگ بگاڑ پیدا کر رہے ہیں صرف ان کی غلط پالیسیوں کے خلاف بات کرتے ہیں سفیر صاحب کو اپنی بریفنگ میں اوورسیز پاکستانیوں کے مطالبات پر بھی بات کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ اوورسیز پاکستانی ہر ماہ اربوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں جس سے پاکستانی معیشت میں بہت بڑا حصہ ڈال رہے ہیں۔آخر میں یہی عرض کرتے چلیں سفیر صاحب کی میڈیا سے بات چیت سے حکومت پاکستان کا موقف جاننے کا موقع ملا آئندہ توقع کرسکتے ہیں کچھ اوورسیز پاکستانیوں کے موقف کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
٭٭٭٭٭












