میرے پیارے ملک پاکستان کے راولپنڈی شہر کے اڈیالہ جیل کو ایسی بین الاقوامی شہرت حاصل ہو گئی ہے کہ شاید ہی کوئی دوسرا قید خانہ اس کا مقابلہ کر سکے۔ اس جیل میں دنیا کا مشہور ترین قیدی، عمران خان پابندِ سلاسل ہے۔ قیدِ تنہائی کے یہ دن اس کیلئے یقینا مشکل ہونگے لیکن اس کی یہ نظر بندی، پورے پاکستان کیلئے ایک عجب عذاب بنی ہوئی ہے۔ بلاشبہ اس کا آزادی کا نظریہ ایک اختلافی مسئلہ ہے لیکن اس کے ساتھ اس کے وکیلوں اور بہنوں کی ملاقاتوں پر پابندی، بنیادی انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزی ہے جسے نظر انداز کرنا، انسانیت کے مستقبل کیلئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جمیلہ خدا بخش کے الفاظ میں،سمجھ کے ظلم کرو اے بتو خدا بھی ہے تمہارے جور و جفا کی کچھ انتہا بھی ہے
پچھلے ہفتے عمران خان کی بہنوں نے جیل کے دیواروں کے باہر، بھائی سے ملاقات کا انتظار کرتے ہوئے، تلاوتِ قرآن کا اہتمام کیا۔ ہاتھوں میں قرآن تھامے ہوئے عام لوگ خان کی قیدِ تنہائی پر سراپا احتجاج تھے۔ انکے اضطراب کے یہ مناظر ساری دنیا نے بڑے دکھ اور تکلیف سے دیکھے۔ اب تشویش یہ ہے کہ عمران خان کی حمایت کرنے والے، عدالتوں سے بھی مایوس نظر آتے ہیں۔ اس کیفیت کا اگلا مرحلہ تو عام طور پر تشدد ہوتا ہے۔ دعا ہے کہ اربابِ اختیار، نظریہ کا مقابلہ نظریہ سے ہی کریں گے اور جمہور کی آواز اور رائے کو اہمیت دیتے ہوئے، سیاسی استحکام کا اہتمام کریں گے۔ بشیر دہلوی کے یہ الفاظ موجودہ کیفیت کی نمائندگی کر رہے ہیں!
شوق سے ظلم کرو شوق سے دو تم آزار
یہ سمجھ لو مجھے بھی نوحہ گری آتی ہے
اللہ کا شکر ہے کہ امریکہ جیسی عظیم طاقت، اس کڑے وقت میں پاکستان کی مقتدرہ کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے۔ اس طرح ہماری معیشت کو IMF جیسے مصنوعی سہارے دستیاب ہیں جن کی بدولت بڑے شہروں میں مکین اشرافیہ کافی خوشحال ہے۔ اس خوشحالی کے اثرات شہروں کے مزدور طبقے تک بھی کچھ پہنچ جاتے ہیں۔ خیرات اور بھیک کی صورت میں نادار طبقہ بھی اپنا چولہا جلائے رکھتا ہے۔ دیہات کی صورتحال البتہ کچھ زیادہ ہی دگر گوں ہے۔ حبیب جالب کے مطابق،
کہاں نگہ سے گزرتے ہیں دکھ بھرے دیہات
حسین شہروں کے ہی غم میں مبتلا ہم ہیں
امریکی سپر پاورکو آجکل تو پاکستان کی اشد ضرورت ہے لیکن اپنے مقاصد کے حصول کے بعد کسی وقت بھی وہ اپنی نظریں پھیر بھی سکتی ہے۔ ایسا چونکہ پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکا ہے، اس لئے اس وقت سے سب خائف ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی عوام کے تیور بھی اس مرتبہ کچھ زیادہ خطرناک لگ رہے ہیں۔ ہمیشہ مقتدرہ کی غیر مشروط حمایت کرنے والے کچھ تذبذب کا شکار نظر آرہے ہیں۔ سپر پاور بھی فلسطین اور افغانستان کیلئے پاکستانی مدد کی خواہاں ہے۔ دونوں مقامات، ایسی حساسیت کے حامل ہیں کہ سیاسی عدمِ استحکام کی موجودگی میں مقتدرہ سپر پاور کی کچھ زیادہ مدد شاید نہ کر پائے۔ اپنے دور میں، حبیب جالب تو سیاست سے خاصے مایوس تھے اور اسی لئے تو کہا تھا کہ!
کراہتے ہوئے انسان کی صدا ہم ہیں
میں سوچتا ہوں مری جان اور کیا ہم ہیں
تباہیوں کو مقدر سمجھ کے ہیں خاموش
ہمارا غم نہ کرو درد لا دوا ہم ہیں
٭٭٭













