اسلامی تاریخی واقعات!!!

0
10

حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا تو حضرت موسی علیہ السلام کو بھی پانی میں ڈالا گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام مصر میں تھے تو حضرت موسی علیہ السلام بھی مصر میں تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے محل میں زندگی گزاری تو حضرت موسی علیہ السلام نے بھی فرعون کے محل میں پرورش پائی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو اٹھانے والوں کی بھی اولاد نہیں تھی اور حضرت موسی علیہ السلام کو اٹھانے والوں کی بھی اولاد نہیں تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو اٹھانے والوں نے کہا: عس ان ینفعنا او نتخِذہ ولدا کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ (سورت یوسف: 21) حضرت موسی علیہ السلام کو اٹھانے والوں نے بھی کہا: عس ان ینفعنا او نتخِذہ ولدا کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ (سورت قصص:9) حضرت یوسف علیہ السلام کو اٹھانے والوں کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا: لا یعلمون وہ جانتے نہیں حضرت موسی علیہ السلام کو اٹھانے والوں کے بارے میں بھی کہا: لا یشعرون انہیں انجام کا پتہ نہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا: اقتلوا یوسف یوسف کو قتل کر ڈالو۔ حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں فرعون نے کہا: ذرونِی اقتل موس مجھے چھوڑو تاکہ میں موسی کو قتل کر دوں۔ (سورت قصص:26) حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ایک چال چلی اور وہ ناکام ہوئی ۔ فیِیدوا ل ید (اے یوسف!) وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے۔ حضرت موسی علیہ السلام کے خلاف بھی پرورش کرنے والوں نے چال چلی اور ناکام ہوئی: وما ید الافِرِین ِلا فِی ضلال اور کافروں کی چال کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی جیل میں ایک دوست مل گیا تھا جو بعد میں جیل سے نکالنے کا سبب بنا۔ حضرت موسی علیہ السلام کو بھی ایک دوست مل گیا تھا جو مصر سے مدین کی طرف نکالنے کا سبب بنا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا تھا، حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں بھی کہا کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن دے کر اور حضرت موسی علیہ السلام کو طاقت دے کر آزمایا گیا۔ اتنی گہری مناسبت کے باوجود جب حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون اور اس کے ماننے والوں کو دعوت دی تو انہوں نے کہا!
فرعونیوں کی اس بات سے ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے وہ سچ بول رہے ہوں اور واقعی انہیں کچھ پتا نہ ہو اور ان کے باپ دادوں میں کوئی نبی نہ آیا ہو۔ لیکن سورت مومن کی آیت نمبر 34 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ موسی علیہ السلام پر ایمان لانے والے ایک شخص نے فرعونیوں سے کہا: و لقد جآم یوسف مِن قبل بِالبیِنتِ فما زِلتم فِی ش مِما جآم بِہ-حت اِذا ہل قلتم لن یبعث اللہ مِن بعدِہ رسولا-ذلِ یضِل اللہ من ہو مسرِف مرتاب اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے یوسف تمہارے(آبا و اجداد) کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے۔ تب بھی تم ان کی لائی ہوئی باتوں کے متعلق شک میں پڑے رہے۔ پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا کہ ان کے بعد اللہ اب کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ان تمام لوگوں کو گمراہی میں ڈالے رکھتا ہے جو حد سے گذرے ہوئے، شکی ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ ! کیا ہی خوبصورت انداز ہے! کیا ہی خوبصورت تدبیر ہے ہمارے رب کی! کیا ہی عمدہ طریقے سے قافلہ خیر کی کڑیاں جڑتی ہیں! وقت محدود ہے، قرآن سمندر ہے، موتی بے شمار ہیں، کیسے اور کس کس پہلو سے قرآن میں غور کریں؟ کاش دنیا میں اور کوئی مصروفیت نہ ہوتی، بس صرف رب کے کلام میں غور و فکر کرنا ہوتا۔ اے قرآن اتارنے والے کریم رب! جنت میں ہمیں ضرور اپنے کلام کے مفاہیم سمجھائیے گا تاکہ ہم اس بحر ناپیدا کنار سے سیراب ہو سکے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here