کراچی! یہ کیسا شہر ہے!!!

0
9
رعنا کوثر
رعنا کوثر

کراچی!
یہ کیسا شہر ہے!!!

قارئین کرام کچھ عرصے پاکستان میں قیام کیا اور اس لئے غیر حاضری رہی نو دسمبر کا خوبصورت مہینہ پاکستان میں گزرا اور جب یہ مہینہ کراچی کے بہترین مہینوں میں سے ایک ہوتا ہے نہ سردی ہوتی ہے نہ گرمی اور سردی بھی کچھ ایسی گلابی کے محسوس بھی نہ ہو۔ صبح اور شام ہلکی سی شال اوڑھی اور باقی وقت اس کی بھی ضرورت نہیں تھی ایسے میں یہ خیال دل میں آیا کے اتنا خوبصورت موسم چھوڑ کر ہم کیوں امریکہ کے اس پیارے شہر نیویارک میں آگئے۔ کیونکہ جب ہم واپس یہاں پہنچے تو شدید سردی اور طوفان کا زور تھا،مگر زندگی میں سب کچھ نہیں ملتا جب ہماری گاڑی یہاں کی سڑکوں پر رواں دواں تھی تو حبس سبک دنتاری سے گاڑی چل رہی تھی تو ہم کو کراچی کی سڑکیں یاد آرہی تھیں کراچی روشنیوں کا شہر کراچی پڑھے لکھے لوگوں کا شہر کراچی محنت کش لوگوں کا شہر کراچی میں آنے کے بعد کوئی بھوکا نہیں رہتا۔ ہر طرح کا کام ملتا ہے دوکانیں مال، ہر گھر میں ماسی کی کی ضرورت کام ہی کام مخیر حضرات کی کمی نہیں ہر وقت دستر خوان کا انتظام غریب غرباء لائن لگائے کھانے لیتے رہتے ہیں۔ ایسے شہر میں جہاں رکشہ اور موٹرسائیکل ہی نہ صرف روزگار کا ذریعہ ہیں بلکہ ہزاروں لوگ اس کے ذریعے اپنی صحافت طے کرتے ہیں ہم کو بھی پاکستان جاکر رکشے کی سواری میں بہت مزا آتا ہے۔ ایک تو ہر جگہ آسانی سے مل جاتے ہیں پھر چھوٹی چھوٹی گلیوں سے بھی گزر جاتے ہیں اور ہوا بھی لگتی ہے شہر بھی دکھتا ہے گاڑی میں تو امریکہ میں ہی بیٹھنے کا مزا ہے۔ بلکہ گاڑی چلا چلا کر اس کا مزا ہی ختم ہوگیا ہے بہرحال ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ہم نے رکشہ کو ہی بیڑ جاتا اور اسی میں سفر کرنے کی کوشش کی مگر اس دفعہ بڑی مایوسی ہوئی کراچی کی سڑکیں نہ جانے کیوں کھود کر ڈال دی گئی ہیں۔ ان سڑکوں پر رکشہ میں جانے کا مطلب ہے کے آپ گھر ایک دن تو رکھے ہوئے جسم کے ساتھ پڑے رہیں۔ ہم کو رکشہ والوں پر بہت رحم آیا دن بھر ان سڑکوں پر رکشہ چلانے کے بعد شام کو نہ جانے کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ اس کے بعد تو ہم نے رکشے میں نہ بیٹھنے کا کئی دفعہ سوچا مگر پھر بھی رکشے میں ہی مزا آیا۔ موٹرسائیکل ایک متوسط خاندان کے لئے نعمت ہے آرام سے فیملی کو لے کر گھوم پھر سکتے ہیں مگر ان سڑکوں پر موٹرسائیکل چلانا بھی آسان نہیں ہے۔ نیویارک پہنچ کر شکر ادا کیا کے گاڑی چلانے والے بھی گاڑی میں بیٹھ کر ناشکراپن کرتے ہیں ابھی پاکستان جائیں تو پتہ چلے کے سڑکیں کیا ہوتی ہیں صرف ایک مسئلہ نہیں ہے گیس تمام وقت غائب رہی جتنی دیر ہم پاکستان میں رہے لوگوں کو سلنڈر استعمال کرتے دیکھایا پھر بجلی کے چولہے، پانی کی کمی لائٹ کا جانا یہ سب عام معمولات میں ہیں جن کے لوگ عادی ہوگئے ہیں۔
پاکستان ہمارا وطن ہے، اتفاق ہے وہاں میرا کوئی خونی رشتہ دارنہیں رہتا پھر بھی مجھے وہاں بہت مزا آتا ہے صرف دوستوں سے مل کر پرانا محلہ دیکھ کر اپنی ز بان ہر طرف سن کر مگر بڑی عجیب بات ہے کے سکون نیویارک آکر ہی آتا ہے اس لئے کے جہاں عام عوام کے سکون کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ پاکستان خاص طور سے کراچی میں عام عوام پر جو ظلم کیا جاتا ہے وہ کئی غریب ممالک پھرنے کے باوجود بھی مجھے نہیں نظر آیا۔ یہ ظلم کوئی مار پیٹ یا اور کسی انداز میں نہیں کیا جاتا یہ ظلم عوام کو روزمرہ کے مسائل میں پھنسا کر کیا جارہا ہے۔ گردوغبار ٹوٹی ہوئی سڑکیں کھانا نہ پکانے کی سہولت نہانے دھونے سے محرومی ہوا کا فقدان بجلی کی سہولت سے محرومی عوام پر یہ ظلم نہیں تو کیا ہے، سمجھ نہیں آتا یہ کیسا شہر ہے۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here