پاکستان میں آئینی ترمیمات کا سلسلہ جاری ہے کہ جس میں یکے بعد دیگرے آئین میں ترمیمات برپا کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے آج عدلیہ آئینی اور قانونی عدالتوں میں تقسیم ہوچکی ہے کہ ایک عدات آئینی اور دوسری عدالت قانونی ہوگی یہ جانتے ہوئے ہر عدالت آئینی کہلاتی ہے ہر قانون آئین کی نوکھ سے جنم لیتا ہے آئین دنیا جدید کا معاہدہ عمرانی کہلاتا ہے جو ریاست کے وجود، ریاستی پارلیمنٹ عدلیہ اور حکومت کو پیدا کرتا ہے جو ممالک برطانیہ اور اسرائیل جیسے آئین کے حامل نہیں ہیں وہ دراصل غیر فطری، غیر عوامی اور روایتی پارلیمنٹ حکومت اور عدلیہ کا وجود رکھتے ہیں کیونکہ آئین ان تینوں اداروں کا خالق ہوتا ہے اس لئے پاکستان میں آئین کا مذاق نہ اڑایا جارہا ہے جبکہ آئین بالاتر ہوتا ہے اس کے ادارے مختلف اختیارات کے مالک ہوتے ہیں جن کو آئین کے نام پر تقسیم کرنا ریاست کے وجود کے خلاف سازش ہوسکتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں آئین کو جنرلوں نے چند اوراق کا کتا بچہ سمجھ رکھا ہے جو پانچ مرتبہ منسوخ اور معطل کر چکے ہیں جن کی مرضی کے بغیر آئین نافذ نہیں ہوتا ہے اس لئے آج بھی آئین کو خطرات لاحق ہیں کہ کہیں پھر کوئی جنرل آئین کو پش پشت ڈال کر ملک پر قابض نہ ہوجائے جس کا پاکستان میں ہما وقت خطرہ رہتا ہے کہ کس کوئی جنرل آئین پر غالب نہ آجائے یہی وجہ ہے کہ آج کی حکومت موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بلیک میل ہوچکی ہے جس نے ملکی وزارت خارجہ، داخلہ اور دفاع پر قبضہ کر رکھا ہے جو آئین میں اپنا چوتھا ادارہ تسلیم کرانے میں دبائو ڈال رہی ہے کہ فوج کو بھی حکومت عدلیہ اور پارلیمنٹ کی طرح چوتھا ادارہ تسلیم کیا جائے جس کی مثال فوج کا ایسا عہدہ فیلڈ مارشل کا لاگو کیا گیا ہے یا پھر آئین میں تبدیلیاں کرکے موجودہ فوج کے سربراہ کو تینوں فوجوں کا سربراہ بنایا گیا ہے جس میں نیوی اور ایئرفورس بھی ان کے نیچے کام کرے گی یا پھر آرمی چیف کو 2030 ملک توسیع دیکر ایک فوجی جنرلوں کے ساتھ زیادتی کردی ہے کہ جس میں نہ جانے کتنے جنرلوں کا استحصال ہوگا جو کسی ادارے میں جنرل مشرف کی طرح بے چینی پیدا کرسکتا ہے کہ جب جنرل مشرف کے خلاف جنرل کیانی کے بارے میں آیا کہ انہوں نے جنرل مشرف کے خلاف وکلاء تحریک کی حمایت کی تھی تاکے دس سال سے آرمی چیف کا عہدہ کسی دوسرے جنرل کو بھی مل پائے جس میں دو عہدوں کا کیس بھی بہت قابل ذکر ہے مزید برآں پاکستانی جنرلوں کی پاکستانی دفاعی آلات، ہوائی جنگی جہازوں کی خریدوفروخت میں نمائندگی وزارت دفاع کے وجود کی نفی کرتی ہے کہ جس سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ جنگی ہتھیاروں کی خریدوفروخت میں فوجی ادارہ صحفہ اوّل میں ہے جس کا فائدہ صرف اور صرف فوجی ادارے کو پہنچے گا جبکہ ہتھیاروں کی خریدوفروخت یا ہتھیار سازی میں پیسہ عوام کا خرچ ہوتا ہے جو کا 80 فیصد بجٹ دفاعی کہلاتا ہے بہرحال آئین میں ردوبدل کے نتائج نہایت بڑے نکلیں گے جب موجودہ حکومت ان ہی ترمیمات کی شکار ہوکر رسوا ہوگی جس کے بعد اداروں میں بھی بے چینی پیدا ہوگی جو افراتفری کو جنم دے گی جس سے ملک میں آئیندہ کا انتشار اور خلفشار پیدا ہوگا جو ریاست پاکستان کے وجود کے لئے خطرے کا باعث بنے گا بہتر یہی ہے کے آئین پاکستان کو زیادہ مت چھیڑا جائے اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے تاکے ملک کو مزید خطرات سے بچایا جائے یاد رکھیں پاکستان کی آبادی 25 کروڑ ہے ہمیں جو موجودہ تبدیلیوں سے واقف ہیں جو کسی پھٹ نہ جائیں۔
٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)















