ہم نے گزشتہ کالم میں ایران امریکہ کے درمیان متنازعہ صورتحال میں صدر ٹرمپ کی متلون مزاج فطرت کے سبب ہر دو فریقین کے درمیان کسی واضح ایجنڈے یا معاہدے کی طرف نہ پہنچنے کے حوالے سے ٹرمپ کو امریکہ کا عدی امین قرار دیتے ہوئے امریکی عوام میں ان کی عدم مقبولیت پر اظہار خیال کیا تھا۔ ممکن ہے کہ ہمارا یہ نقطۂ نظر ٹرمپ کے چاہنے والوں کیلئے قابل قبول نہ ہو تا ہم پچیس اپریل کو ٹرمپ کے وائٹ ہائوس کور کرنے والے میڈیا کے عشائیے میں ہونے والے واقعے نے ہماری سوچ کی تائید کر دی ہے۔ یقیناً یہ اقدام کسی بھی طرح مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا اور شکر ہے کہ صدر، خاتون اول سمیت ٹاپ قیادت محفوظ رہی اور حملہ آور گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعہ میں سیکرٹ سروس کے اہلکار کے زخمی ہونے اور مدافعت کر کے کسی بڑے سانحے سے ماورائی پر تحسین تو کی جا سکتی ہے لیکن کیا یہ واقعہ سیکیورٹی بریچ پر سوال نہیں بنتا ہے کہ حملہ آور اسلحے سمیت اس قدر اہم جگہ تک کیسے پہنچا۔ شکر ہے کہ حملہ آور پکڑا گیا اور قارئین اس کے بارے میں تفصیلاً آگاہ ہو چکے ہیں۔ شکر یہ بھی ہے کہ ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے حملہ آور کا ایران وار سے ناطہ جوڑنے کو مسترد کر دیا۔ گزشتہ دو برسوں میں یہ ٹرمپ کے اوپر تیسرا حملے کا اقدام ہے،پچھلہ حملہ گزشتہ انتخابی مہم کے دوران ہوا تھااور یہ اقدام مڈٹرم انتخابات سے تقریباًپانچ ماہ قبل اور امریکہ ایران تنازعہ کے دوران ہوا۔ اب اسے محض اتفاق کہیں یا ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی کے تناظر میں تدارک سے تعبیر کیا جائے بہرحال اس قسم کے واقعات کو سیکیورٹی کی ناکامی ہر صورت میں کہا جائیگا۔
کامیابی اور ناکامی کا ڈھنڈورا تو اس وقت ایران امریکہ جنگ کی صورتحال میں ہر دو فریقین کے درمیان زور و شور سے جاری ہے، ٹرمپ کے پل پل بدلتے ہوئے بیانات و دعوے اور اسرائیل کے جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملوں کی خلاف ورزی ایک طرف تو دوسری جانب ایران میں شدت پسندوں اور معتدل قیادتوں کے متضاد دعوے حالات کی بہتری کے برعکس مزید اُلجھنوں کا سبب بن رہے ہیں۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی اس محاذ آرائی سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن آنا کا بھوت انہیں دو قدم پیچھے نہیںہٹنے دے رہا ہے۔ معاملات براہ راست مذاکرات سے اب پیغام رسانی تک پہنچ چکے ہیں لیکن اس کیساتھ ہی ایک طرف امریکہ نے فضائی کی جگہ نیول وارفئیر، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور پچاس ہزار فوج و جنگی جہاز بھیجنے کا اقدام کیا تو دوسری جانب ایران نے ہرمز کو بند کرنے کا قدم اٹھایا ہوا ہے۔
ہم نے گزشتہ کالم میں ایک محاوراتی مصرعہ لکھا تھا مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات، ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان، عمان اور ماسکو کے دوروں اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطوں کے بعد تجاویز پاکستانی قیادت کے توسط سے امریکی قیادت کو بھجوائیں ادھر روس نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جس وقت ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں خبر ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی اور توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کر دے۔ ایرانی تجاویز پر ٹرمپ و سیکیورٹی ٹیم کے مشورے جاری ہیں لیکن مستقل جنگ بندی کی ایرانی تجویز اور یورینیم کے حوالے سے اتفاق ممکن نظر نہیں آتا البتہ امریکی آئین کے مطابق صدر کی جانب سے آغاز کردہ جنگ کے تسلسل کے 60 دن بعد جاری رکھنے کیلئے کانگریس کی منظوری لازم ہے، ہو سکتاہے کہ منظوری نہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے تعاون سے عارضی جنگ بندی کا کھڑاگ کرے، ٹرمپ کا بار بار وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کی تعریفیں کرنا بے معنی نہیں حتیٰ کہ حالیہ حملے کے بعد اپنے خطاب میں ٹرمپ نے ان کی تعریف کے پُل باندھے۔
حالیہ امریکہ ایران جنگ کے حوالے سے دنیا بھر ہی نہیں خود امریکہ بلکہ اسرائیل میں بھی مخالفت ہو رہی ہے اور اسے متعصبانہ صہیونیت و ہندوتوا کے ایجنڈے کی تکمیل سے قرار دیا جا رہا ہے بلکہ عرب و خلیج میں ایران کو اس ایجنڈے میں خطرناک قرار دینے کیساتھ دنیا کے واحد اسلامی نیوکلیائی ملک ہونے کے ناطے پاکستان بھی ان کی نظروں میں کھٹکتا ہے۔ اسرائیل کی بھارت کے ہمراہ پاکستان دشمنی تو واضح ہے اور گزشتہ پاک بھارت معرکہ میں ثابت ہو چکی ہے، یہ حقیقت بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل امریکہ کا لے پالک ہے پھر اس صورتحال میں ٹرمپ کی پاکستانی وزیراعظم و فیلڈ مارشل کیلئے تعریفوں کا مقصد کیا ہے؟ بادی النظر میں تو کہہ سکتے ہیں کہ پاک بھارت معرکے میں پاکستان کی عسکری و اسٹریٹجک کامیابی، ٹرمپ کے کہنے پر جنگ بندی کرنے اور کامیاب ڈپلو میسی کیساتھ خصوصاً امریکی صدر و انتظامیہ سے مخلصانہ روئیوں اور حالیہ صورتحال میں مفید و مثبت کردار اس کی وجہ ہے تو یقیناً اس سے انکار ممکن نہیں لیکن ہمیں تاریخ پر نظر ڈالنا ہوگی کہ گزشتہ سات دہائیوں میں پاک امریکہ رشتوں و تعلقات کی نوعیت کیا رہی۔ بظاہر تو سفارتی و روایتی تعلقات اچھے ہی رہے لیکن 65ء کی جنگ یا 71ء کی بحری بیڑے کا انتظار ہی رہا یو ایس ایس آر و افغانستان کی جنگ کے اثرات و مضمرات ہوں یا افغانستان کے معاملات پاکستان ریسیونگ اینڈ پر ہی رہا تو کس حوالے سے مثبت رویوں کو دیکھا جائے۔ ہماری سوچ تو یہی ہے کہ پاکستان گریٹر اسرائیل کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے جسے بزور طاقت و عسکریت دبایا نہیں جا سکتا لہٰذا اسے دوستی کے پردے میں مطیع کیا جانا مقصود ہے کہ پاکستان ان کی نظر میں واحد ملک ہے جہاں عسکری قیادت اور برائے نام سیاسی مقتدرہ مفادات کے حصول کا مہرہ ہے۔ جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے صورتحال میں کہانی مختلف موڑ لیتی رہے گی لیکن صہیونی ٹارگٹ سے ہٹنا نہ اسرائیل کو منظور ہوگا نہ انکل سام کو۔
٭٭٭











