تنہائی کا خوف اور اس پر قابو پانا!!!

0
5
رعنا کوثر
رعنا کوثر

تنہائی کا خوف
اور اس پر قابو پانا!!!

موجودہ دور میں ایک انتہائی توجہ طلب پہلو بزرگوں اور والدین کا تنہائی میں زندگی بسر کرنا ہے، چاہے وہ امریکہ ہو، پاکستان یا کوئی دوسرا ملک۔ ماضی میں جہاں مشترکہ خاندانی نظام رائج تھا، وہاں والدین کے اکیلے رہنے کا تصور تک موجود نہ تھا، مگر اب وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ خاندانی رویے بھی بدل چکے ہیں۔ کہیں معاشرتی و معاشی مجبوریاں اور کہیں انفرادی پسند کے باعث لوگ اب تنہائی کو اپنانے لگے ہیں۔ پاکستان میں نوجوان نسل میں بیرون ملک جا کر ملازمت کرنے اور دولت کمانے کا رجحان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اگر کسی خاندان کے تمام بچے ملک سے باہر چلے جائیں تو والدین اپنے گھروں میں اکیلے رہ جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر شریک حیات کا انتقال ہو جائے تو باقی رہ جانے والے فرد کے لیے زندگی مزید دشوار ہو جاتی ہے۔
یہی صورتحال امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جہاں بچے اٹھارہ سے بیس برس کی عمر تک پہنچتے ہی تعلیم یا ملازمت کی خاطر دوسرے شہروں میں منتقل ہو کر اپنی الگ رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ اس طرح وہاں بھی والدین اپنے گھروں میں تنہا رہ جاتے ہیں اور کسی ایک کے بچھڑ جانے کی صورت میں دوسرا فرد مکمل طور پر اکیلا رہ جاتا ہے۔ پاکستان میں چونکہ لوگ ایک طویل عرصے تک خاندان کے ساتھ مل جل کر رہنے کے عادی ہوتے ہیں، اس لیے وہاں اکیلی خواتین کے لیے یہ صورتحال زیادہ پریشان کن ثابت ہوتی ہے۔ وہاں تنہائی کے ساتھ ساتھ تحفظ کا احساس بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں چوری چکاری، راہزنی اور گھر میں کام کرنے والے افراد سے متعلق خدشات ہر وقت ذہن پر سوار رہتے ہیں۔ تاہم بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر اب پاکستان اور امریکہ دونوں جگہ خواتین ہمت اور حوصلے کے ساتھ تنہا زندگی گزارنے کا فن سیکھ رہی ہیں۔
ایسی صورتحال میں خود کو اداسی اور ذہنی تناؤ کا شکار کرنے کے بجائے مثبت طرز عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں سے اپنی حفاظت کے مناسب انتظامات کروائیں اور اس کے بعد اپنی ذات پر توجہ دیں۔ اپنے مالی وسائل کو اپنی سہولت اور آسائش کے لیے استعمال کریں اور ایک بہتر نظام زندگی وضع کریں۔ اپنی صحت اور خوراک کا خاص خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے، لہٰذا یہ سوچ کر کھانا پینا ترک نہ کریں کہ اکیلے انسان کے لیے کیا پکانا، بلکہ اپنے لیے اسی اہتمام سے غذا تیار کریں جیسے پورے خاندان کے لیے کی جاتی تھی۔ متوازن غذا اور خوش دلی سے کھایا گیا کھانا انسان کو وہ توانائی فراہم کرتا ہے جو دن بھر کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔
اپنے دن کو بامقصد اور کارآمد بنانے کے لیے روزانہ کا ایک لائحہ عمل تیار کریں۔ فارغ وقت میں سلائی کڑھائی، ہلکی پھلکی ورزش یا گھر کی ترتیب و آرائش جیسے مشاغل اپنائیں تاکہ ذہن مصروف رہے۔ روحانی سکون کے لیے ذکر الہی کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ اللہ کا نام انسان کو ہر قسم کے خوف اور برے عزائم رکھنے والے لوگوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اکیلے رہنا بذات خود کوئی برائی نہیں ہے، بلکہ اصل برائی مسلسل پریشانی اور بے سکونی کی کیفیت میں رہنے میں ہے۔ کچھ لوگ اپنی مرضی اور آزادی کی خاطر تنہائی پسند کرتے ہیں جبکہ کچھ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر اکیلے رہنے پر اقتفا کرتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں اگر انسان خود کو حالات کے مطابق ڈھال لے تو زندگی سہولت سے گزر سکتی ہے۔ زندگی میں اکثر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن کا کبھی گمان بھی نہیں کیا ہوتا، مگر دانشمندی اسی میں ہے کہ ماضی کے بجائے مستقبل پر نظر رکھی جائے اور تنہائی کے خوف کو خود پر طاری کرنے کے بجائے خوش رہنے کے راستے تلاش کیے جائیں۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here