ورلڈ کپ کے بہانے لوٹ مار شروع !!!

0
5
حیدر علی
حیدر علی

فٹ بال کے عالمی میلے سے جڑے ہوشربا اخراجات کے بہانے لوٹ مار شروع ہوگئی ہے جیسا کہ ورلڈ کپ کے میچوں کی ٹکٹوں کی قیمت اور اسٹیڈیم تک پہنچنے کیلئے نیو جرسی ٹرانزٹ کے کرایوں میں بے پناہ اضافے کی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں، تو سوکر کے کچھ ایسے فین ضرور ہیں جو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ آیا وہ ورلڈ کپ کا میچ دیکھیں یا اسی رقم سے ہیوسٹن میں ایک مکان خرید لیں۔ یہ طنز اپنی جگہ درست ہے کہ مکان کی قسطیں تو اگلے ورلڈ کپ تک ادا ہوجائیں گی لیکن کچھ دیوانے ایسے بھی ہیں جو محض فٹ بال کا جنون پورا کرنے کے لیے اپنے اثاثے فروخت کرنے پر تیار ہیں۔ اخراجات کا یہ عالم ہے کہ نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں فائنل دیکھنے کے لیے ٹکٹ کی قیمت دس ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس اسٹیڈیم میں ورلڈ کپ کے آٹھ میچ کھیلے جائیں گے اور ایک اندازے کے مطابق عام میچ کی ٹکٹ بھی پانچ سو ڈالر سے کم نہیں ہوگی۔ مزید برآں، اسٹیڈیم تک رسائی کے لیے ٹرین کا راؤنڈ ٹرپ کرایہ ایک سو پچاس ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی حکام نے پیدل چلنے والوں پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موقف ہے کہ اسٹیڈیم تیز رفتار ہائی ویز کے درمیان گھرا ہوا ہے، اس لیے وہاں تک پہنچنے کا واحد راستہ ٹرین ہی ہے۔ قریبی ہوٹلوں میں مقیم سیاحوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ باہر چہل قدمی سے گریز کریں، ورنہ انہیں پانچ سو ڈالر جرمانے یا واپسی کے حکم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان مالی مشکلات سے قطع نظر، کچھ خوش قسمت قومیں ایسی بھی ہیں جن کی ٹیمیں پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ میں شامل ہو رہی ہیں۔ ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کرنا ایک نیا باب ہے جس نے چھوٹی قوموں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان میں کیوراساؤ کا نام نمایاں ہے جو محض ڈیڑھ لاکھ کی آبادی والا کیریبین کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ اس ٹیم نے جمیکا کے خلاف ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اسی طرح کیپ ورڈی نے بھی اپنے گروپ میں دس میں سے سات میچ جیت کر اپنی برتری ثابت کی ہے، یہ وہ ملک ہے جس نے 1975ء میں پرتگال سے آزادی حاصل کی تھی۔ تیسرا خوش قسمت ملک اردن ہے جس نے عمان کے خلاف تین گول کر کے پہلی بار عالمی میلے میں جگہ بنائی ہے۔ اردن کی حکومت نے برسوں اپنے نوجوانوں کی تربیت پر توجہ دی جو آخر کار رنگ لائی۔ 2026ء کے ورلڈ کپ میں سات عرب ممالک کی شرکت خطے کی سب سے بڑی نمائندگی قرار دی جا رہی ہے۔ ازبکستان نے بھی متحدہ عرب امارات کے خلاف میچ برابر کھیل کر اپنا مقام محفوظ کر لیا ہے۔ 1991ء میں سوویت یونین سے آزادی پانے والے اس ملک نے فٹ بال کے فروغ کے لیے انتھک محنت کی ہے اور آج ان کی ٹیم عالمی افق پر چمکنے کے لیے تیار ہے۔
شائقین کے ذہنوں میں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے۔ فیفا کے صدر گیانی انفیٹینو کی خواہش ہے کہ ٹورنامنٹ کو وسعت دے کر پسماندہ ممالک کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ فٹ بال کا کھیل دنیا کے کونے کونے تک پہنچ سکے۔ 2026ء کا ورلڈ کپ چار ٹیموں پر مشتمل بارہ گروپس میں تقسیم ہوگا اور میچوں کی تعداد 64 سے بڑھ کر 104 ہو جائے گی۔ ٹیموں کے اس اضافے سے خاص طور پر افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کے ممالک کو کوالیفائی کرنے کے زیادہ مواقع میسر آئیں گے، جس سے کھیل کے معیار اور مقبولیت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here