گلگت بلتستان میں عوامی مینڈیٹ پر شب خون کی !!!

0
7
شمیم سیّد
شمیم سیّد

پاکستان کی سیاست میں انتخابی شفافیت کا سوال ہمیشہ سے ایک ایسا معمہ رہا ہے جس کا حل ہر گزرتے الیکشن کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے ایک بار پھر ملک کے سیاسی منظر نامے پر اضطراب اور بے چینی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ وادی کے برف پوش پہاڑوں اور خوبصورت میدانوں میں بسنے والے عوام نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال تو انتہائی جوش و خروش سے کیا، لیکن جیسے ہی پولنگ کا وقت ختم ہوا اور نتائج کی تیاری کا مرحلہ شروع ہوا، جمہوریت کے ماتھے پر ایک بار پھر شکوک و شبہات کے پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں اور عام ووٹرز کی جانب سے یہ سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ تحریک انصاف واضح برتری حاصل کر چکی ہے، مگر دانستہ طور پر حتمی نتائج کا باقاعدہ اعلان روک کر ماضی کے اس ناپسندیدہ کھیل کو دہرایا جا رہا ہے جسے ملکی تاریخ میں فارم 45 اور فارم 47 کا تنازع کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت کا احتجاج نہیں بلکہ اس پورے انتخابی نظام کی ساکھ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جو عوام کے ووٹ کی پرچی کو حتمی فیصلہ ماننے سے کتراتا محسوس ہوتا ہے۔
اگر ہم گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انتخابی عمل کے دوران پولنگ سٹیشنز سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات اور ووٹرز کا رجحان تحریک انصاف کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا تھا۔ قانون ساز اسمبلی کے مختلف حلقوں سے آنے والی غیر سرکاری اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ووٹرز نے بڑی تعداد میں باہر نکل کر اپنے پسندیدہ نمائندوں کو منتخب کیا۔ تاہم، جیسے ہی رات کا اندھیرا گہرا ہوا، نتائج کی رفتار سست پڑ گئی اور ریٹرننگ افسران کے دفاتر کے باہر تناؤ کی فضا قائم ہو گئی۔ یہ وہی موڑ ہے جہاں سے پاکستانی انتخابی تاریخ کا وہ روایتی بحران جنم لیتا ہے جس میں رائے دہندگان کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ ابتدائی گنتی کے دستاویزات جن پر تمام امیدواروں کے نمائندوں کے دستخط ہوتے ہیں، ان کے مطابق برتری حاصل کرنے والے امیدواروں کو جب حتمی اور مجموعی نتائج کے سرکاری کاغذات میں شکست خوردہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو عوامی غیظ و غضب کا ابھرنا ایک قدرتی امر بن جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام طویل عرصے سے اپنے آئینی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ایسے میں ان کے مینڈیٹ کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھلواڑ ان کی محرومیوں میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کا نظام پر اعتماد ہی ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں اور فیصلے بند کمروں میں پہلے سے طے شدہ منصوبوں کے تحت کیے جاتے ہیں، تو جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کا یہ مؤقف کہ انہیں ہرائے جانے کے لیے انتخابی نتائج میں ردوبدل کیا جا رہا ہے، کوئی نیا دعویٰ نہیں ہے۔ اس سے قبل وفاقی اور صوبائی سطح پر ہونے والے عام انتخابات میں بھی اسی طرح کے حربوں کی شکایت کی گئی تھی۔ گلگت بلتستان جیسے حساس اور سٹریٹجک خطے میں، جہاں کی عوام ملکی سلامتی اور ترقی میں صف اول کا کردار ادا کرتی ہے، انتخابی عمل کو متنازع بنانا کسی بھی طور دانشمندی کا تقاضا نہیں ہو سکتا۔ یہاں کے غیور عوام نے ہمیشہ پرامن طریقے سے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے، لیکن اگر ان کی رائے کو طاقت یا مصلحت کے بل بوتے پر دبانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج پورے ملک کے سیاسی استحکام پر اثر انداز ہوں گے۔
صحافتی اصولوں کے مطابق انتخابی کمیشن کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ بغیر کسی دباؤ اور جانبداری کے نتائج کی شفافیت کو یقینی بنائے۔ جب تک ہر حلقے سے موصول ہونے والے ابتدائی نتائج کی تصدیق مکمل شفاف طریقے سے نہیں کی جاتی، تب تک شکوک و شبہات کے بادل چھٹنا ممکن نہیں ہے۔ گلگت بلتستان میں انتخابی عملے کی سستی اور نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر نے ان افواہوں کو سچ ثابت کرنے میں مدد دی ہے کہ پس پردہ کچھ ایسا کھچڑی پک رہی ہے جو عوامی خواہشات کے برعکس ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا غصہ اور احتجاج اس بات کی گواہی ہے کہ وہ اب کسی بھی صورت اپنے آئینی حق پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنان کا یہ پختہ یقین ہے کہ انہوں نے میدان مار لیا ہے، مگر انتظامیہ اور مقتدر حلقے نتائج کو تبدیل کرنے کے لیے وقت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تاثر ریاست کے اداروں اور عوام کے درمیان خلیج کو وسیع کرنے کا باعث بن رہا ہے، جس کا نقصان بالآخر ملکی یکجہتی کو پہنچے گا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کو ہمیشہ وفاق میں موجود حکومت کی بقا اور پالیسیوں کے تسلسل سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ روایتی طور پر یہ تاثر عام رہا ہے کہ جو جماعت اسلام آباد میں حکومت کرتی ہے، وہی گلگت بلتستان میں بھی برسرِاقتدار آتی ہے۔ لیکن بدلتے ہوئے سیاسی شعور کے اس دور میں عوام اب اس پرانی روایت کو توڑنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے مقامی مسائل اور قومی دھارے میں شمولیت کے لیے اپنے پسندیدہ قائدین کو چننا چاہتے ہیں۔ اگر تحریک انصاف نے عوامی حمایت حاصل کر لی ہے تو اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ نتائج کو روکنا یا ان میں تبدیلی کی کوشش کرنا عارضی طور پر تو شاید کسی کے مفاد میں ہو، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر یہ پورے نظام کی ناکامی تصور کی جائے گی۔ انتخابی کمیشن کو چاہیے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے فوری طور پر اصل حقائق عوام کے سامنے لائے تاکہ اس بحران کا پرامن حل نکالا جا سکے اور وادی کی خوبصورتی کسی سیاسی تصادم کی نذر نہ ہو۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here