نئی دہلی (پاکستان نیوز)بھارت نے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کا پانی مکمل طور پر بند کرنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر آبپاشی سی آر پاٹل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خصوصی ہدایات پر اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور آنے والے برسوں میں پاکستان کی طرف پانی کا ایک بھی قطرہ نہیں جانے دیا جائے گا۔ یہ سخت بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے گزشتہ برس سڑسٹھ سال پرانے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا جس کے بعد سے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین آبی تنازع انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے اس بھارتی دھمکی پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو تبدیل کرنے یا پانی روکنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو جنگی کارروائی تصور کیا جائے گا کیونکہ یہ براہ راست ملکی معیشت اور زراعت پر حملہ ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق اگرچہ بھارت نے چناب ندی سے پانی کو دوسرے رخ موڑنے کے لیے سرنگوں کی تعمیر کے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں، تاہم موجودہ بھارتی ڈیموں میں پانی مکمل بلاک کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ جموں و کشمیر کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ان بڑے منصوبوں پر عملی کام 2027 سے پہلے ممکن نہیں اور انہیں مکمل ہونے میں کم از کم 5 برس لگیں گے، جس کے باعث آنے والے وقت میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔









