دہلی (پاکستان نیوز)بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک مسجد کی مسماری کے دوران برآمد ہونیوالے پوسٹرز پر درج نعرے نے ملک میں ایک نئی سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے لوئر کورٹ کے حکم پر ایک مسجد کو یہ کہتے ہوئے منہدم کر دیا کہ وہ قبرستان کی زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم اس کارروائی کے دوران وہاں سے آئی لو محمد لکھے ہوئے متعدد پوسٹرز اور پرچم برآمد ہوئے، جس کے بعد پولیس نے اس مواد کو قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کمیٹی کے 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمارت سے ملنے والے اس مواد کو تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب اس پولیس کارروائی نے عوامی سطح پر ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا مذہبی عقیدت پر مبنی کسی نعرے کا استعمال کرنا قانون کی نظر میں کوئی جرم ہے۔ اگر یہ عمل غیر قانونی نہیں ہے تو پھر شہریوں کے خلاف ان مقدمات کا کوئی ٹھوس جواز نہیں بنتا۔
اس واقعے کے خلاف عوامی ردعمل اور احتجاج کا سلسلہ اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی شدید تر ہو گیا ہے، جہاں یہ موضوع مسلسل ٹرینڈ کر رہا ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کے خلاف بطور احتجاج بڑی تعداد میں لوگوں نے انٹرنیٹ پر اپنی معلوماتی تصاویر کی جگہ یہی نعرہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے ملک میں بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک گہری بحث چھیڑ دی ہے اور یہ معاملہ اب مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔












