مہنگائی کا نیاطوفان!!!

0
6
حیدر علی
حیدر علی

میں حسب معمول باربر شاپ یعنی حجام کی دکان میں جاکر بیٹھ گیا اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگا، جیسا کہ برابر کرتا ہوں۔ یہودی والی ٹوپی کِپا پہنے ایک شخص لوگوں کے سر کے بال کی اُن کی پاکٹ کے ساتھ حجامت بنا رہا تھا۔ لہذا جب کیش پر رقم دینے کی بات آئی تو اُسے دیکھ کر میرا ماتھا ٹھن ٹھنا گیا۔ مبلغ 55 ڈالر تھے۔ میں اُن لوگوں میں سے تو نہیں جو اُسے سر تسلیم خم کر لیتا اور بٹوے سے رقم نکال کر دے دیتا۔ میں نے استفسار کیا کہ آخر رقم اتنی زیادہ کیوں ؟ حجام نے مسکراتے ہوے جواب دیا کہ 45 ڈالر معاوضہ حجامت بنانے کا اور 10 ڈالر ٹِپ ۔ میں نے غصے میں اُس سے پوچھا کہ 45 ڈالر کیوں جبکہ گذشتہ مرتبہ میں نے 35 ڈالر معاوضہ حجامت بنانے کے اور پانچ ڈالر ٹِپ دیئے تھے۔ یہ تبدیلی گذشتہ ماہ سے عمل میں آئی ہے، اُس نے جواب دیا۔ میں نے غصے میں پھر اُسے کہا کہ ٹِپ میں اپنی مرضی سے دونگا ، تم مجھے یہ نہیں سکتے کہ میں کتنا دوں؟ حجام نے مسکراتے ہوے جواب دیا کہ یہ لازمی ہے۔
اول تو یہ کہ ہمارے علاقے میں کِپا پہننے والوں کی بھر مار ہوگئی ہے، حجام ہو تو وہ بھی کِپا پہنے ہوتے ہیں ، اور اگر فارمیسی کا اسٹور ہو تو وہاں بھی کِپا پہننے والے خوش آمدید کہتے ہیں ، بلکہ ڈاکٹروں سے زبردستی نسخہ اپنے اسٹور کے نام لکھوا لیتے ہیں، حتی کہ اُن کے اسٹور میں بعض دوائیں دستیاب بھی نہیں ہوتیں اور تین تین دِن انتظار کرنا پڑتا ہے۔اگرڈاکٹر سے شکایت کریں تو یہ جواب ملتا ہے کہ فارمیسی اسٹور میرے گھر سے بہت قریب ہے ۔ اِسلئے میں انتظار کرلوں ۔
باربر شاپ والوں کی لوٹ مار جو کورونا کے بعد سے شروع ہوئی ہے وہ حیرتناک ہے۔ بلکہ اِسے دیکھ کر بعض پڑھے لکھے گریجویٹ بھی باربر کے لائسنس کا امتحان پاس کرنا شروع کردیا ہے اور ہاتھ میں قینچی اور کنگھا لے کر دندناتے پھر رہے ہیں۔ مختصرا” یہ کہ کورونا سے قبل جو ایک باربر کسی شخص کی حجامت بنانے کا 20 ڈالر لیتا تھا وہ فورا” اُس کے بعد 35 ڈالر لینا شروع کردیا ہے۔
لیکن بعض افراد حالات کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ جب چیزوں کی قیمتیں اوپر جانے لگتی ہیں تو وہ اُس کا استعمال بند کر دیتے ہیں۔ پاکستان کمیونٹی کی مامائیں بھی اِس ضمن میں پیش پیش ہیں۔ ہمارے محلے کی ایک اماں نے تو اپنے شوہر اور دوبیٹوں کا سر خود مونڈدیتی ہیں۔ کیونکہ اُنہیں کٹ نکالنے نہیں آتی ہے اسلئے وہ ریزر سے با آسانی اُن کا سر مونڈ دیتی ہیں۔ جب باپ اور بیٹے صبح صبح بیل منڈے بن کر گھر سے نکلتے ہیں تو راہگیروں کے قہقہے کو کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن وہ ثابت قدم ہیں اور ہر ماہ حجامت بنانے کے مد میں سو ڈالر بچا لیتے ہیں۔
ماہر ین معاشیات کی رائے میں حجامت بنانے کے معاوضہ میں مہنگائی کے مقابلے میں پچاس فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ 1976 ء میں حجامت بنانے کا عام طور پر معاوضہ 4 ڈالر فی کس تھا۔ رفتہ رفتہ یہ معاوضہ بڑھ کر آٹھ ڈالر ہوگیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے خود ٹائمز اسکوائر پر ایک باربر شاپ کے دروازے پر حجامت بنانے کا نرخ آٹھ ڈالر دیکھا تھا۔ کورونا سے قبل یہ بڑھتے بڑھتے 20 ڈالر تک پہنچ گیا۔جب کورونا اپنے عروج پر تھا تو حجاموں نے بھی اِس سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کی اور اِس مفروضے کو بنیاد بنا لیا کہ اُن کے نرخ میں اضافے کو کوئی بھی نہیں روک سکتا ہے۔ وہ اُس حد تک اضافہ کر سکتا ہے جتنی صارفین کی پاکٹ اجازت دے سکتی ہے۔ حجامت بنانے کی کوئی ایسی مشین ایجاد نہ ہوسکی جو دو یا پانچ لوگوں کی حجامت یک مشت بنا سکے۔ حجام اُسی دو ہاتھوں سے یکے بعد دیگر لوگوں کی حجامت بنا تا ہے۔ اُسے بھی مہنگائی کا شکوہ ہے، اُسے بھی اپنے اپارٹمنٹ اور اسٹور کے کرائے میں اضافے پر تشویش ہے۔ تازہ ترین صورتحال میں عام طور پر حجامت بنوانے کا نُرخ اِن دنوں نیویار ک میں 35 سے 55 ڈالر ہے اور کوئی بعید نہیں کہ سال کے آخر تک اِس میں اضافہ ہوکر 100 ڈالر تک پہنچ جائے۔
آپ کوئی سودے بازی نہیں کر سکتے ہیں۔ آپ پلمبر سے ایک مستری سے ایک جپسی کیب کے ڈرائیور سے تو سودے بازی کرسکتے ہیں لیکن جہاں حجام کی بات آتی ہی وہاں آپ کی انا جواب دے دیتی ہے۔ تاہم نیویارک میں دو نمبریہ حجام بھی دستیاب ہیں جن کی دکان پر رش لگا رہتا ہے۔ اِن حجاموں کی گاہے بگاہے دکانیں جیکسن ہائیٹس ، برانکس اور بروکلین میں واقع ہیںجو اپنے گاہکوں سے 20 ڈالر نقد اور دو ڈالر ٹِپ لیتے ہیں۔ لیکن اُن کی خدمات بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔ مثلا”حجامت بنانے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حجامت نہیں بنائی ہے، کیونکہ اُن کے حجامت بنانے کا کُل ساز و سامان ایک قینچی اور ایک کنگھا ہوتا ہے، اور یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ اُن کی غلط کارکردگی کی وجہ کر کئی گاہک کے چہرے اور گردن پر کٹنے کے نشانات نمودار ہوگئے ہیں۔ ایک صاحب تو جو اپنی شادی سے قبل حجامت بنانے گئے تھے وہ اپنے چہرے پر مرہم پٹی لگا کر واپس آئے ۔
ہر خاص و عام کو یہ علم ہے کہ خواتین کے حجامت بنانے کی قیمت مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ عورتوں کے بال کاٹنے سے قبل حجامن اُن کے سر کو دھوتی ہے، اور پھر اُسے سکھاتی ہے۔ یہ ایک طویل کاروائی ہوتی ہے۔ بلکہ بعض خاتون تو اپائنٹمنٹ لینے سے قبل حجامن کی تعلیمی اسناد اور اُس کے لائسنس کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کسی سیلون میں جاکر حجامت بنانے کی قیمت تیس ڈالر سے ایک ہزار ڈالر تک ہوتی ہے جس میں اضافہ تو ہوسکتا ہے لیکن کمی نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here