تقسیم در تقسیم ہند کی کہانی!!!

0
11
رمضان رانا
رمضان رانا

تاریخ ہند کی تقسیم در تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ برطانوی عہد استعمار سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ تاحال تھم نہیں سکا ہے۔ چند بڑی سلطنتوں کے ادوار کو مستثنیٰ قرار دیا جائے تو یہ خطہ تاریخی طور پر منقسم ہی رہا ہے۔ سلطنت گپتا، عہد مغلیہ اور برطانوی راج کے دوران ہندوستان ایک وحدت کے طور پر ابھرا جب سینکڑوں ریاستیں ایک مرکزی نظم و ضبط کے تحت متحد ہوئیں ورنہ دیگر ادوار میں یہ خطہ ہمیشہ انتظامی اور سیاسی طور پر بکھرا رہا۔ دو ہزار سال قبل اشوک اعظم نے پورے ہندوستان پر حکمرانی کی جن کا دارالخلافہ کابل تھا جب وہاں کے باسی بدھ مت کے پیروکار تھے جو بعد میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے یا پھر وسطی ایشیا، ایران اور ترکیہ سے آنے والے قبائل وہاں آباد ہوئے جن میں سے بعض کا نسب بنی اسرائیل کے گمشدہ قبیلے کفعان سے جوڑا جاتا ہے جس کے بارے میں عالمی ذرائع ابلاغ اکثر دعوے کرتے ہیں۔
مغلیہ دور میں ہندوستان کی یکجہتی کا سہرا اکبر بادشاہ کے سپہ سالار رانا مان سنگھ کے سر بھی جاتا ہے جنہوں نے اندرونی بغاوتوں کو کچل کر سلطنت کو استحکام بخشا۔ رانا مان سنگھ کا تعلق راجپوت نسل سے تھا اور وہ جودھا بائی کے بھائی تھے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ راجپوتوں نے تاریخ کے ہر موڑ پر وفاداری کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ چاہے وہ مغلوں کا عہد ہو یا قیام پاکستان کے بعد دفاعی محاذ پر نشان حیدر پانے والے سپوت ہوں یا پھر ملک کی سیاسی تاریخ میں استحکام کی علامت بننے والے جرنیل، راجپوتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو دونوں کا تعلق راجپوت خاندانوں سے تھا جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک محفوظ جائے پناہ اور دفاعی حصار قائم کیا۔تقسیم ہند کا جواز وہ حالات بنے جن کی بنیاد انگریزوں نے اپنے مفادات کے لیے رکھی تھی جس کے نتیجے میں 1947 میں ہند و مسلم بنیادوں پر پنجاب اور بنگال جیسے بڑے صوبے تقسیم ہوئے اور ایک عظیم انسانی المیہ جنم لیا۔ یہ تقسیم محض جغرافیائی نہیں تھی بلکہ اس نے مستقبل کی کئی تقسیم در تقسیم کی راہ ہموار کی۔ آج بھارت میں بڑھتی ہوئی فسطائیت اور انتہاپسندی نے اقلیتوں کے لیے زمین تنگ کر دی ہے جہاں سکھ، عیسائی، مسلمان اور بدھ مت کے پیروکار شدید تعصب کا شکار ہیں۔ موجودہ بھارتی حکومت کی جانب سے اپنایا گیا متعصبانہ رویہ خطے کو ایک بار پھر خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ نسل پرستی کی بنیاد پر سیاست کرنے والے یہ بھول رہے ہیں کہ ماضی کی طرح یہ روش ملک کو مزید ٹکڑوں میں بانٹ سکتی ہے جو نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک ہولناک صورتحال کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here