تیرنا نہ جاننا کسی بھی انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور جدید دور میں اسے پسماندگی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ انسان کی زندگی خطرات سے عبارت ہے اور شعوری یا لاشعوری طور پر وہ ہر وقت مختلف حادثات کی زد میں رہتا ہے۔ کبھی سفری گاڑی پھسل کر دریا یا تالاب میں گر جاتی ہے اور تیرنا نہ آنے کے سبب مسافر موت کی آغوش میں سو جاتا ہے تو کبھی ڈرائیور کی غفلت اور نیند کے غلبے کی وجہ سے پوری بس حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ان ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انسان کو بچپن ہی سے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی بالغ شخص کے مقابلے میں ایک بچے کی زندگی خطرات سے کہیں زیادہ گھری ہوتی ہے، اس لیے دوڑ دھوپ، ورزش اور تیراکی سیکھنا زندگی کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہونا چاہیے۔
اس حوالے سے گذشتہ سال 2025 کے ماہ جون میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب پندرہ سالہ جمال اپنے گھر میں کمپیوٹر گیم کھیل رہا تھا۔ اسی دوران اس کا دوست افضل وہاں آیا اور دونوں نے برانکس میں واقع آرچرڈ بیچ پر سیر کا پروگرام بنایا۔ ساحل قریب ہونے کی وجہ سے وہ پیدل ہی وہاں پہنچ گئے اور پانی سے کھیلنے لگے۔ اسی دوران انہوں نے پانی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا مقابلہ شروع کر دیا، حالانکہ دونوں میں سے کسی کو بھی تیرنا نہیں آتا تھا۔ جمال توازن کھو بیٹھا اور سمندر کی لہریں اسے گہرے پانی میں کھینچ لے گئیں۔ شام کے چھ بجنے کی وجہ سے لائف گارڈز جا چکے تھے، اس لیے دوست کے شور مچانے پر وہاں موجود کچھ لوگوں نے اسے بچانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ بعد ازاں پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ کے غوطہ خوروں نے جمال کو پانی سے نکالا، لیکن اس وقت تک اس کی سانسیں تھم چکی تھیں۔ اس حادثے کے بعد افضل کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ تیراکی سے ناواقف ہونے کے باوجود وہ گہرے پانی میں کیوں گئے۔
امریکا جیسے ملک میں جہاں جگہ جگہ تیراکی سیکھنے کی سہولیات میسر ہیں، وہاں ان مواقع سے فائدہ نہ اٹھانا پسماندگی کے مترادف ہے۔ اگر بچے تیرنا نہیں جانتے تو بلاشبہ اس کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ جس طرح والدین اسکول کے انتخاب میں سنجیدہ ہوتے ہیں، اسی طرح انہیں تیراکی کے مراکز کا بھی علم ہونا چاہیے۔ وائی ایم سی اے امریکا کا وہ بڑا ادارہ ہے جہاں ہر سال دو ہزار سے زائد مقامات پر دس لاکھ سے زیادہ بچوں کو تیراکی سکھائی جاتی ہے۔ اگرچہ دیگر کلب اور اسکول بھی یہ سہولت فراہم کرتے ہیں لیکن مذکورہ ادارے نے اس میدان میں سبقت حاصل کی ہے۔ موسم گرما میں بچوں کو پانی سے مانوس کرنے اور ڈوبنے سے بچانے کے لیے خصوصی مہم چلائی جاتی ہے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایک سے چار سال کے بچوں میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ڈوبنا ہے، جبکہ پانچ سے چودہ سال کی عمر میں یہ دوسری بڑی وجہ بنتی ہے۔ ایک جائزے کے مطابق 64 فیصد سیاہ فام اور پاکستانی بچے، 45 فیصد ہسپانوی اور 40 فیصد گورے امریکی بچے تیراکی سے ناواقف ہیں۔ اس میں 80 فیصد ایسے گھرانے شامل ہیں جن کی سالانہ آمدنی پچاس ہزار ڈالر سے کم ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معاشی پسماندگی اور تیراکی کی مہارت میں گہرا تعلق ہے۔
لوگوں کو ڈوبنے سے بچانے میں لائف گارڈز کا کردار انتہائی اہم اور دشوار گزار ہوتا ہے کیونکہ انہیں ایک منٹ میں پچاس گز کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھنی پڑتی ہے۔ ہجوم والے ساحل پر ان کی نظریں مسلسل ایسے لوگوں پر رہتی ہیں جو کسی مشکل میں ہوں۔ ڈوبنے والا شخص بولنے سے معذور ہو جاتا ہے کیونکہ منہ کھولتے ہی پانی اندر داخل ہونے لگتا ہے، ایسی صورت میں صرف ہاتھ کے اشارے سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جنوب مغربی ایشیا کی خواتین اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش میں خود بھی ڈوب جاتی ہیں۔ کسی ڈوبتے ہوئے بالغ شخص کو بچانے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے دو فٹ کے فاصلے سے ٹھوکر ماری جائے یا سر کے بالوں سے پکڑ کر ساحل کی طرف لایا جائے، کیونکہ گھبراہٹ میں ڈوبنے والا شخص بچانے والے کو دبوچ لیتا ہے جس سے دونوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ تیراکی سیکھنا ہر فرد کے لیے ناگزیر ہے اور ساحل کی بندش کے اوقات میں پانی کے قریب جانے سے مکمل گریز کرنا چاہیے۔















