تاریخ کے جھروکوں سے جب بھی حق اور باطل کے ٹکراؤ کی داستانیں رقم کی جائیں گی تو گزشتہ برس پیش آنے والا معرکہ حق بلاشبہ ایک سنہری باب کی حیثیت سے چمکتا رہے گا۔ یہ محض ایک عسکری فتح نہیں تھی بلکہ یہ اس نظریاتی برتری اور قومی یکجہتی کا اظہار تھا جس نے دنیا کی تمام مروجہ جنگی حکمت عملیوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ جب دشمن نے اپنی عددی برتری اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے زعم میں سرحدوں کی پامالی کی ناپاک جسارت کی تو اسے یہ اندازہ ہرگز نہیں تھا کہ اس کا واسطہ ایک ایسی قوم سے ہے جس کی رگوں میں جرات اور ایمانی جذبے کا لہو گردش کرتا ہے۔ اس عظیم معرکے نے یہ ثابت کر دیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حوصلوں اور سچائی کے زور پر جیتی جاتی ہیں۔ جب فضاؤں میں عقابوں نے اپنی پرواز سے دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا اور زمین پر آہنی عزم والے جوانوں نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر پیش قدمی کو روکا تو پوری دنیا نے دیکھا کہ حق کا پرچم کس طرح سربلند ہوتا ہے۔
پاکستانی قوم نے اس کڑے وقت میں جس بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ سیاسی اختلافات، لسانی تفریق اور معاشی مشکلات کو پس پشت ڈال کر بچہ بچہ اپنی افواج کے شانے سے شانہ ملا کر کھڑا ہو گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دشمن کی تمام تر سازشیں اور نفسیاتی جنگ کے حربے ناکام ہو گئے کیونکہ سچائی کی طاقت نے جھوٹ کے بادلوں کو چھانٹ دیا تھا۔ معرکہ حق دراصل اس عہد کی تجدید تھی جو اس سرزمین کے حصول کے وقت کیا گیا تھا کہ ہم اپنی خود مختاری اور وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس جنگ کے دوران ہمارے سپوتوں نے جس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے وہ اس مٹی سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہر شہید کی داستان شجاعت ایک مشعل راہ ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی رہے گی کہ آزادی کی قیمت لہو سے چکانی پڑتی ہے اور یہ قوم اس سودے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹی۔
اس فتح کے اثرات محض سرحدوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی وقار کو ایک نئی بلندی عطا کی۔ دفاعی ماہرین جو کل تک عددی توازن اور تکنیکی برتری کے قصیدے پڑھتے تھے آج پاکستانی عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ مہارت اور حکمت عملی پر تحقیق کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ معرکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ دفاع وطن کے لیے جدید وسائل ضروری تو ہیں لیکن فیصلہ کن عنصر وہ جذبہ ہوتا ہے جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرانا جانتا ہو۔ قوم کا ہر فرد آج اس فتح پر جتنا فخر کرے وہ کم ہے کیونکہ یہ کامیابی ہمیں ایک نئے اعتماد اور ولولے سے سرشار کر گئی ہے۔ ہم نے ثابت کیا کہ ہم ایک امن پسند قوم ضرور ہیں لیکن ہماری اس شرافت کو کمزوری سمجھنا دشمن کی سب سے بڑی بھول ہوگی۔
آج جب ہم اس عظیم کامیابی کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں تو ہمیں ان اسباق کو بھی یاد رکھنا ہوگا جو اس معرکے نے ہمیں سکھائے ہیں۔ اتحاد، تنظیم اور یقین محکم وہ ستون ہیں جن پر ہماری بقا کا دارومدار ہے۔ معرکہ حق نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ جب ہم ایک جان اور ایک قالب ہو کر سوچتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔ یہ فخر صرف مٹھی بھر سپاہیوں کا نہیں بلکہ اس ماں کا بھی ہے جس نے اپنا لخت جگر قربان کیا، اس باپ کا بھی ہے جس نے اپنے بیٹے کی میت پر آنسو بہانے کے بجائے فخر سے سر بلند رکھا اور اس طالب علم کا بھی ہے جس نے قلم کے ذریعے سچائی کا پرچار کیا۔ یہ قومی افتخار کی وہ میراث ہے جسے ہم نے رہتی دنیا تک سنبھال کر رکھنا ہے۔
مستقبل کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے معرکہ حق کی روح کو زندہ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دشمن آج بھی مختلف بھیس بدل کر ہماری صفوں میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ 2025 کے اس معرکے نے پاکستانی قوم کے شعور کو وہ جلا بخشی ہے کہ اب کوئی بھی گمراہ کن پروپیگنڈہ ہمیں اپنی راہ سے نہیں بھٹکا سکتا۔ ہماری کامیابی کا سفر اب رکنے والا نہیں کیونکہ ہم نے حق کا راستہ چنا ہے اور حق کو ہمیشہ غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ فتح ہماری تاریخ کا وہ روشن ستارہ ہے جو ہر تاریک رات میں ہمیں منزل کا پتا دیتا رہے گا اور ہماری غیرت اور خودداری کی علامت بن کر ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ ہر پاکستانی کا دل آج اس فخر سے معمور ہے کہ ہم نے نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت کی بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ حق کی طاقت ہمیشہ باطل کے غرور کو پاش پاش کر دیتی ہے۔










