ملک ریاض کیخلاف گھیرا تنگ:رہائشگاہ اورہزاروں ایکڑ اراضی منجمد

0
10

کراچی (رفعت سعید)قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے بحریہ ٹاؤن کیخلاف جاری تحقیقات میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ملک ریاض اور ان کے خاندان کو شدید دھچکا دیا ہے۔ تازہ ترین کارروائی میں نیب نے بحریہ ہلز میں واقع ملک ریاض کی ذاتی رہائش گاہ “علی ولا” کو منجمد کر دیا ہے۔ یہ عالیشان حویلی ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر 67 ایکڑ اراضی پر تعمیر کی گئی ہے، جس میں ہیلی پیڈ، نجی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز جیسی جدید ترین سہولیات موجود ہیں۔ بیورو نے دو نئی انکوائریوں کے دوران مزید 1338 ایکڑ اراضی بھی منجمد کی ہے، جس کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ زمین حکومت سندھ کی ملکیت تھی مگر اس پر بحریہ ٹاؤن نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا۔ اس اراضی پر بحریہ گرینز اور مختلف پریسنکٹس بشمول 33، 34، 38 تا 40، 42 اور 61 کی تعمیرات ہونی تھیں۔ اس کے علاوہ، نیب کراچی کے ڈائریکٹر جنرل کے احکامات پر بحریہ ٹاؤن 2 کی مکمل 3150 ایکڑ زمین بھی منجمد کر دی گئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق یہ زمین پیراڈائز ریئل اسٹیٹ نامی کمپنی نے مبینہ دھوکہ دہی سے خریدی تھی اور یہ محکمہ جنگلات کی ملکیت تھی۔ نیب نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ان منجمد شدہ زمینوں کے حقوق کسی بھی تیسرے فریق کو منتقل نہ کیے جائیں۔ واضح رہے کہ نیب پہلے ہی احتساب عدالت میں 708 ارب روپے مالیت کا ریفرنس دائر کر چکا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملیر کی 17,672 ایکڑ سرکاری زمین حکومتی اہلکاروں کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن کے قبضے میں دی گئی تھی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here