حج… ایک مشکل مگر بابرکت عبادت!!!

0
12
رعنا کوثر
رعنا کوثر

حج… ایک مشکل
مگر بابرکت عبادت!!!

حج ایک ایسی عظیم عبادت ہے جس کی تکمیل کے لیے غیر معمولی صبر اور استقامت درکار ہوتی ہے۔ ان دنوں عازمینِ حج کے قافلے ارضِ مقدس کی جانب روانہ ہو رہے ہیں جہاں دنیا بھر سے آئے لاکھوں فرزندانِ اسلام اس فریضے کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ حج کو زندگی میں ایک بار فرض کیے جانے کی بنیادی وجہ شاید اس کی مشقت اور وہ کڑی آزمائشیں ہیں جن سے ایک زائر کو گزرنا پڑتا ہے۔ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی عالمی مہنگائی اور سفری اخراجات میں اضافے کے باعث یہ سفر مالی طور پر بھی ایک بڑی ذمہ داری بن چکا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ خواہش کے باوجود اس سعادت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں وہ خوش نصیب افراد جنہیں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف مال و دولت سے نوازا بلکہ اپنے گھر کی زیارت کی توفیق بھی عطا فرمائی ان پر یہ لازم ہے کہ وہ اس نعمت کا بھرپور شکر ادا کریں اور دورانِ سفر کسی بھی قسم کی شکایت یا تذکرے سے گریز کریں۔
حج کے دوران شدید تمازت، ہجوم کے دباؤ اور پیدل مسافت جیسی مشکلات کا سامنا فطری عمل ہے۔ عصری سہولیات اور ایئر کنڈیشنڈ ماحول کے عادی افراد کے لیے مکہ اور مدینہ کے تپتے موسم میں مناسک کی ادائیگی ایک بڑا امتحان ثابت ہوتی ہے۔ بالخصوص مغربی ممالک یا پرآسائش زندگی گزارنے والے لوگ جب اچانک خود کو عام حالات سے مختلف ماحول میں پاتے ہیں تو ان کے لیے صبر کا دامن تھامے رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم ایک سچے زائر کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ان تمام تکالیف کو برداشت کرنا ہی اس عبادت کا جوہر ہے۔ اگر انسان خود کو ذہنی طور پر ان سختیوں کے لیے تیار نہ کرے تو اسے یہ سفر بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے اور وہ جلد از جلد اس سے فارغ ہونے کی فکر میں لگ جاتا ہے جس سے حج کی روحانیت متاثر ہوتی ہے۔
حج کی قبولیت کا دارومدار صرف مناسک کی ادائیگی پر نہیں بلکہ اس عاجزی اور برداشت پر ہے جو ایک حاجی اپنے عمل سے ظاہر کرتا ہے۔ جب انسان اپنے مقصدِ حیات کو پہچان لیتا ہے اور یہ جان لیتا ہے کہ اسے کروڑوں لوگوں میں سے اس مقدس فریضے کے لیے منتخب کیا گیا ہے تو پھر اسے بھوک، پیاس اور تھکن میں بھی ایک خاص لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔ صبر ہی وہ کنجی ہے جو اس مشکل ترین عبادت کو آسان اور پْرسکون بنا دیتی ہے۔ ایک کامیاب اور مقبول حج کا راز یہی ہے کہ انسان اپنی آسائشوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف رضائے الٰہی کی خاطر ہر مشکل کو خندہ پیشانی سے قبول کرے۔ جو حاجی اپنی سوچ اور عمل سے ان آزمائشوں کو عبور کر لیتا ہے وہی درحقیقت اس عظیم روحانی سفر کے ثمرات سمیٹنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here