قارئین کرام ہم اپنا کالم حکیم الامت علامہ اقبال کے شعر ”آئین جوانمرداں حق گوئی وبیباکی،اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی” سے شروع کر رہے ہیں۔ وجہ تسمیہ اس شعر کی معرکۂ حق بنیان المرصوص ہے جس کے حوالے سے مئی کا مہینہ پاکستانی قوم کیلئے جذبے، شجاعت اور فتحیابی کا سمبل بن چکا ہے۔ مئی 2025ء میں بھارتی سورمائو کے فالس فلیگ بزدلانہ اقدام کے جواب میں پاکستانی قوم جس طرح سیسہ پلائی دیوار بنی اور جس طرح بھارتی بزدلوں کو بدترین شکست سے دو چار کرکے دنیا بھر میں ذلیل و رسواء کیا گیا۔ آج وہ پاکستان کی عزت و حرمت کی سنہری مثال بن چکا ہے اور پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سنہرا باب ہے جس کی چکا چوند سے ساری دنیا متاثر نظر آتی ہے۔ معرکہ حق کی کامیابی کے ایک سال کی تکمیل پر پاکستان سمیت اکناف عالم میں موجود پاکستانیوں نے کامیابی اور فتح و نصرت کا جشن نہایت کروفر سے منایا۔ شکاگو میں پاکستان قونصلیٹ اور پاکستانی کمیونٹی کے اشتراک سے فتح و نصرت کا جشن نہایت تزک و احتشام اور جوش و جذبے سے منایا گیا، الحمد اللہ پاکستان نیوز شکاگو نے اس تاریخی جشن میں بحسن و خوبی اور کامیابی اپنا کردار ادا کیا۔ جشن کی کوریج کو نہ صرف قارئین نے پسند کیا، صد شکر کہ ڈپلومیٹک اور سفارتی اکابرین نے بھی خراج تحسین سے نوازا۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بنیان المرصوص کی کامیابی نے پاکستان کو اکناف عالم میں حربی، سفارتی و اسٹریٹجک حوالوں سے نمایاں مقام و احترام سے نوازا ہے جبکہ ہمارا ازلی دشمن قصر مذلت اور تنہائی کے گہرے غار میں دھنس چکا ہے۔ اس امر کا واضح ثبوت ایران و امریکہ کی جنگ میں پاکستان کا ثالثی و مصالحتی کردار ہے جو نہ صرف دونوں فریقین کو قابل قبول ہے بلکہ اسپوائلر بھارت و اسرائیل کے ماسوا تمام اہم ممالک و اداروں کی تحسین و قبولیت کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں لاہور میں منعقدہ اسلامی کانفرنس کے نغمے کا شعر یاد آرہا ہے ”ہم تابہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں، ہم مصطفوی مصطفوی مصطفوی ہیں”۔
درج بالا شعر کے تناظر میں جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہے کہ ایران امریکہ محاذ آرائی کے پس پردہ بھی دین مبین کیخلاف اسرائیل، صہیونی لابیز اور ہندوتوا کے جنونی مہرے کار فرما ہیں۔ ہم اس حوالے سے بہت کچھ اظہار کر چکے ہیں سچائی یہی ہے کہ مسلم دشمنی ان ہرکاروں کا بنیادی مقصد ہے نیتن یاہو اپنے ہدف کے حصول کیلئے ٹرمپ اور امریکی مضبوط صہیونی لابیز کے توسط سے کار فرما ہے تو مودی اکھنڈ بھارت کے منکرانہ ایجنڈے پر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو ختم کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ ان دونوں کو اپنے مقاصد میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ نظر آتا ہے یا دیگر مسلم ممالک میں ایران حائل لگتا ہے باقی مسلم ممالک کو وہ کسی گنتی میں شمار نہیں کرتے البتہ حالیہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اتحاد ضرور ان کی تشویش کا سبب ہے ۔ پاکستان کا موجودہ عسکری، ڈپلومیٹک و اسٹریٹجک کردار بالخصوص امریکہ، چین، روس اور دیگر اہم ممالک سے اہمیت کا معاملہ اس امر سے مزید واضح ہے کہ امریکہ و ایران تنازعے میں پاکستان مضبوط و مربوط حیثیت اختیار کر چکا ہے،ٹرمپ ایک جانب پاکستانی قیادت پر اعتماد کا اظہار کر رہا ہے تو ایرانی صدر پزشکیان پاکستان کو واحد دوست اور ثالث قرار دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان تمام حقائق و حالات کے باوجود کیا مذاکرات اور مفاہمت و امن کا قیام ممکن بھی ہوگا؟ ٹرمپ اس کالم کے قارئین تک پہنچنے کے وقت چین پہنچ چکے ہونگے، خبر آچکی ہے کہ دونوں صدور کے درمیان باہمی امور کے علاوہ ایران امریکہ تنازعہ ایجنڈے کا اہم نکتہ ہوگا، دوسری جانب ٹرمپ نے ایران کی تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ادھر ایرانی صدر نے اپنی عسکری قیادت سے خطاب میں جو تجاویز دی ہیں کیا وہ قابل قبول ہو سکیں گی؟ کیا یہ ایسے نکات ہیں جو امن اور بہتر تعلقات کا ذریعہ بن سکیں اور پاکستان کی ثالثی و مصالحتی کوششوں کو کامیاب بنا سکیں یا پھر یہ اہم موقعہ بھی ضائع جائیگا۔ آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا۔
٭٭٭٭٭٭













