پاک بھارت تعلقات اور تنگ نظری کی انتہا!!!

0
12
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام، سید کاظم رضا نقوی کی جانب سے آپ کی خدمت میں آداب عرض ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور عالمی سطح پر طاقت کے بدلتے ہوئے توازن نے خطے کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں ہر ریاست جنگی جنون کی بھاری قیمت اپنے عوام کے ذریعے ادا کر رہی ہے۔ حال ہی میں بھارت کے ایک مدرسے میں میڈ اِن پاکستان درج پنکھا ملنے پر پولیس کی جانب سے عملے سے پوچھ گچھ کی اطلاعات منظر عام پر آئیں جس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ پنکھا ریاست کے ایک مقامی مدرسے کا تھا جو کئی برس قبل دبئی سے عطیہ کیے گئے سامان کا حصہ بتایا جاتا ہے، تاہم اس پر پاکستانی لیبل کی موجودگی نے معاملے کو طول دے دیا۔ جب یہ پنکھا مرمت کے لیے مقامی مکینک کے پاس پہنچا تو اس نے پاکستانی نشان کی تصویر بنا کر انٹرنیٹ پر شیئر کر دی جس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوا۔
تفتش کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ شمش الدین کا بیٹا ایک طویل عرصے سے سعودی عرب میں مقیم ہے جس نے 2020 میں یہ پنکھا وہاں سے خرید کر کارگو کے ذریعے اپنے گھر روانہ کیا تھا۔ بعد ازاں اس خاندان نے 2023 میں یہ پنکھا مدرسہ قادریہ حقیقت العلوم کو عطیہ کر دیا۔ متعلقہ افراد کی جانب سے خریداری کی رسیدیں اور دستاویزی ثبوت فراہم کیے جانے پر پولیس نے ان کے بیانات کی تصدیق کی اور کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کا ثبوت نہ ملنے پر انہیں رہا کر دیا۔ یہ صورتحال تنگ نظری کی اس انتہا کو ظاہر کرتی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان جڑ پکڑ چکی ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کے متعدد انجینئرنگ پروجیکٹس اور پاور پلانٹس میں بھارت کے بنے ہوئے آلات اور ہنگامی پمپ موجود ہیں جبکہ سعودی عرب جیسے ممالک میں بھی بھارتی ساختہ ایئر کمپریسرز کا استعمال عام ہے۔ لازم ہے کہ یا تو بھارت مذہبی بنیادوں پر مسلم دنیا سے اپنا تمام تر کاروبار اور افرادی قوت کی ترسیل بند کر دے یا پھر پاکستان کے حوالے سے اس قدر نفرت اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرنا چھوڑ دے۔
بدقسمتی سے دونوں ممالک کی مقتدر قوتیں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ بھارتی مداخلت نے کرکٹ جیسے کھیل کو بھی نہیں بخشا جہاں سٹے بازی کے فروغ اور انتظامی غلبے کے ذریعے کھیل کے ڈھانچے کو متاثر کیا گیا ہے تاکہ پاکستان دوبارہ عالمی سطح پر کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ دوسری جانب پاکستان میں بھی نالائق اور مفاد پرست عناصر نے قومی اداروں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج بھارت کا عالمی سطح پر منفی اثر و رسوخ کسی بڑی طاقت سے کم نہیں ہے، چاہے وہ قطر میں جاسوسی کے معاملات ہوں، کینیڈا میں ہونیوالے واقعات ہوں یا مسلم امہ میں خونریزی کا مسئلہ ہو، ہر جگہ بھارتی موجودگی کے نشانات ملتے ہیں۔ پاکستان بھی انتہا پسندی اور اس سے جڑے مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے اور اب وہی شدت پسندی کے ماڈل پڑوس میں ہندو طالبان کی صورت میں ابھر رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ دور میں دشمن سے زیادہ دوست سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی ان دونوں ایٹمی ریاستوں کو اچھے ہمسائے بن کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ اسی میں پوری دنیا کی بقا ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو یہ تلخ حقائق وراثت میں منتقل کرنے ہیں تاکہ وہ تعصب اور انا کی بھینٹ نہ چڑھیں۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کو ان حالات سے آگاہ نہ کیا تو وہ بھی اسی مذہبی جنونیت کا شکار ہو جائیں گے جو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ والدین آج اپنی اولاد کے حوالے سے فکر مند ہیں کیونکہ نئی نسل دجالی فتنوں اور سوشل میڈیا کے زیر اثر ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ عالمی طاقتوں کے زیر اثر مساجد اور منبر و محراب بھی مخصوص نظام کے تابع ہو چکے ہیں جہاں حقیقی اصلاح کے بجائے مصلحت پسندی غالب ہے۔ نئی نسل کا مساجد اور فلاحی اداروں سے دوری اختیار کرنا ایک لمحہ فکریہ ہے جس پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حق بات کہنا اور لکھنا ہمارا قلمی فرض ہے تاکہ اصلاح کی کوئی صورت نکل سکے۔ ان حالات میں جہاں مسائل گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں، ہمیں خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مئی 11 سنہ 2026 کو تحریر کردہ ان مشاہدات سے اختلاف کا حق ہر قاری کو حاصل ہے، مگر مقصد صرف حقائق کی نشاندہی اور بہتری کی دعا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here