فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ!!!

0
9

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ!!!

محترم قارئین! تاریخِ انسانی کا وہ سنہرا باب جب حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو اپنا خواب سنایا تو اس پیکرِ تسلیم و رضا بیٹے نے کمالِ عزیمت کے ساتھ جواب دیا کہ ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزرئیے، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ اس جواب میں نہ تو کوئی شکوہ تھا اور نہ ہی دلائل کی طلب، بلکہ یہ سرِ تسلیم خم کرنے کی وہ اعلیٰ مثال تھی جس نے خلیل اللہ کے دل کو جذبہِ محبت سے لبریز کر دیا۔ اس عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے آپ ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھے اور کائناتِ گیتی پر ایثار کا بے مثال امتحان دینے کے لیے اپنے فرزند کو ہمراہ لے کر منیٰ کی وادی کی طرف روانہ ہوئے۔
اس سفرِ حق کے دوران شیطان نے راہِ راست سے بھٹکانے کے لیے کئی جتن کیے۔ وہ سب سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی والدہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا اور انہیں ممتا کا واسطہ دے کر صورتحال سے آگاہ کیا، لیکن وہ تو اپنا تن من دھن پہلے ہی رضائے الٰہی کے لیے وقف کر چکی تھیں، لہٰذا شیطان ان کے پایہِ استقلال میں لغزش پیدا کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ مایوس ہو کر وہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پاس آیا، مگر آپ نے نورِ نبوت سے اسے پہچان لیا اور منیٰ کے مقام پر اسے کنکریاں مار کر دور کر دیا، جو عمل آج ہر حاجی کے لیے واجب ہے اور قیامت تک رہے گا۔ جب وہاں بھی دال نہ گلی تو وہ حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے پاس پہنچا مگر اس نوعمر صابر نے بھی اسے دھتکار کر تسلیم و رضا کا دامن نہ چھوڑا۔
بالآخر قربان گاہ پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے مروہِ محبت میں چھری نکالی اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی تاکہ پدری شفقت کہیں حکمِ الٰہی کی تعمیل میں حائل نہ ہو جائے۔
غیر کا اب گزر نہیں دل تک
عشق عہدہ ہے پاسبانی کا
جب دونوں باپ بیٹے نے خود کو حکمِ الٰہی کے سپرد کر دیا اور ابراہیم علیہ السّلام نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا تو کائناتِ قدس اس رقت انگیز منظر کو دیکھ کر ورطہِ حیرت میں تھی۔ ذرا تصور کیجیے کہ نوے سال کا بوڑھا باپ اپنے بڑھاپے کے واحد سہارے اور چشم و چراغ کے حلقوم پر چھری پھیرنے کو تیار ہے، جس نے بچپن سے اب تک شفقت کے سائے میں پرورش پائی تھی۔
اے غم دوست تیری عمر دراز
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
ابھی یہ تماشا جاری ہی تھا کہ جبرائیلِ امیں کی جھنکار سے منیٰ کی خاموش وادی گونج اٹھی اور عالمِ بالا سے آواز آئی کہ اے ابراہیم! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ یہ ایک کھلی آزمائش تھی جس میں باپ اور بیٹا دونوں سرخرو ہوئے۔ مشیتِ ایزدی حرکت میں آئی اور حضرت جبرائیل علیہ السّلام نے نہایت تیزی سے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو ہٹا کر ان کی جگہ جنت سے لایا گیا دنبہ رکھ دیا۔ اللہ کے نام پر یہ پہلا خون تھا جس سے منیٰ کی وادی لالہ زار ہوئی۔
آنسوؤں کی کمی نہیں لیکن
کچھ سبب نہ تھا کہ آنکھ تر نہ ہوئی
اس فیروز بخت نبی زادے کے استقلال کا صلہ یہ تھا کہ یہ عمل قیامت تک کے لیے ایک سنت قرار پایا۔ حضورِ اکرم ۖ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السّلام کی سنت ہے۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا کے کونے کونے میں اس واقعے کی یاد اسی طرح تازہ ہے جیسے یہ کل کی بات ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ صفحہِ ہستی پر سرفرازی صرف انہی کے مقدر میں آتی ہے جو ایثار کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں۔ دیگر مذاہب میں قربانی شاید ایک اختیاری عمل ہو، لیکن اسلام میں ہر صاحبِ استطاعت پر یہ فریضہ عائد ہے۔ افسوس کہ آج ہم خود غرضی اور مادہ پرستی میں اس قدر غرق ہو چکے ہیں کہ قومی وقار اور غیرت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ہم اپنی ذاتی آسائشوں اور نام و نمود پر تو دولت لٹاتے ہیں لیکن ملت کی آبرو اور خوشنودیِ حق کے لیے ذرا سی قربانی بھی ہمیں گراں گزرتی ہے۔ یاد رکھیے کہ عیدِ قربان کا اصل مقصد محض جانور ذبح کرنا یا گوشت حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس جذبہِ اخلاص کو بیدار کرنا ہے جو انسانیت کا جوہرِ امتیاز ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی اصل روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here