انسان جب تک خود کسی کرب سے نہ گزرے تب تک دوسروں کے درد کی شدت کو پوری طرح محسوس نہیں کر سکتا۔ آزمائشیں انسان کو اندر سے بدل دیتی ہیں اور اس کے کردار کے پوشیدہ پہلو دنیا کے سامنے لے آتی ہیں۔ معروف کالم نگار اور صاحبِ قلم عتیق صدیقی ہمیشہ دوسروں کے دکھ درد میں شریک رہنے والے انسان ہیں اور وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو لفظوں سے زیادہ اپنے عمل سے رشتوں کی حرمت نبھاتے ہیں مگر زندگی نے ان کے حصے میں ایک ایسا امتحان لکھ دیا جس نے انہیں تنہائی، بے بسی اور صبر کے ایک طویل سفر سے گزارا۔ گزشتہ برس وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ عمرے کی سعادت کے لیے حجازِ مقدس گئے تھے مگر کون جانتا تھا کہ عبادت اور روحانی سکون کا یہ سفر اچانک ایک کڑی آزمائش میں بدل جائے گا۔ وہاں ان کی اہلیہ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور دل کے دورے کے باعث انہیں طویل عرصہ ہسپتال میں رہنا پڑا۔ ایک اجنبی دیار میں بیماری کی فکر، علاج کے اخراجات، بیمہ زندگی کے مسائل اور اوپر سے تنہائی، یہ سب کسی بھی انسان کو توڑ دینے کے لیے کافی تھا مگر عتیق صدیقی نے اس کٹھن مرحلے کو جس صبر اور حوصلے سے گزارا وہ ان کے کردار کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ وہ ماضی قریب میں خود بھی ایک طویل بیماری سے شفایاب ہوئے تھے اس لیے جسمانی کمزوری کے باوجود کبھی ہسپتال اور کبھی ہوٹل میں تنہا رہ کر اپنی شریکِ حیات کی تیمارداری کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ عبادت میں یکسوئی کی خاطر وہ اپنا موبائل بھی ساتھ نہیں لے گئے تھے جس کی وجہ سے احباب سے رابطہ بھی محدود رہا اور شاید ہی کسی کو اندازہ ہو سکا کہ ان دنوں ان پر کیا بیت رہی تھی۔
پانچ دہائیوں پر محیط رفاقت محض ایک ازدواجی تعلق نہیں ہوتی بلکہ زندگی کے ہر دکھ سکھ میں سانجھے سفر کا نام بن جاتی ہے اور ایسے میں جب انسان اپنے جیون ساتھی کو تکلیف میں دیکھتا ہے تو اس کے اندر کا ہر جذبہ بے بس ہو جاتا ہے۔ عتیق صدیقی اپنی اہلیہ کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کی اہلیہ کی خواہش تھی کہ وہ واپس امریکہ آ جائیں تاکہ اپنے بچوں کے درمیان رہ سکیں چنانچہ خصوصی انتظامات کے ذریعے انہیں بنگہمٹن نیویارک کے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں کبھی گھر اور کبھی ہسپتال میں ان کا علاج جاری رہا مگر زندگی اور موت کا فیصلہ انسان کے اختیار میں نہیں۔
انسان تدبیریں کرتا ہے اور تقدیر اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے چنانچہ گزشتہ شب یہ افسوسناک خبر ملی کہ عتیق صدیقی کی اہلیہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔ یہ خبر صرف ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے صدمہ تھی جو اس خاندان سے محبت رکھتے ہیں۔ نمازِ ظہر کے بعد جانسن سٹی نیویارک کے اسلامک سینٹر میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور پھر انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ غم کے ان لمحات میں بھی عتیق صدیقی نے صبر اور رضا کی ایک مثال قائم کی اور تدفین کے دوران انہوں نے جوہر میر کے شعر کا عملی نمونہ پیش کیا جسے بعد میں انہوں نے ہمیں ان کے گھر بیٹھے ہوئے رقت آمیز انداز میں سنایا۔
جب مرا دل مٹی میں بونا
دو آنسو میرے لیے بھی رونا
یہ شعر دراصل انسان کی اسی ابدی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دنیا میں ہر رشتہ، ہر خوشی اور ہر سانس عارضی ہے۔ باقی رہ جاتی ہیں تو صرف یادیں، محبتیں اور وہ کردار جو انسان اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور عتیق صدیقی سمیت تمام اہل خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
















