معرکہ حق تقریبات پر اوورسیز پاکستانیوں کے جذبات اور تحفظات

0
12
کوثر جاوید
کوثر جاوید

وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ میں معرکہ حق کی تقریبات ایک ایسے موڑ پر منعقد ہو رہی ہیں جب ملک کے سیاسی و سماجی ڈھانچے میں شدید ہیجان برپا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، جو ہمیشہ سے ملکی معیشت اور سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان تقریبات کے حوالے سے ایک واضح تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں۔ اس تقسیم کی بنیادی وجہ وہ سیاسی تنازعات ہیں جنہوں نے حالیہ برسوں میں ریاست اور سیاسی جماعتوں کے تعلقات کو ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی ہمدرد ہے اور موجودہ حالات میں جب ان کی قیادت قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہی ہے، ان کے اندر ایک شدید بے چینی اور محرومی کا احساس پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تقریبات میں تحریک انصاف کے کارکنان کی شرکت دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ اسے ایک مخصوص سیاسی بیانیے کی ترویج قرار دے کر سوشل میڈیا پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سیاسی منظرنامے سے ان کی قیادت کی جبری دوری ملک میں حقیقی جمہوریت کی روح کے منافی ہے، لہٰذا وہ ان سرکاری سرگرمیوں سے دوری اختیار کرنے کو ہی اپنی وفاداری کا ثبوت سمجھتے ہیں۔
تاہم، اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کا ایک بڑا طبقہ ان تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود معرکہ حق کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ جب بات ریاست کی بقا، قومی وقار اور ازلی دشمن کی جارحیت کی ہو تو سیاسی وابستگیاں ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سرحدوں پر خطرے کے بادل منڈلائے یا بھارت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کیا، پوری قوم ایک آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔ ان تقریبات کا اصل مقصد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے اس پائیدار موقف کو اجاگر کرنا ہے جس کے تحت ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی لیکن دفاعِ وطن پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ خاص طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ یہاں کی دیگر اقوام کو بھارت کا وہ مکروہ چہرہ دکھا سکیں جو جھوٹے اور من گھڑت واقعات کی آڑ میں خطے کے امن کو داؤ پر لگانا چاہتا ہے۔
معرکہ حق کی ان تقریبات کی اصل روح اس دفاعی کامیابی میں پنہاں ہے جو پاکستان نے بھارت کے حالیہ مہم جوئی کے جواب میں حاصل کی۔ پہلگام میں بھارت کی جانب سے کیے گئے مصنوعی آپریشن کا جس دلیری اور مہارت سے جواب دیا گیا، اس نے دنیا بھر کے عسکری ماہرین کو حیران کر دیا۔ پاکستان کی عسکری قیادت کی دور اندیشی اور فضائیہ کے شاہینوں کی پیشہ ورانہ مہارت کے نتیجے میں دشمن کے آٹھ کے قریب رافیل طیارے جس طرح زمین بوس ہوئے، وہ جدید حربی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ یہ محض ایک فوجی کامیابی نہیں تھی بلکہ اس نے دشمن کے اس تکبر کو خاک میں ملا دیا جو وہ اپنی عددی برتری اور جدید اسلحے کے زعم میں پال رہا تھا۔ سمندر پار پاکستانیوں کا ایک بڑا حصہ اس بات پر متفق ہے کہ ایسی کامیابیوں کا جشن منانا کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا حق ہے کیونکہ یہ دفاعی برتری ہی ہے جو دنیا بھر میں بسنے والے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرتی ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں اور جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہو، لیکن قومی مفاد اور ریاستی وقار کے معاملات کو ان سے جدا رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ سمندر پار مقیم پاکستانیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معرکہ حق جیسی تقریبات کا مقصد کسی خاص سیاسی گروہ کی حمایت نہیں بلکہ اس ریاست کی تکریم ہے جس کی پہچان سے ہم سب وابستہ ہیں۔ بھارت کی جانب سے کی جانے والی عسکری جارحیت اور اس کے جواب میں پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہماری عسکری و سیاسی قیادت ملکی دفاع کے لیے ایک صفحے پر ہے۔ ان تقریبات کے ذریعے عالمی برادری کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ پاکستانی قوم اپنے اندرونی معاملات میں چاہے جتنی بھی منقسم ہو، دشمن کے سامنے وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔ جذبات اور احتجاج اپنی جگہ لیکن ملکی وقار کی سربلندی کے لیے ان تقریبات کی تائید کرنا ہی اصل حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ اگر ہم اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گی اور دشمن ہمیشہ کی طرح رسوائی کا سامنا کرتا رہے گا۔ ان تقریبات کا انعقاد دراصل اسی عہد کی تجدید ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here