کبھی آپ نے شیطان کو دھوکہ دیا ہے؟ یہ کوئی مشکل کام نہیں بلکہ اس کے لیے محض تھوڑی سی ہوشیاری، مستعدی اور نیت میں خلوص درکار ہے۔ یہ دراصل ایک ایسی دلچسپ جدوجہد ہے جس میں شکست شیطان کا مقدر بنتی ہے اور جیت اللہ کی رضا کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ اس فلسفے کی بنیاد یہ ہے کہ نیکی کو کبھی طویل سوچ بچار کی نذر نہ کیا جائے بلکہ اسے فوری طور پر سرانجام دے دیا جائے تاکہ شیطان کو وسوسہ اندازی کا موقع ہی نہ مل سکے۔ اس عمل کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ جب انسان ضروریات سے فارغ ہو کر ہاتھ دھو رہا ہو تو وہ اچانک وضو شروع کر دے اور شیطان کو یہ کہنے کی مہلت نہ دے کہ یہ کام بعد میں بھی ہو سکتا ہے یا اس وقت اس کی ضرورت نہیں۔ اس طرح بلا سوچے سمجھے نیکی کی جانب بڑھنے سے گناہ جھڑتے چلے جاتے ہیں اور شیطان اپنی ناکامی پر ساکت رہ جاتا ہے۔ اسی طرح گھر والوں کو اچانک مسکرا کر دیکھنا یا کسی کو بلا وجہ دعا دے دینا بھی صدقہ ہے جو انسانی رشتوں میں خوشگواری لاتا ہے۔
گھر میں معمول کے کاموں کے دوران اچانک جائے نماز پر کھڑے ہو کر محض اللہ کی خوشنودی کے لیے دو نفل ادا کرنا ایک بہترین عمل ہے جس کے لیے کسی لمبی تمہید کی ضرورت نہیں۔ موبائل فون کے استعمال کے دوران اچانک قرآنی ایپلی کیشن کھول کر چند آیات کی تلاوت کرنا یا تسبیح پڑھنا شیطان کے ان حربوں کو ناکام بنا دیتا ہے جو نیکی کو فارغ وقت پر ٹالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جب بھی صدقے کا خیال آئے تو تاخیر کا دروازہ بند کر کے موجودہ مال میں سے فوراً کچھ نکال دینا ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر دل میں کسی کے لیے حسد پیدا ہونے لگے تو فوراً اس شخص کے لیے بہترین دعا مانگ لینی چاہیے کیونکہ یہ عمل دل کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا ایک خاموش ذریعہ بھی ہے۔ اذان کی آواز سن کر نماز کو ٹالنے کے بجائے فوراً لبیک کہنا اور اللہ کے حضور حاضر ہو جانا بندگی کا اعلیٰ درجہ ہے۔
انسانی زندگی میں اچانک الحمدللہ کہنا شکر گزاری کی علامت اور شیطان کی بڑی شکست ہے۔ کام کاج کے دوران خاموشی سے کلمہ طیبہ یا سورہ اخلاص کا ورد کرنا ایمان کو تازگی بخشتا ہے اور توحید کا ایسا اعلان ہے جو شیطان کو سخت ناپسند ہے۔ کھانے کے دوران ایک پلیٹ کسی دوسرے کے لیے مخصوص کرنا ایثار کا مظہر ہے اور اگر کوئی دل دکھائے تو اسے اللہ کی رضا کے لیے فوراً معاف کر دینا نفس پر بھاری مگر اللہ کے ہاں انتہائی وزنی عمل ہے۔ دنیاوی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر والدین کے پاس بیٹھنا، ان کے ہاتھ تھامنا اور انہیں گلے لگانا جنت کے دروازے کھولنے کے مترادف ہے۔ سب سے خوبصورت لمحہ وہ ہے جب انسان کام کے دوران اچانک اللہ سے اپنی محبت کا اظہار کرے اور نفس و شیطان کے شر سے پناہ مانگے۔ آیات اور احادیث کے مفہوم کو یاد کر کے محفلوں میں اللہ اور اس کے رسول کا ذکر کرنا انسان کو آسمانوں پر معتبر بنا دیتا ہے۔ یہ اچانک والی نیکیاں شیطان کو اس لیے پریشان کرتی ہیں کیونکہ اسے وسوسہ ڈالنے یا نیکی میں تاخیر کروانے کی مہلت ہی نہیں ملتی۔ یہ طریقہ کار انسان کو اللہ کے قریب اور شیطان سے دور لے جاتا ہے اور نفس کے چنگل سے آزادی دلاتا ہے۔

















