کس قوم کے دل میں نہیں جذبات براہیم !!!

0
12

الہامی مذاہب کی تعلیمات کے مطابق صرف ظاہری رسوم ادا کرنے سے فرائض کی تکمیل ممکن نہیں جب تک ایمانی جذبات کو پوری طرح ملحوظِ خاطر نہ رکھا جائے۔ نماز کی رکعتیں صرف اسی صورت میں انسان کو برائی اور بے حیائی سے بچا سکتی ہیں جب انہیں خشوع و خضوع سے ادا کیا جائے۔ اسی طرح روزہ رکھنا محض پیاس اور بھوک کا نام بن کر رہ جائے گا اگر اس کی ادائیگی کے دوران ایمان، احتساب اور تقویٰ کی راہ سے انحراف کیا جائے۔ حج کی عبادت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایمان و تقویٰ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مناسکِ حج کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے۔ سفرِ حج پر نہ جانیوالے مسلمانوں کے لیے بھی ذوالحجہ کے ابتدائی دس ایام غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ مجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔ امام ابنِ کثیر نے صحیح بخاری کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔
حج کی پوری عبادت درحقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسلامی تاریخ میں انتہائی بلند مقام کو اجاگر کرتی ہے جنہیں ابوالانبیاء اور امت جیسے القابات سے نوازا گیا۔ بیشک حضرت ابراہیم علیہ السلام توحید، اللہ پر کامل بھروسے اور غیر متزلزل فرمانبرداری کا وہ اعلیٰ ترین نمونہ ہیں جن کی عظیم قربانیوں کی یاد میں حج اور عیدالاضحیٰ منائی جاتی ہے۔ دو سال قبل جب مجھے سفرِ حج کی سعادت نصیب ہوئی تو اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ دیگر عبادات کی طرح حج کی ظاہری رسوم بھی ہمیں ایک عظیم مقصد کے لیے تیار کرتی ہیں۔ طوافِ کعبہ، صفا و مروہ کی سعی، منیٰ میں قیام، وقوفِ عرفہ، مزدلفہ کی کھلے آسمان تلے رات، رمی جمار اور پھر قربانی کا اہتمام، یہ تمام مناسک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جدوجہد کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم ان کی ادائیگی کے دوران قلب میں ایمان اور تقویٰ کا جوہر ہونا لازمی ہے۔ یہ مشہورِ زمانہ شعر اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ!
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی
رواں سال حج کے اس موسم میں امتِ مسلمہ کے قلب یعنی مشرقِ وسطیٰ میں بڑے بڑے سانحے وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ قبلۂ اول پر صیہونی غصب ہو یا خلیجی ممالک کی ناکہ بندی، مسلم اکثریت کے لیے یہ ایک کٹھن آزمائش ہے۔ وہ حکمران جو غزہ کے عوام پر ہونیوالے مظالم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے، اب ظلم و جبر کے عفریت کو اپنے بہت قریب پا کر خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ محض چند مہینوں میں حالات نے ایسی کروٹ لی ہے کہ ان کے نام نہاد محافظ پسپائی اختیار کر رہے ہیں اور ریاستوں کی سلامتی خطرات سے دوچار ہے۔ جن قدرتی وسائل پر انہیں فخر تھا وہ غبارِ راہ بن کر ضائع ہو رہے ہیں اور ماضی کے تمام تر اندازے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ مرتضیٰ برلاس کے مطابق
کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جدوجہد اور قربانیوں کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ ان کی سنت پر عمل پیرا ہونے والوں کو کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ علامہ اقبال نے ان کی پوری زندگی کی جدوجہد کو ایک شعر میں یوں سمو دیا ہے کہ
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
اس ابراہیمی کیفیت کے حصول کے لیے ایمان و تقویٰ کی آبیاری ناگزیر ہے۔ اگر ہماری عبادات محض روایتی رسوم تک محدود ہو گئیں تو طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ قتیل شفائی کے بقول
کس قوم کے دل میں نہیں جذبات براہیم
کس ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
موجودہ حالات میں ہماری دعا ہے کہ ذوالحجہ کے آغاز سے قبل عالمی نظام کسی بہتر سمت کی جانب گامزن ہو جائے۔ ظلم و جبر کی سیاہ رات کا خاتمہ ہو اور ہر سو امن و آشتی کا راج قائم ہو۔ فلسطین، لبنان، ایران اور دیگر خطوں کے معصوم بچوں اور بے گناہ عوام کی قربانیاں یقیناً رائیگاں نہیں جائیں گی اور ہمیں اپنی اس دعا کی قبولیت کی پوری امید ہے۔ آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here